’اگر آپ آئی سی سی سے زیادہ جانتے ہیں تو ۔۔۔۔‘ شعیب اختر کا سہواگ کو جواب

image
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے انڈیا کے سابق کرکٹر وریندر سہواگ کی جانب سے ان کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ آئی سی سی سے زیادہ جانتے ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وریندر سہواگ نے چند روز قبل پروگرام ’ہوم آف ہیروز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ’شعیب اختر چَکنگ کرتے تھے۔‘

یہ اصطلاح اس بولنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کو رولز کے مطابق درست نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ بولر سیدھے بازو کے ساتھ بال پھینکتا ہے جبکہ رولز کے مطابق کندھے کے اوپر سے گھما کر پھینکنا ضروری ہوتا ہے۔

سہواگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شعیب اختر کو پتا تھا کہ وہ درست بولنگ نہیں کر رہے، ورنہ آئی سی سی کو ان پر پابندی لگانے کی ضرورت کیا تھی؟

شعیب اختر نے وریندر سہواگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آئی سی سی سے زیادہ جانتے ہیں، تو وہ ان سے اتفاق کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے انڈین کرکٹر سے کہا کہ وہ بیان دیتے ہوئے تھوڑا محتاط رہا کریں۔

شعیب اختر نے ویب سائٹ سپورٹس کیڈا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کرکٹرز کو سوشل میڈیا کے اس دور میں بیان دینے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہم آہنگی کو متاثر کرے۔‘

ان کے مطابق ’میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔‘

وریندر سہواگ نے چند روز قبل کہا تھا کہ شعیب اختر کا بولنگ ایکشن رولز کے مطابق نہیں تھا (فوٹو: روئٹرز)

شعیب اختر کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ایسا سہواگ نے ازراہ تفنن کہا ہے یا پھر سنجیدگی سے، تاہم انہوں نے جو بھی کہا ہے، مجھے قطعاً برا نہیں لگا، ان کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔

سابق پیسر نے یہ بھی کہا کہ ’میں اس وقت جس سٹیج اور ایج میں ہوں، میں کسی بھی ایسے کھلاڑی کے بارے میں ایسا تبصرہ نہیں کروں گا جس نے قومی لیول پر کھیلا ہو اور اس کی ساکھ متاثر ہو۔‘

وریندر سہواگ نے اپنے کیریئر میں پاکستان کے خلاف نو ٹیسٹ میچ کھیلے اور ایک ہزار 206 چھ رنز بنائے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف ایک ٹرپل سینچری، دو ڈبل سینچریز اور ایک سینچری بھی بنائی۔

دوسری جانب شعیب اختر نے پاکستان کے لیے 46 ٹیسٹ میچ اور 63 ایک روزہ اور 15 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے اس دوران انہوں نے 444 حاصل کیں۔

خیال رہے 1999 اور 2001 میں آسٹریلیا کی جانب سے شعیب اختر کے بولنگ ایکشن پر اعتراض کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے ایکشن کا بین الاقوامی سطح پر جائزہ لیا گیا اور درست قرار دیا گیا تھا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.