الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی موت ممکنہ طور پر اسرائیلی فائرنگ سے ’غیر ارادی‘ طور پر ہوئی: امریکہ

نیوز چینل الجزیرہ کی رپورٹر شیریں ابو عاقلہ کے خاندان نے امریکی محکمہ خارجہ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں یہ اخذ کیا گیا ہے کہ صحافی کی موت ممکنہ طور پر اسرائیلی فوجی سے ’غیر ارادی‘ طور پر ہوئی ہے۔

صحافی شیریں ابو عاقلہ کے بھائی نے امریکی محکمۂ خارجہ کی اس رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ شیریں کی ہلاکت اسرائیل کی ’غیر ارادی‘ فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

ٹونی ابو عاقلہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اصرار کیا کہ ان کی بہن کو اسرائیلی فوج نے ہدف بنایا اور امریکی رپورٹ کے نتائج ان کے لیے ’ناقابل قبول‘ ہیں۔

نیوز چینل الجزیرہ کی رپورٹر شیریں ابو عاقلہ 11 مئی کوغربِ اردن میں سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی تھیں۔

امریکہ نے کہا ہے کہ گولی اتنی خراب ہو چکی ہے کہ اس سے یہ پتہ چلانا ممکن نہیں رہا کہ اسے کہاں سے فائر کیا گیا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی کے اعلی عہدے دار نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ اسرائیل کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نے صحافی شیریں ابو عاقلہ کی ہلاکت کو ’المناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فوج کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی فوج کا شیریں ابو عاقلہ کو نقصان پہچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

51 سالہ شیریں ابو عاقلہ مشرق وسطیٰ کی سب سے تجربہ کار اور مقبول نامہ نگاروں میں سے ایک تھیں۔

شیریں ابو عاقلہ کو 11 مئی کو غرب اردن کے شہر جنین کی ایک سڑک پر گولی لگی جہاں اسرائیلی فوج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔

شیریں ابو عاقلہ کو جب گولی لگی تو انھوں نے سر پر ہیلمٹ اور حفاظتی جیکٹ پہن رکھی تھی جس پر جلی حروف میں پریس لکھا ہوا تھا۔

ایک اور فلسطینی صحافی علی سمودی بھی اس فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے تھے۔ مسٹر سمودی اور ان کے ساتھ دیگر خواتین نے بتایا کہ گولیاں سڑک پر تعینات اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے آئیں۔

میڈیا کی کئی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بظاہر اسرائیلی فورسز نے وہ مہلک گولی چلائی تھی۔

پیر کے روز، امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ آزاد تحقیق کاروں نے گولی کا فرانزک تجزیہ کیا تھا جسے فلسطینی اتھارٹی نے اختتامِ ہفتہ امریکی سکیورٹی کوآرڈینیٹر (یو ایس ایس سی) کے حوالے کیا تھا۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ گولی اتنی زیادہ خراب ہو چکی ہے کہ اس کے جائزے سے یہ تعین کرنا ناممکن ہو چکا ہے کہ اسے کہاں سے فائر کیا گیا تھا۔

تاہم، دونوں اطراف سے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد امریکی سکیورٹی کوآرڈینیٹر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ شیریں ابو عاقلہ ممکنہ طور پر اسرائیل ڈیفنس فورسز کی پوزیشنوں سے چلنے والی گولی سے ہلاک ہوئی ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ کے پاس یہ یقین کرنے کوئی وجہ نہیں ہے کہ صحافی شیریں ابو عاقلہ کو جان بوجھ کر مارا گیا ہے۔

بی بی سی کے نیوز آور پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹونی ابو عاقلہ نے کہا: ’ہمیں یقین نہیں آ رہا کہامریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے اس طرح کا بیان سامنے آئے گا۔ یہ ناقابل قبول ہے۔‘

شیریں ابو عاقلہ کے بھائی ٹونی ابو عاقلہ نے کہا ’یہ واضح ہے کہ 16 گولیاں چلائی گئیں، تمام کی تمام سر کے لیول پر 13 میٹر یا 4.3 فٹ کی بلندی پر ۔ صرف دو جرنلسٹوں کو گولیاں لگیں۔بدقسمی سے شیریں اس سے نہ بچ سکیں، اور علی سمودی زخمی ہو گیا۔۔۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ وہ کیسے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ سب کچھ غیر ارادی تھا۔‘

ٹونی عاقلہ نے کہا کہ اگر امریکی حکامذمہ داروں کا تعین نہیں کریں گے تو ان کا خاندان ذمہ داروں سے حساب لینے کی کوشش کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے ایک شہری کے لیے انصاف کے حصول کو ممکن نہیں بنا سکتا ہے، تو یہ بہت برا ہے۔ ہم اس مقدمے کی پیروی کریں گے۔

شیریں ابو عاقلہ فلسطینی اور امریکی شہری تھیں۔

یہ بھی پڑھیئے

اسرائیلی فوج نے ’جان بوجھ کر‘ صحافی شیریں ابو عاقلہ کو نشانہ بنایا: فلسطینی حکام

اسرائیلی پولیس کا شیریں ابو عاقلہ کے جنازے پر دھاوا، سوگواروں پر تشدد

فلسطینی اتھارٹی کے سینئر اہلکار حسین ال شیخ نے کہا وہ سچائی کو چھپانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اسرائیل پر انگلی اٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے کو ممکنہ جنگی جرم کے طور پر عالمی عدالتوں کے سامنے لے کر جائیں گے۔

اسرائیل کے قائم مقام وزیر اعظم یائر لیپڈ نے نے کہا اسرائیلی ڈیفنس فورسز جہاں بھی اور جب بھی ضروری ہوا دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز اس بات کا تعین نہیں کر سکی ہیں کہ اس ’المناک‘ موت کا ذمہ دار کون ہے لیکن وہ حتمی طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس کا ارتکاب ارادی طور نہیں کیا گیا ہے۔ اور اسرائیل کو صحافی کی موت پر دکھ ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.