کراچی میں جنوری تا جون2021ء ریپ کے کتنے واقعات ہوئے؟

image
گرافکس: محمد عبیر ْ سماء ڈیجیٹل

کراچی میں رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ (جنوری تا جون 2021ء) میں کتنی بچیوں اور خواتین کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا؟، اس سوال کا جواب ملنا آسان نہیں کیوں کہ شہر کے سرکاری اسپتالوں اور کراچی پولیس ریپ کی شکار بچیوں اور خواتین کا ریکارڈ مرتب نہیں کرتے۔

جب ہم نے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی تو سب سے پہلے اس کیلئے ایم اے جناح روڈ پر واقع کراچی پولیس سرجن کے دفتر پر حاضری دی۔ پولیس سرجن ڈاکٹر حامد جیلانی نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ زیادہ تر ریپ کے کیسز جھوٹے ہوتے ہیں۔ پولیس سرجن نے اپنی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریپ کی شکار زیادہ تر بچیاں اور خواتین یا تو جسم فروش ہوتی ہیں یا گھر سے بے گھر ہوتی ہیں۔ ایسی خواتین اور بچیوں کو طاقتور لوگ اپنے مخالفین سے بدلہ لینے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے پولیس سرجن سے متعدد بار ریپ کی شکار خواتین اور بچیوں کا ریکارڈ شئیر کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا۔

ہمیں امید تھی کہ پولیس سرجن کے دفتر سے کراچی میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین اور بچیوں کا میڈیکل ایگزامینیشن کا ڈیٹا مل جائے گا۔ ریپ کا پتا لگانے کیلئے خاتون میڈیکو لیگل افسر متاثرہ بچی یا خاتون کا طبی معائنہ کرتی ہے اور ڈی این اے کیلئے نمونے اور دوسرے شواہد اکٹھے کرتی ہے تاکہ ریپ کے الزام کو درست یا غلط قرار دیا جاسکے۔ اس طرح کے طبی معائنے شہر کے بڑے سرکاری اسپتالوں جن میں ناظم آباد میں واقع عباسی شہید اسپتال، ایم اے جناح روڈ پر واقع ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی اور شاہراہ فیصل سے متصل جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں کیے جاتے ہیں۔ (ریپ کی شکار متاثرہ بچی یا خاتون علاج کی غرض سے کسی نجی اسپتال میں جاتی ہے تو اسپتال انتظامیہ پولیس کو مطلع کرنے کی پابند ہے)۔

کراچی میں رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں بڑے اسپتالوں میں میڈیکولیگل معائنے کیلئے آنے والے ریپ کیسز (آرٹ : محمد عبیر / سماء ڈیجیٹل)

چونکہ پولیس سرجن ریکارڈ فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کررہے تھے اور پھر اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کیلئے طویل وقت لگ گیا۔ ہم نے ذاتی طور پر شہر کے بڑے اسپتالوں کا دورہ کیا، عباسی شہید اسپتال، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی کے میڈیکو لیگل آفیسرز نے ہمیں ریپ سے متعلق رجسٹر تک رسائی دے دی۔ یہ ایک حساس معاملہ تھا، ہم نے انتہائی ذمہ داری سے متاثرہ خواتین اور بچیوں کے ان اسپتالوں میں ہونیوالے طبی معائنوں کو بغور پڑھ کر مبینہ طور پر ریپ کی شکار بچیوں اور خواتین کی عمر، وقوعہ کی تاریخ اور متعلقہ تھانے کی تفصیلات حاصل کیں، ہم نے اخلاقی طور پر متاثرہ بچیوں اور خواتین کے نام یا ایسی کوئی تفصیل حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، جس سے ان کی کسی بھی صورت میں شناخت ممکن ہوسکے۔

