دل پر نقش تصویر
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanنرم شاخ کے جیسی ہے کھلتے گلاب کے جیسی ہے
صورت اس قدر شاداب ہے حُسن و جمال کے جیسی ہے
پلکیں جھکانے سے جھک جائے حہاں اُٹھانے سے مہک جائے سماں
تیری آمد سے گلستان چہک رہا ہے تو بہار کے موسم کے حیسی ہے
میری خوابگاہ میں آ کر میری نیند چُرا لے جاتی ہے
چمک دکھا کر میرے ہوش اُڑا لے جاتی ہے
نزدیک آ کر اس قدر کیوں دور چلی جاتی ہے
میرے دل میں ہلچل مچاتی ہے میری بے قراری کے جیسی ہے
سوچتا ہوں کب اپنے چہرے سے نقاب اُٹھائے گی
صورت دکھائے گی جب پھر مجھے چین کی نیند آئے گی
مجھے بے چین کر کے کیسی پُر مسرت ہے ساون کی گھٹا
جھوم رہی ہے مسرور ہے مہکی آوارہ فضاء کے جیسی ہے
جلوے دکھا کر خوابوں میں آ کر اس طرح کیوں ستاتی ہے
گھونگھٹ اگر اُٹھانا نہیں تو اپنی جھلک پھر کیوں دکھاتی ہے
مار ڈالیں گیں تیری یہ ادائیں میرے محبوب سمجھا کر
بھول سکتا ہوں کیسے تمہیں میرے دل پر نقش تصویر کے جیسی ہے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






