عجیب لوگ ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiعجیب لوگ ہیں یہاں میں پیار کر نہیں رہا
کسی کا میں یہاں پہ انتظار کر نہیں رہا
خلوص پیار عشق کا لگاتے نعرہ ہیں سبھی
کسی بھی آدمی پہ اعتبار کر نہیں رہا
غزل لکھوں گا یار کی کبھی میں بے وفائی پر
فراق ہجر آج میں شمار کر نہیں رہا
غریب بچوں کو پڑھا رہا ہوں میں دوستو
میں کوئی اور پیشہ اختیار کر نہیں رہا
کسی میں بے گناہ پر نشانہ کیسے باندھتا
بنا نہیں ہوں لالچی شکار کر نہیں رہا
عزیز ہے مجھے نگر یہ دوستو
سفر ابھی دریا کے میں پار کر نہیں رہا
ابھی تو ایک یار کافی ہے یہاں مرے لیے
میں کوئی عشق دوسرا تو یار کر نہیں رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






