امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا پھر سے آغاز

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے،جنوبی ایشیا میں بالعموم اور افغانستان میں بالخصوص امن کی راہ ہموار کرنے کےلیےمذاکرات تین مہینوں کے تعطل کے بعد آج شروع ہوئے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد آج دوحہ میں موجود ہیں،گزشتہ شب زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دورپھر شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان جمعے کےروز ملاقات بھی ہوئی تھی، مذاکرات کے نتیجے میں تشدد میں بتدریج کمی اور سیز فائیر کا اعلان متوقع ہے۔ ان مذاکرات میں تمام افغان فریقین کے درمیان مذاکرات کے لئے بھی راہ ہموار کی جارہی ہے،واضح رہے کہ امریکہ طالبان مذاکرات کا یہ مرحلہ فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل خلیل زاد نے افغانستان کے دار الحکومت کابل میں افغان حکام اور دیگر سے طالبان کے ساتھ سیاسی سمجھوتے پر مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کی جس کے بعد وہ دوحہ روانہ ہوگئے۔

امریکا اور طالبان مذکرات معطلیہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 28 نومبر کو دورہ افغانستان اور اسی دوران دوحہ میں خلیل زاد کے ’خفیہ مذاکرات‘ کی اطلاعات کے چند دن بعد ہی سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ ایک سال طویل امن مذاکرات کو معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’طالبان سے بات چیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔‘

افغانستان کے ایک میڈیا ہاؤس طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق زلمے خلیل زاد کابل میں افغان رہنماؤں اور سیاستدانوں سے ملاقات اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر بات کرنے کے لیے آئے ہیں۔

دریں اثنا افغان صدر کے دفتر نے بھی اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک افغان جنگ کے ایک پرامن حل کی تلاش کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغان صدارتی ترجمان صدیق صدیقی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں ممالک نے ملک میں امن کے لیے ایک مشترکہ روڈمیپ پر بات چیت کی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کی ہماری مشترکہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔‘


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.