’شہروز کاشف ممکنہ طور پر کیمپ تھری پر بخیریت ہیں، خراب موسم کے باعث ریسکیو آپریشن کامیاب نہ ہو سکا‘

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے نانگا پربت پر پھنسے نوجوان پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب شہروز کے والد کاشف سلمان نے اپنے بیٹے کو نانگا پربت سے ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی ہے۔

منگل کے روز دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنے والے 20 سالہ پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ فضل احمد بیس کیمپ تھری پر موجود ہیں جن کو ریسکیو کرنے کے لیے شروع کیا جانے والا آپریشن بدھ کے روز خراب موسم کے باعث کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شہروز اور ان کے گائیڈ کیمپ تھری پر موجود ہیں اور ان کے پاس مناسب مقدار میں ضروری سامان موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی کوہ پیما کو کیمپ تھری سے ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر نے بدھ کے روز دن دو بجے پرواز بھری تھی تاہم خراب موسم کے باعث ان تک نہیں پہنچا جا سکا۔

فیاض احمد کا مزید کہنا تھا کہ ہیلی کے علاوہ گراؤنڈ ریسکیورز نے صبح ساڑھے دس بجے اُن تک پہنچنے کی کوشش کی تھی تاہم خراب موسم کے باعث وہ صرف کیمپ ون تک ہی پہنچ پائے تھے۔

ریسکیو آپریشن کرنے والے ہیلی میں ایک نیپالی شرپا بھی شامل ہے۔ بیس کیمپ میں موجود ریسکیو ٹیم، پولیس اور کوہ پیماؤں کے مطابق دونوں کوہ پیما محفوظاور خیریت سے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر دیامر کے مطابق ہائی الٹیٹیوٹ پولیس, ریسکیو ٹیم ان کوہ پیماؤں اور ٹور کمپنی کیساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔

دوسری جانب شہروز کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’امید ہے کہ وہ (شہروز اور فضل) کیمپ تھری میں آرام کر رہے ہوں گے اور صبح اپنی واپسی کا سفر شروع کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شہروز کو شاید ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کا علم نہیں ہو گا ورنہ وہ نیچے آ جاتے اور کیمپ ٹو سے انھیں ریسکیو کر لیا جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی اطلاع کی مطابق شہروز اور ان کے ساتھیوں کے صحت بالکل ٹھیک ہے۔

واپسی کے سفر پر مشکلات

شہروز کاشف نے منگل کی صبح ہی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی لیکن اس کے بعد ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے تھے۔

ان تمام واقعات نے خدشات کو جنم دیا تھا لیکن بدھ کی صبح کمشنر دیامیر دلدار احمد ملک نے آگاہ کیا تھا کہ شہروز کاشف اور اُن کے گائیڈ فضل احمد کو دوربین کے ذریعے کیمپ تھری کی جانب سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا اور کچھ دیر بعد شہروز کیمپ تھری تک پہنچ چکے تھے۔

یاد رہے کہ نانگا برپت کے کیمپ فور سے کیمپ تھری تک کا سفر تین سے چار گھنٹے تک کا ہے۔

اب تک یہ واضح نہیں کہ شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی طبعیت کیسی ہے اور شہروز کاشف کے والد نے سوال اٹھایا ہے کہ دوربین سے ان کی حالت کے بارے میں اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ’شہروز اور ان کے ساتھی کو کیمپ تھری سے بذریعہ ہیلی نیچے لایا جائے کیونکہ انھوں نے ایک پوری رات کھلے آسمان تلے گزاری ہے۔‘ شہروز کے والد کو خدشہ ہے کہ کہیں انھیں فراسٹ بائیٹ نہ ہو چکی ہو۔

کمشنر دیامیر دلدار احمد ملک نے بتایا کہ ’کیمپ تھری پہنچنے پر ان سے رابطہ ہو گا اور پھر آگے کا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ عسکری ایوی ایشن سے رابطے میں ہیں اور موسم بھی صاف ہے لہذا اگر کیمپ تھری سے ہیلی ریسکیو کرنا پڑا تو ہماری جانب سے تیاری مکمل ہے۔‘

شہروز کاشف سے آخری بار رابطہ کب ہوا؟

کاشف سلمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ شہروز نانگا پربت کے سمٹ سے واپسی کے راستے میں 7350 میٹر کی بلندی پر تھا جب اس سے گذشتہ شام 7:30 پر آخری بار رابطہ ہوا اور اس کے بعد سے رابطہ منقطع ہے۔

شہروز کے والد کاشف سلمان نے اپنے بیٹے کو نانگا پربت سے ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل بھی کی تھی جب کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے شہروز کاشف اور ان کے گائیڈ کی بحفاظت واپسی کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

