بدنام زمانہ خاتون قاتل لا کترینہ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئی، یہ لڑکی تھی کون ؟

میسکیو (مانیٹرنگ ڈیسک) میسکیو میں بدنام زمانہ خاتون قاتل لا کترینہ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق جب بھی ہمارے ذہن میں کارٹیل کا لفظ آتا ہےتو ہمارا ذہن فوراََ کسی خطرناک قاتل،افسانوی گینگ کی طرف جاتا ہے جس سے جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے۔تاہم بدنام زمانہ قاتل لاکترینہ اس کا ایک حقیقی کردار تھی جسے انتہائی خطرناک قاتل تصور کیا جاتا تھا۔ وہ انتہائی تعصب کے ساتھ منشیات کے گروہ کارٹیل کے لیے کام کرتی رہی۔لا کیٹرینہ کا نام ماریہ گوادلوپ لوپس ایسکیول تھا۔وہ ایک مشہور کارٹیل قاتل تھی جو حال ہی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئی۔ریاستی حکام نے تاحال اس کی موت کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی۔ تاہم سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں لا کترینہ کو آخرسی سانسیں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بدنام زمانہ مگر خوبصورت قاتلہ پر میکسیو افواج پر ہونے والے ایک مہلک حملے کی نگرانی کا الزام تھا،یہ حملہ اکتوبر 2019ء میں ہوا تھا جس میں 14 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ فائرنگ کا تبادلہ اس وقت ہوا جب وہ کارٹیل کی ایک اور باس سے ملاقات کر رہی تھی۔میسکین اہلکاروں کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 6 مرد مسلح افراد کو پکڑا گیا جب کہ ایک خاتون ہلاک ہو گئی۔ ابتدائی طور پر عہدیداروں نے حالیہ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تاہم اتوار ست انٹریٹ پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں خاتون کو اسٹریچر پر زخمی حالت میں دیکھا گیا جس کی ران پر کترینہ کا ٹیٹو لگا ہوا تھا۔ایک فوجی اہلکارت کو بھی لا کترینہ کو اپنے بازوں میں پکڑے ہوئے دیکھا گیا،وہ اس کی لاش کوہیلی کاپٹر منتلق کر رہا تھا۔خیال رہے کہ اس علاقے میں منشیات فروشی کا بازار گرم ہے اور بہت سے جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہیں جن کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔میکسیکو منشیات فروشی سے متاثرہ اور لاقانونیت کا شکار ملک ہے جہاں گزشتہ سال فائرنگ اور دیگر واقعات میں 29 ہزار شہری ہلاک ہوئے تھے۔

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.