آخر کار ہم نے کراچی کے سرکاری اسپتالوں سے یکم جنوری 2021ء سے 30 جون 2021ء تک شہر میں ہونیوالے مبینہ ریپ واقعات کی تفصیلات حاصل کیں۔ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں 302 مبینہ ریپ کی شکار بچیوں اور خواتین کے میڈیکو لیگل معائنے کیے گئے۔ میڈیکولیگل رجسٹر سے ہمیں صرف میڈیکولیگل معائنوں کی تعداد معلوم ہوئی مگر میڈیکولیگل معائنوں کی تعداد کو ریپ کی تعداد نہیں کہا جاسکتا تاہم زیادہ تر واقعات میں خاتون میڈیکو لیگل افسر نے اپنا تجزیہ دیتے ہوئے ریپ کی تصدیق کی۔

ان فہرستوں میں بہت سے میڈیکو لیگل معائنے ایسے بھی تھے جس میں ریپ کو جاننے کیلئے ضروری شواہد نہیں لئے گئے، مثلاً بہت سے میڈیکولیگل معائنوں میں ڈی این اے کیلئے نمونے حاصل نہیں کئے گئے۔ میڈیکولیگل رجسٹر سے یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ عدالت میں اس کیس کا کیا ہوا اور اگر ریپ میں ملوث ملزم گرفتار ہوا تو اس کو سزا بھی ہوئی یا نہیں۔ میڈیکولیگل رجسٹر صرف اس بات کی نشاندہی کرسکتا ہے کہ اسپتالوں میں مبینہ ریپ کی شکار کتنی بچیوں اور خواتین کا معائنہ کیا گیا۔

سماء ڈیجیٹل کو حاصل ڈیٹا کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی درخواست پر 19، ویمن پولیس اسٹیشن صدر کی درخواست پر 2 جبکہ کینٹ ریلوے پولیس اسٹیشن کی درخواست پر ایک میڈیکولیگل معائنہ کیا گیا۔

اس کے بعد ہم نے کراچی کی جیلوں کا رخ کیا، جہاں ہم نے شہر کی جیلوں میں یکم جنوری 2021ء سے 30 جنوری 2021ء تک ریپ کے الزام میں گرفتار افراد کا ریکارڈ حاصل کیا، ہم نے جاننے کی کوشش کی کہ رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں ریپ میں ملوث کتنے افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔ کراچی کی جیلوں سے حاصل ہونیوالے ریکارڈ میں ہمیں انفرادی یا اجتماعی ریپ کے الزام میں گرفتار ملزمان کی تاریخ گرفتاری، تھانہ حدود کے ساتھ ساتھ ان کیسز میں عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا، اس کی تاریخ اور نوعیت کا بھی پتہ چلا لیکن ہم مبینہ ریپ کے ہر کیس کو جیلوں میں موجود جنسی زیادتی کے ملزمان کے کریمنل ریکارڈ سے موازنہ نہیں کرسکے، مگر آپ دیکھ سکیں گے کہ شہر میں واقع پولیس اسٹیشنشز ریپ کے کیسز کو حل کرنے میں کتنا سنجیدہ ہیں۔

اس خبر کا آخری اور سب سے مشکل مرحلہ نقشہ تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق کراچی کے شہریوں کیلئے ایسا کوئی نقشہ دستیاب نہیں جس میں کراچی میں واقع پولیس اسٹیشنز کی حدود کا تعین کیا گیا ہو، ہم نے شہر کے ہر پولیس اسٹیشن سے نقشہ اور ڈیٹا حاصل کرکے کراچی پولیس کا ایک جامع اور مکمل نقشہ تیار کیا، جس کی متعلقہ اداروں سے تصدیق کے بعد متعدد بار چیک کیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری کاوش کراچی کے شہریوں کیلئے مفید اور کارآمد ثابت ہوگی۔

مبینہ جنسی زیادتی کا ڈیٹا کیا ظاہر کرتا ہے؟

جب ہم نے ریپ سے متعلق دستیاب ڈیٹا کا مشاہدہ کیا تو واضح رجحانات دیکھنے میں آئے۔ مبینہ ریپ کے سب سے زیادہ میڈیکو لیگل معائنے کورنگی انڈسٹریل ایریا پولیس کی درخواست پر کئے گئے جن کی تعداد 15 ہے۔ دوسرا نمبر سچل پولیس اسٹیشن کا ہے جہاں سے مبینہ ریپ کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے۔

یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ ریپ کے بیشتر واقعات مضافاتی علاقوں میں پیش آئے۔ اس کے علاوہ شہر کے صنعتی علاقوں سے بھی ریپ کے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے جس کی وجہ صنعتی علاقوں میں مزدور طبقے کی اکثریت بتائی جاتی ہے۔ ریپ کے حوالے سے کراچی کا ایسٹ زون سب سے خطرناک علاقہ بن گیا۔ شہر کے ایسٹ زون میں 3 اضلاع، جن میں ضلع شرقی، ضلع ملیر اور ضلع کورنگی آتے ہیں۔ کراچی میں پیش آنے والے مبینہ ریپ کے 50 فیصد واقعات ایسٹ زون میں ہی پیش آئے۔ مبینہ ریپ کے سب سے زیادہ 65 کیسز ایسٹ زون میں واقع ڈسٹرکٹ ملیر میں رپورٹ ہوئے۔ ایسٹ زون میں ہی واقع ڈسٹرکٹ کورنگی میں 43 کیسز سامنے آئے اور مبینہ رئپ کے واقعات کے حوالے سے ضلع کورنگی کا دوسرا نمبر ہے۔

میڈیکولیگل معائنے کے مطابق جنوری سے جون 2021ء کے درمیان ریپ کا شکار ہونیوالے افراد کی عمریں۔ تصویر : سماء ڈیجیٹل

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر نے مؤقف اختیار کیا کہ معاشرتی اور معاشی دباؤ، انٹرنیٹ کی بغیر چیکنگ آسان دستیابی اور بڑھتی ہوئی غربت جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سبب بن رہی ہیں۔ عرفان بہادر نے ضلع ملیر میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ کے ضلع کا بیشتر حصہ یا تو مضافاتی یا پھر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ اگر ضلع ملیر کے رہایشیوں کی نفسیات کا ٹیسٹ کروایا جائے تو آسانی سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بیشتر رہائشی مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ عرفان بہادر کے مطابق ضلع میں ریپ کے اعداد و شمار جو سماء ڈیجیٹل نے مرتب کئے ہیں وہ اصل واقعات کی نسبت کم ہیں، کیونکہ بہت سے ریپ واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

اپنے مختصر انٹرویو کے دوران ایس ایس پی ملیر نے انکشاف کیا کہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن ملیر نے حال ہی میں ہی ہونیوالی ملاقات میں بتایا کہ ضلع میں ریپ کی ماہانہ 25 سے 30 شکایات موصول ہورہی ہیں۔

عرفان بہادر کے مطابق کچھ لوگ ریپ کے کیسز پنچایت یا محلہ کمیٹی کی سطح پر حل کرلیتے ہیں اور بہت کم لوگ ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے تھانے میں مقدمہ درج کرواتے ہیں۔ ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ لوگ بدنامی سے بچنے کیلئے بھی ریپ کے واقعات پولیس کو رپورٹ کرنے سے کتراتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہر کے 108 تھانوں میں 27 تھانے ایسے بھی ہیں جہاں رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں ریپ کا ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ سید نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر میں ہونیوالے ریپ کے 10 گنا واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر سُمعیہ سید، جو کہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکولیگل سیکشن کی سربراہ بھی ہیں، نے بتایا کہ ریپ کے زیادہ واقعات نہ تو ڈیفنس، کلفٹن سے رپورٹ ہوئے نہ ہی بنگلوں سے یا شہر میں واقع فلیٹوں سے ایسے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایڈیشنل پولیس سرجن نے سوال کیا کہ ریپ کے زیادہ واقعات کچی آبادیوں سے ہی رپورٹ کیوں ہورہے ہیں؟۔

کراچی کی جیلوں سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق شہر میں جنوری سے جون 2021ء کے دوران ریپ کیسز میں گرفتار افراد۔ فوٹو: سماء ڈیجیٹل

