اب دیکھیے کہانی کہاں جا کے ختم ہو
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آبادڈرتے ہیں صرف اس لیے عرضِ بیاں سے ہم
کرجائیں کوئی ظلم نہ اپنی زباں سے ہم
کارِ جہاں کے واسطے فرصت ہی کب ملی
نکلے کبھی نہ قیمتِ غم کے گماں سے ہم
جو ساتھ لے گئے تھے یقیں وہ بھی رہ گیا
لوٹے ہیں خالی ہاتھ ترے آستاں سے ہم
دنیا سے دل لگانے کا کچھ فائدہ نہیں
جانا وہیں ہے لوٹ کے، آئے جہاں سے ہم
جب ولولوں کی قید سے آزاد ہو گئے
گزرے نہ اس گلی سے جو گزرے وہاں سے ہم
سرمستیِ حیات ہے موسم سے بے نیاز
پیتے ہیں جوئے یاد کے آبِ رواں سے ہم
اب دیکھیے کہانی کہاں جا کے ختم ہو
مر کر نکل تو آئے ہیں اس داستاں سے ہم
اب کوئی ہجر و وصل سے باقی نہیں غَرَض
اکتا گئے ہیں قصّہء عشقِ بتاں سے ہم
چھایا ہے کچھ عجیب یہاں ماتمی سکوت
اب خود بھی خوف کھاتے ہیں اپنے مکاں سے ہم
بیجا ہے بے رخی کا گلہ ہم سے جانِ جاں
بیزار خود بھی رہتے ہیں اب اپنی جاں سے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






