عجیب لوگ ہیں
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiعجیب لوگ ہیں یہاں میں پیار کر نہیں رہا
کسی کا میں یہاں پہ انتظار کر نہیں رہا
خلوص پیار عشق کا لگاتے نعرہ ہیں سبھی
کسی بھی آدمی پہ اعتبار کر نہیں رہا
غزل لکھوں گا یار کی کبھی میں بے وفائی پر
فراق ہجر آج میں شمار کر نہیں رہا
غریب بچوں کو پڑھا رہا ہوں میں دوستو
میں کوئی اور پیشہ اختیار کر نہیں رہا
کسی میں بے گناہ پر نشانہ کیسے باندھتا
بنا نہیں ہوں لالچی شکار کر نہیں رہا
عزیز ہے مجھے نگر یہ دوستو
سفر ابھی دریا کے میں پار کر نہیں رہا
ابھی تو ایک یار کافی ہے یہاں مرے لیے
میں کوئی عشق دوسرا تو یار کر نہیں رہا
More Love / Romantic Poetry