جنسی زیادتی کے واقعات کیسے رپورٹ ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر سُمعیہ سید کے مطابق ریپ کے واقعات دو طرح سے رپورٹ ہوتے ہیں۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں ریپ کا شکار بچی یا خاتون یا تو براہ راست اسپتال پہنچ کر ان کے ساتھ ہونیوالے ریپ کی شکایت درج کرواتے ہیں یا پھر متاثرہ بچی یا خاتوں پہلے متعلقہ پولیس اسٹیشن جاتے ہیں اور پولیس ان کو لیکر اسپتال آتی ہے۔ پہلی صورت میں اسپتال میں موجود خاتون میڈیکو لیگل افسر متاثرہ بچی یا خاتون کا معائنہ کرکے نمونے حاصل کرنے کے بعد پولیس کنٹرول پر اطلاع دیتا ہے کہ شہر کے اس حصے سے ریپ سے متاثرہ بچی یا خاتون آئی ہے، جس کے بعد پولیس کنٹرول متعلقہ پولیس اسٹیشن کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ پولیس کے ساتھ آنے والی متاثرہ بچی یا خاتوں کو متعلقہ تھانہ ایف آئی آر یا لیٹر فراہم کرتا ہے، جس کے بعد ان کا میڈیکولیگل معائنہ کیا جاتا ہے۔

میڈیکولیگل دستاویز کیا ہے؟

ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی تحقیقات کے دوران ہمیں اس بات کا علم ہوا کہ وہ دستاویز جس پر میڈیکولیگل معائنہ تحریر کیا جاتا ہے، وہ اس طرح کے واقعات کی رپورٹنگ کا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ مثلاً پرانے میڈیکولیگل فارم میں ایسی کوئی انٹری نہیں تھی کہ ریپ کا شکار بچی یا خاتون کے کپڑے چیک کئے گئے ہیں یا نہیں۔ بعض دفعہ متاثرہ بچی یا خاتون کے کپڑوں پر موجود نمونے اگر صحیح طریقے سے حاصل کرکے ٹیسٹ کیلئے بھیج دیئے جائیں تو ملزم کی شناخت آسان ہوجاتی ہے۔ میڈیکو لیگل معائنے میں ان چیزوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ متاثرہ بچی یا خاتون نے غسل تو نہیں لیا، کیونکہ اگر متاثرہ بچی یا خاتون ریپ کے بعد غسل کرلے تو کئی شواہد ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ متاثرہ بچی نے ریپ کے بعد کتنی بار پیشاب یا فضلہ خارج کیا، کیوں کہ متاثرہ بچی یا خاتون ریپ کے بعد جب جب پیشاب یا فضلہ خارج کرتی ہے تب تب شواہد ختم ہوتے جاتے ہیں۔

میڈیکولیگل معائنے کے دوران متاثرہ خاتون کی ازدواجی حیثیت بھی معلوم کی جاتی ہے، یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ متاثرہ خاتون طلاق یافتہ ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر سُمعیہ سید کے مطابق طلاق یافتہ خاتون سے بھی جنسی زیادتی ہوسکتی ہے مگر میڈیکولیگل کے پرانے دستاویز میں ازدواجی حیثیت یا طلاق سے متعلق معلومات حاصل نہیں کی جاتی تھیں۔

میڈیکولیگل کی نئی دستاویز میں اب متاثرہ خاتون کی چال سے متعلق بھی معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں، کوئی بھی یہ نہیں پاتا کہ ریپ کا شکار بچی یا خاتون کیسے چل رہی ہے۔ ایڈیشنل پولیس سرجن کے مطابق اگر کسی بچی یا خاتون کے ساتھ اجتماعی ریپ ہوجائے تو اس کی چال کیسے نارمل ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر سُمعیہ سید نے بتایا کہ اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ متاثرہ خاتون کے کتنے بچے ہیں، کیونکہ خواتین کی اندام نہانی کی ہیئت (خدوخال) بچوں کی پیدائش کے بعد تبدیل ہوتے ہیں۔ شادی شدہ خواتین کے میڈیکولیگل معائنے میں اس بات کا بھی تعین کیا جاتا ہے کہ متاثرہ خاتون نے قدرتی طور پر بچے پیدا کئے یا بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ممکن ہوئی۔

