طالبان جلد لڑکیوں کی تعلیم کے لیے منصوبےکا اعلان کریں گے:اقوام متحدہ

image
اقوام متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ طالبان لڑکیوں کو سکول بھیجنے کے لیے جلد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

چار ہفتے پہلے لڑکوں کو سکول جانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یونیسیف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر عابدی نے کہا کہ ’وزیر تعلیم نے ہمیں بتایا کہ وہ لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں جس کا جلد اعلان کیا جائے گا جس کے بعد لڑکیاں بھی سکول جا سکیں گی۔‘

 کئی ہفتوں سے طالبان کہہ رہے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہوا وہ لڑکیوں کو سکول بھیجیں گے۔

لڑکیوں کو سکول جانے اور خواتین کو کام سے روکنے پر طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔

طالبان نے پرائمری سکول کی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دے رکھی ہے، لیکن کہا ہے کہ سکینڈری سکول کی ٹیچرز اور طالبات ابھی سکول نہیں جا سکتیں۔

طالبان نے کہا تھا کہ یہ سب اس وقت تک نہیں ہو سکتا ہے جب تک لڑکیوں کی سکیورٹی اور انہیں لڑکوں سے علیحدہ رکھ کر تعلیم کا انتظام نہیں ہو جاتا جس کے لیے وقت درکار ہے۔

عمر عابدی نے کہا کہ ’27 روز سے سکینڈری سکول کی لاکھوں طالبات تعلیم سے محروم ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ اس حوالے سے زیادہ انتظار نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ہفتہ پہلے افغانستان گئے اور وہاں طالبان حکام سے ملاقاتیں کیں۔

’میری تمام ملاقاتوں میں لڑکیوں کی تعلیم میری پہلی ترجیح تھی۔‘

اقوام متحدہ نے طالبان سے اپیل کی ہے کہ اس حوالے سے زیادہ انتظار نہ کیا جائے (فوٹو اے ایف پی)

ان کے بقول صرف پانچ صوبوں میں سکینڈری سکول کی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت ہے، لیکن اقوام متحدہ چاہتی ہے کہ ایسا پورے ملک میں ہونا چاہیے۔

ایک 14 سالہ لڑکی عاصمہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سامنے اس حوالے سے اپنے احساسات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا میں سکول جا سکوں گی یا نہیں۔ یہ میرا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں سب کچھ سیکھنا چاہتی ہوں۔ میں ایک انجینیئر، خلاباز یا آرکیٹیکٹ بننا چاہتی ہوں۔ یہ میرا خواب ہے۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.