اب دیکھیے کہانی کہاں جا کے ختم ہو

Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آباد

ڈرتے ہیں صرف اس لیے عرضِ بیاں سے ہم
کرجائیں کوئی ظلم نہ اپنی زباں سے ہم

کارِ جہاں کے واسطے فرصت ہی کب ملی
نکلے کبھی نہ قیمتِ غم کے گماں سے ہم

جو ساتھ لے گئے تھے یقیں وہ بھی رہ گیا
لوٹے ہیں خالی ہاتھ ترے آستاں سے ہم

دنیا سے دل لگانے کا کچھ فائدہ نہیں
جانا وہیں ہے لوٹ کے، آئے جہاں سے ہم

جب ولولوں کی قید سے آزاد ہو گئے
گزرے نہ اس گلی سے جو گزرے وہاں سے ہم

سرمستیِ حیات ہے موسم سے بے نیاز
پیتے ہیں جوئے یاد کے آبِ رواں سے ہم

اب دیکھیے کہانی کہاں جا کے ختم ہو
مر کر نکل تو آئے ہیں اس داستاں سے ہم

اب کوئی ہجر و وصل سے باقی نہیں غَرَض
اکتا گئے ہیں قصّہء عشقِ بتاں سے ہم

چھایا ہے کچھ عجیب یہاں ماتمی سکوت
اب خود بھی خوف کھاتے ہیں اپنے مکاں سے ہم

بیجا ہے بے رخی کا گلہ ہم سے جانِ جاں
بیزار خود بھی رہتے ہیں اب اپنی جاں سے ہم

Rate it:
Views: 508
12 Apr, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL