نہ جینے میں ساقی

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

نہ۔مرنے میں ساقی نہ جینے میں ساقی
مری دفن حسرت ہے سینے میں ساقی

غموں کی حکومت ہے دل پر مسلسل
خوشی رہ گئی ہے خزینے میں ساقی

نہ آنسو رکے ہیں نہ آہیں تھمی ہیں
عجب درد ہے اس مہینے میں ساقی

وہی زخم تازہ، وہی یادِ جاناں
نیا کچھ نہیں اس قرینے میں ساقی

محبت کی قیمت چکائی ہے ہم نے
کمی کچھ نہیں ہے پسینے میں ساقی

جنہیں دل کا مالک بنایا تھا ہم نے
وہ مصروف ہیں اور نگینے میں ساقی

نہ دنیا نے سمجھا نہ اپنوں نے جانا
رہا عمر بھر اس دفینے میں ساقی

مرے دل کی بستی اجڑتی رہی ہے
مگر لوگ خوش ہیں کمینے میں ساقی

Rate it:
Views: 1
28 Jun, 2026