کاشف سلمان نے آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ابھی کچھ دن قبل شہروز نے کنچن جنگا (8586 میٹر، دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی) سر کرنے کے بعد یہ کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔ اس کی عمر صرف 20 سال ہے، وہ اتنے بڑے بڑے کارنامے سر چکا ہے، پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔‘

اس سے قبل منگل کی رات شہروز کے والد کاشف سلمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُن کا اپنے بیٹے سے آخری رابطہ منگل کی شام سات بجے ٹیکسٹ میسج پر ہوا تھا۔

الپائن کلب آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری کرار حیدری کے مطابق شہروز کاشف سے منگل کی صبح سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا اور رابطہ مہم کی کامیابی کے بعد واپسی کے راستے پر ختم ہوا تھا۔

نانگا پربت کو سر کرنے کے بعد شہروز کاشف تقریبا سات ہزار میٹر کی بلندی پر تھے۔ ان بیس کیمپ پر استقبال کی تیاریاں ہو رہی تھیں مگر ان سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا۔ 20 سالہ شہروز کاشف نے منگل کی صبح تقریباً 8:45 پر پاکستان میں واقع دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت(8126 میٹر) سر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہروز کاشف: پاکستان کے سب سے کم عمر کوہ پیما نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی بھی سر کر لی

19 سالہ شہروز کاشف کے ٹو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے

وہ بچہ جسے ’بہت چھوٹا‘ کہہ کر کوہ پیما ساتھ نہ لے جاتے اس نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لی

’بیٹا بار بار پوچھتا تھا، بابا برفانی تودوں کا خطرہ تو نہیں ہے نا؟‘

کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز جنھیں زیادہ تر لوگ ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جاتے ہیں، 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔

رواں برس مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے۔

وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔

اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔

نانگا پربت یا قاتل پہاڑ

نانگا پربت
Getty Images

نانگا پربت یا ننگی پہاڑی کو علاقائی زبان میں 'دیامیر' بھی پکارا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے 'پہاڑوں کا بادشاہ'۔ یہ چوٹی پاکستان میں گلگت بلتستان کےعلاقے میں سطح سمندر سے 8126 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

نانگا پربت کو'کلر ماؤنٹین' یا 'قاتل پہاڑ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ اس پر شرح اموات دنیا میں موجود 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں سب سےزیادہ یعنی 23 فیصد ہے۔

عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گذشتہ 11 برس سے کوہ پیمائی کے لیے پاکستان آنے والی مہمات پر تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دنیامیں 8000 میٹر سے بلند جتنی بھی 14 چوٹیاں ہیں ان پر سب سے پہلے سمٹ کی کوششیں 1895 میں نانگا پربت سے ہی شروع ہوئی تھیں۔

سنہ 1895 سے 1953 تک، پہلی سمٹ سے پہلے جتنے بھی کوہ پیمانانگا پربت کو سر کرنے جاتے (8-10 ایکسپیڈیشن)سب کے سب مر جاتے۔

سنہ 1953 تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ یہ 'کلر ماؤنٹین' ہے جو اسے سر کرنے جاتا ہے، مر جاتا ہے۔

پہلے سمٹ سے قبل تک کم از کم 31 کوہ پیما اس کا سمٹ کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہو گئے تھے، پھر 1953 میں ڈرامائی طور پر پہلا سمٹ ہوا اور وہ بھی آکسیجن کے بغیر۔

آسٹریا کے مشہور کوہ پیما ہرمن بوہل نے تن تنہا اور آکسیجن کے بغیر 1953 میں اس قاتل پہاڑ کو سر کر لیا تھا۔

عمران حیدر کے مطابق یہ کسی بھی آٹھ ہزاری پہاڑ کو اکیلے سر کرنے کی سب سے پہلی اور شاید آج تک کی واحد مثال ہے۔ گو کہ سوئس الپائنسٹ Ueli Steck نے بھی انّاپورنا ساؤتھ کو 2013 میں اکیلے سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن یہ دعویٰ کچھ لوگوں کے نزدیک متنازعہ ہے۔

اب تک نانگا پربت پر سمٹ کرنے والے کوہ پیماؤں کی کل تعداد 376 ہے جبکہ 91 اسے سر کرنے کی کوششوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یعنی ہر چار میں سے ایک کوہ پیما اسے سر کرنے کی کوشش میں جان کی بازی ہارا ہے۔

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ رواں سال 2022 میں کے ٹو, براڈ پِیک اور نانگا پربت پر کوہ پیمائی کے لیے ریکارڈ تعداد میں کوہ پیما پاکستان آئے ہیں۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.