ایڈیشنل پولیس سرجن نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کسی متاثرہ خاتون کے چار بچے ہیں اور اس نے چاروں بچوں کو قدرتی طور پر جنم دیا ہے اور ریپ کے دوران اس کی اندام نہانی پر کوئی چوٹ نہیں آئی تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ اس کے ساتھ ریپ نہیں ہوا۔

ڈاکٹر سُمعیہ سید، جو کہ اقوام متحدہ کی جنسی بنیادوں پر تشدد کے موضوع کی تصدیق شدہ ایکسپرٹ بھی ہیں، نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ریپ کے میڈیکولیگل دستاویز میں تبدیلیاں اس لئے کی گئی ہیں کہ اگر کوئی میڈیکو لیگل افسر کرپشن کرے یا غفلت برتے تو اس کو فوراً پکڑ لیا جائے۔ ایڈیشنل پولیس سرجن نے بتایا کہ اگر کوئی میڈیکو لیگل افسر ریپ سے متعلق ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد بھی آخر میں کسی بامعنی نتیجے پر نا پہنچ سکے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے معائنے کے دوران کچھ قابل ذکر اور نتیجہ خیز معلومات حاصل نہیں کیں اور یہ ہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں وہ میڈیکولیگل افسر کی کوتاہی پکڑ لیتی ہیں۔

ڈاکٹر سُمعیہ سید کا کہنا تھا کہ سندھ میں میڈیکولیگل کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ اس شعبے سے وابستہ افراد کی ناصرف مناسب تربیت کی جائے بلکہ ان کی ماہانہ آمدن میں اضافے کیلئے مزید وسائل بروئے کار لانے کی ضروت ہے۔ ڈاکٹر سُمعیہ سید نے بتایا کہ ریپ کے معائنے کے بعد پولیس یا قانونی ماہرین اکثر سوال کرتے ہیں کہ متاثرہ بچی یا خاتون کے جسم پر کوئی تشدد کا نشان کیوں نہیں ہے۔ ایڈیشنل پولیس سرجن نے مزید بتایا کہ تشدد کا نشان اس وقت تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک میڈیکولیگل افسر متاثرہ بچی یا خاتون کا سر سے لیکر پاؤں تک جائزہ نہ لے۔

ڈاکٹر سُمعیہ سید نے 14 سالہ ریپ کی شکار بچی کی فرضی مثال دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا میڈیکولیگل افسر نے معائنے کے دوران اس کی کہنیاں چیک کیں؟، آپ کو متاثرہ بچی کی آنکھوں میں بھی جھانک کر دیکھنا ہے۔ میڈیکولیگل افسر کو ریپ سے متاثرہ بچی کا معائنہ کرتے ہوئے حاضر دماغی سے کام لینا چاہئے۔ اگر میڈیکولیگل افسر معائنے کے وقت اپنا دماغ استعمال نہیں کرتا تو وہ ایسی کوئی قابل ذکر چیز نہیں دیکھ پائے گا جو نظر بھی آرہی ہو۔

ڈاکٹر سُمعیہ نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میڈیکولیگل افسر سے پوچھا جائے کہ آپ نے متاثرہ بچی یا خاتون کے ناخن چیک کئے تھے؟، کیا ناخن میں کسی قسم کا مواد تو موجود نہیں تھا؟ اور اگر ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے تو اس کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے۔ ایڈیشنل پولیس سرجن نے کہا کہ بحیثیت خاتون میڈیکولیگل افسر انہوں نے ریپ کے تین کیسز میں ملزمان کی نشاندہی متاثرہ بچی یا خاتون کے ناخنوں میں پائے گئے مواد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی اور ان میں سے ایک کیس میں عدالت نے ملزم کو سزا بھی سنائی ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.