عمران خان کی تنقید پر ماڈل ایان علی میدان میں آگئیں

image
ماڈل ایان علی نے تحریک انصاف کے جلسوں میں ان کے تذکروں پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تحریک انصاف کے جلسوں میں ماڈل ایان علی اور ان سے جڑے کیس کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز جلسے میں عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ماڈل ایان علی کے کیس میں انہوں نے کسٹم کے تحقیقاتی افسر کو بھی مروادیا۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے مسلسل تذکرے کے بعد ماڈل ایان علی بھی میدان میں آگئی ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

اپنی ایک ٹوئیٹ میں ایان علی نے کہا کہ جھوٹ 7 سال بولا جائے یا 700 سال، ایک دن اپنی موت مرتا ہے، آپ نے ایک 20 سالہ لڑکی پر بہتان باندھ کر اپنی رقیق سیاست کی، میں نے آپ کو توجہ یا جواب کے قابل نہ سمجھا، مگر آپ اپنی حرکتیں بدلنے کو تیار نہیں تو آپ کو جواب دوں گی تاکہ کسی اور عورت پر بہتان باندھنے سے پہلے 100 مرتبہ سوچیں۔

اپنی ایک اور ٹوئٹ میں ایان علی نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دو عادات شاید آپ مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتے پہلی میرے نام پر ٹی آر پی کمانا کیونکہ خود کمانا و کھانا آپ کی فطرت نہیں، اور دوسری جھوٹ بولنا کیونکہ سچ بولنا آپ نے سیکھا نہیں۔

ایان علی نے کہا کہ عمران خان 4 سال وزیر اعظم رہے، پھر بھی مجھ پر جھوٹا الزام لیے بغیر آپ کی تقریر اور خبر نہیں بنتی، جیسے پہلے نہیں بنتی تھی۔

ایان علی کا معاملہ کیا ہے؟

14 مارچ 2015 کو ایان علی کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے کروڑوں روپے مالیت کے امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسی دبئی اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایان علی کی گرفتاری کے 2 ماہ بعد ان کے کیس میں سرکاری گواہ کی حیثیت سے شامل کسٹم انسپکٹر اعجاز چوہدری کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا تھا۔ ایان علی سمیت کئی افراد کو اس کیس میں نامزد کیا گیا تھا۔

سپر ماڈل کا مقدمہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سردار عبدالطیف کھوسہ نے لڑا تھا۔

ایان علی کئی ماہ جیل میں رہیں بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا، بعد ازاں وہ بیرون ملک چلی گئیں۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.