bbc-new

ملک میں جاری فسادات کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے: ایرانی رہبرِ اعلیٰ

ایران کے رہبرِ اعلٰی نے پولیس کی حراست میں ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد ملک میں ہونے والے مظاہروں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ یہ ان کی جانب سے اس بارے میں سامنے آنے والا پہلا بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'فسادات' کو ایران کے دیرینہ دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے 'انجینیئر' کیا گیا ہے۔
مظاہرے
Getty Images

ایران کے رہبرِ اعلٰی نے پولیس کی حراست میں ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد ملک میں ہونے والے مظاہروں کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔

یہ ان کی جانب سے اس بارے میں سامنے آنے والا پہلا بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ 'فسادات' کو ایران کے دیرینہ دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے 'انجینیئر' کیا گیا ہے۔

یہ مظاہرے ان کے ایک دہائی پر محیط اقتدار کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور انھوں نے سکیورٹی فورسز سے مزید کشیدگی کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے ان مظاہروں کے جواب میں پرتشدد ردِ عمل نے 'انتہائی پریشان' کر دیا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے بھی اس امر کو دہرایا گیا ہے اور ایران کے سب سے سینیئر سفارت کار کو پیر کو لندن میں بلا کر کہا گیا ہے وہ تہران میں اپنے رہنماؤں تک یہ بات پہنچائیں کہ 'مظاہروں کا ذمہ دار کسی بیرونی ہاتھ کو ٹھہرانے کی بجائے انھیں اپنے کیے کی ذمہ داری لینی ہو گی اور اپنے عوام کے خدشات پر غور کرنا ہو گا۔'

خیال رہے کہ 22 سالہ مہسا امینی 13 ستمبر کو اخلاقی پولیس کی جانب سے تہران میں حراست میں لیے جانے کے کچھ گھنٹے بعد کوما میں چلی گئی تھیں۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے حجاب یا سکارف سے سر کے بال ڈھانپنے کے سخت قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ تین دن بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

اس کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ افسران نے اس کے سر پر لاٹھیاں ماریں اور اس کا سر ان کی ایک گاڑی سے ٹکرایا۔ پولیس نے کہا ہے کہ کسی بھی بدسلوکی کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور’اچانک دل کا دورہ پڑنے‘ سے ان کی موت ہو گئی۔

ایران میں ملک گیر مظاہرے17 ستمبر کو ان کے جنازے کے موقع پر شروع ہوئے اور برسوں سے ملک میں عوامی بے چینی بدترین بدامنی کی شکل میں سامنے آ گئی۔

پیر کو پولیس اور افواج کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہبرِ اعلٰی کا کہنا تھا کہ مہسا امینی کی موت سے 'ہمارے دل ٹوٹ گئے۔'

'تاہم جو معمول کی بات نہیں ہے وہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کسی ثبوت یا تحقیق کے بغیر ہماری سڑکوں کو خطرناک بنا دیا ہے، قرآن کو جلایا ہے، پردہ دار خواتین کے سروں سے حجاب اتارے ہیں اور مساجد اور گاڑیوں کو آگ لگائی ہے۔' انھوں نے یہ بیان دیتے ہوئے کسی مخصوص واقعے کا تذکرہ نہیں کیا۔

آیت اللہ کا تمام ریاستی امور پر فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیرملکی قوتوں نے ان 'فسادات' کی پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی کیونکہ وہ ایران کو 'تمام شعبوں میں مضبوط' ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔'

مظاہرے
Getty Images

انھوں نے کہا کہ 'میں بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ فسادات اور بدامنی امریکہ اور قابض، جھوٹی صیہونی قوت (اسرائیل)، اس کے ایجنٹس جنھیں وہ فنڈ کرتا ہے اور بیرونِ ملک مقیم غدار ایرانیوں کی مدد سے بھی۔'

انھوں نے سکیورٹی فورسز کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ انھیں اس بدامنی کے دوران 'ناانصافیوں' کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اس سے قبل تہران کی ایک معروف یونیورسٹی میں رات گئے ایرانی سکیورٹی فورسز اور طالب علموں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں طلبا کی ایک بڑی تعداد ایک کار پارکنگ میں پھنس گئی تھی جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے گھیر لیا تھا۔

ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گولیاں چلنے کی آوازیں سن کر طالب علم بھاگ رہے ہیں۔

حکومت مخالف مظاہرے تین ہفتے قبل پولیس کی جانب سے حراست میں لی گئی ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

اتوار کو شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے والے فرسٹ ایئر کے طالب علموں کے لیے یونیورسٹی میں داخلے کا پہلا دن تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایران میں مظاہرے اور مزید گرفتاریاں: ’اسلامی کونسل کی ویب سائٹ ہیک‘

ایران نئے امریکی صدر جو بائیڈن سے کیا چاہتا ہے؟

’انھوں نے مجھے اسرائیلی جاسوس کہا اور دھمکایا کہ اگر ہم چُپ نہ ہوئے تو وہ ہمارا ریپ کر دیں گے‘

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی سہ پہر کیمپس میں تقریباً 200 طلبہ جمع ہوئے اور انہوں نے 'عورت، زندگی، آزادی' اور 'طالب علم ذلت کے بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں' جیسے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ جیسا کہ مظاہرہ جاری رہا، نعرے زیادہ تلخ ہو گئے اور مذہب پسند اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لگائے جانے لگے.

یہ جھڑپیں دوپہر کے آخر میں اس وقت شروع ہوئیں جب سیکیورٹی فورسز کیمپس میں پہنچیں۔ مہر نے اطلاع دی کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس اور پینٹ کے گولے داغے ، جس کی وجہ سے کچھ طلباء یونیورسٹی کے ایک کار پارک میں محصور ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ایک گروپ موٹر سائیکلوں پر سوار سکیورٹی فورسز کی جانب سے پیچھا کرتے ہوئے ایک کار پارکنگ کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

https://twitter.com/ranarahimpour/status/1576661162946502656


ایک اور ویڈیو میں لوگوں کو دوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے کیونکہ موٹر سائیکل سوار ایک سڑک کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں اور ساتھ ہی "خامنہ ای مردہ باد" کے نعرے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

ایران میں امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے مرکز نے کہا ہے کہ ایک تیسری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایکموٹر سائیکل پر سوار دو سکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لیے گئے مظاہرین کے سروں کو ڈھانپ کر لے جایا گیا۔

ایران
Reuters

اطلاعات کے مطابق متعدد طالب علموں کو پیٹا گیا یا پیلٹ گنوں سے گولیاں ماری گئیں اور 30 سے 40 کو گرفتار کیا گیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے خبر دی ہے کہ وزیر سائنس محمد علی زلفیگول کے کیمپس میں طلبہ اور سیکیورٹی فورسز سے بات چیت کے بعد امن بحال ہو گیا ہے۔

مہر نے کہا کہ یونیورسٹی میں کلاسوں کو پیر کے روز معطل کردیا گیا تھا اور "حالیہ واقعات اور طلباء کے تحفظ کی ضرورت کی وجہ سے" آن لائن منتقل کردیا گیا تھا۔

گزشتہ دو راتوں میں تہران اور کئی دیگر شہروں میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود مظاہروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ناروے سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ ایران ہیومن رائٹس نے اتوار کے روز کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک کم از کم 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 41 مظاہرین بھی شامل ہیں جن کے بارے میں بلوچ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کے روز جنوب مشرقی شہر زاہدان میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.