نیوزی لینڈ: نوجوانوں کے لیے تمباکو نوشی پر تاحیات پابندی

image

نیوزی لینڈ کی حکومت کا خیال ہے کہ اس نے تمباکو نوشی کو ختم کرنے کے لیے ایک منفرد منصوبہ بنایا ہے، 14 سال یا اس سے کم عمر والوں کے لیے تاحیات پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

نیوزی لینڈ میں ایک نئے قانون کے تحت حکومت نے اعلان کیا کہ یہ قانون اگلے سال منظور ہوگا، سگریٹ خریدنے کی کم از کم عمر سال بہ سال بڑھتی رہے گی۔

اس کا مطلب ہے اصولی طور پر قانون کے نافذ ہونے کے کم از کم 65 سال بعد خریدار سگریٹ خرید سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب وہ ثابت کر سکیں کہ ان کی عمر کم از کم 80 سال ہے۔

عملی طور پر حکام کو امید ہے کہ اس سے کئی دہائیوں پہلے سگریٹ نوشی ختم ہو جائے گی، لیکن انکا یہ بھی کہنا تھا کہ تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ لائی جائیں گی تاکہ خوردہ فروشوں کو ایڈجسٹ کرنے میں مدد ملے۔

چونکہ نیوزی لینڈ میں سگریٹ خریدنے کی موجودہ کم از کم عمر 18 سال ہے، اس لیے نوجوانوں پر تاحیات سگریٹ نوشی پر پابندی کا کچھ سالوں تک کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

نیوزی لینڈ کی وزیرِ صحت ویرل کا کہنا ہے کہ ہرروز کسی ایسے شحص سے ملتے ہیں جو تمباکو کت زیرِ اثر تکلیف کا شکار ہوتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ لوگوں کی موت زیادہ تر سائنس کی تکلیف کی وجہ سے ہورہی ہے اور ساینس کی تکلیف کی وجہ تمباکو ہے۔

انکا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں برسوں سے سگریٹ نوشی کی شرح میں مسلسل کمی آئی ہے، اب صرف 11 فیصد بالغ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور 9 فیصد روزانہ تمباکو نوشی کرتے ہیں، مقامی ماوری میں یومیہ شرح 22 فیصد پر بہت زیادہ ہے، حکومت کے منصوبے کے تحت، ماوری میں سگریٹ نوشی کو کم کرنے میں مدد کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی جائے گی۔

ویرل کا کہنا تھا کہ حالیہ میں سگریٹ پر پہلے ہی بڑے ٹیکس میں اضافہ کیا جا چکا ہے اور کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان میں مزید اضافہ کیوں نہیں کیا جاتا۔

ہم نہیں سمجھتے کہ ٹیکس میں اضافے کا کوئی اور اثر پڑے گا یہ چھوڑنا واقعی مشکل ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم ان لوگوں کو سزا دیں گے جو سگریٹ کے عادی ہیں۔

صحت ایکسپرٹ نے کہا کہ ہم سب سگریٹ نوشی سے پاک نیوزی لینڈ چاہتے ہیں، لیکن اس سے چھوٹے کاروباروں پر بہت زیادہ اثر پڑے گا، ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ اس عمل میں زندگیوں اور خاندانوں کو تباہ کر دیا جائے، سگریٹ نوشی سے پاک نیوزیلینڈ بنانے کا یہ راستہ نہیں ہے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.