جوکووچ کا ویزا دوبارہ منسوخ کرنے کے فیصلے پر ایمرجنسی کیس کی سماعت

image

آسٹریلین امیگریشن وزیر کے ٹینس اسٹار جوکووچ کا ویزا دوبارہ منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد ایمرجنسی کیس کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق جوکووچ کا ویزا دوبارہ منسوخ کرنے کے فیصلے پر ایمرجنسی کیس کی سماعت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ فریقین میں بارڈر فورس کی جانب سے جوکووچ کے دوبارہ انٹرویو پر اتفاق کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوواک جوکووچ کے ویزے کے فیصلے کا انتظار، آسٹریلین اوپن ڈرا تاخیر کا شکار

خبر ایجنسی کے مطابق آسٹریلین بارڈر فورس آج جوکووچ کا انٹرویو کرے گی جبکہ آسٹریلیا میں ٹینس اسٹار جوکووچ کے کیس کی سماعت اتوار کو ہوگی اور کیس کی سماعت پر بارڈر فورس کے اہلکار جوکووچ کو وکیل کے دفتر لائیں گے۔

واضح رہے کہ سربین ٹینس اسٹار نوواک جوکوچ کا ویزا آسٹریلوی امیگریشن حکام نے دوسری بار منسوخ کردیا ہے جس کے بعد انہیں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق ٹینس اسٹار نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی ہے جو کہ دیگر لوگوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دفاعی چیمپئن نوواک جوکووچ آسٹریلین اوپن کے آغاز سے قبل ہی ناک آؤٹ

یاد رہے کہ ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد جوکووچ آئندہ تین سال تک آسٹریلیا میں داخلے کے اہل نہیں ہوں گے جبکہ ویزا منسوخ ہونے سے جوکووچ کے ریکارڈ 21 ویں گرینڈ سلیم ٹائٹل کے حصول کی امیدوں پر بھی پانی پھر جائے گا۔

آسٹریلوی امیگریشن کے وزیر الیکس ہاک کے مطابق اس مرتبہ ان کا ویزا صحت اور عوامی مفاد میں منسوخ کیا گیا ہے جبکہ یہ فیصلہ میں نے محکمہ داخلہ، آسٹریلین بارڈر فورس اور نوواک جوکووچ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر غور کرنے کے بعد کیا ہے۔

خیال رہے کہ جوکووچ جب گزشتہ دنوں آسٹریلین اوپن میں شرکت کے لیے آسٹریلیا پہنچے تو امیگریشن حکام نے انہیں روکتے ہوئے ان کا ویزہ منسوخ کردیا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: گمراہ کن معلومات پر جوکووچ کو پانچ سال قید کا خطرہ

گرفتاری کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور درخواست دائر کرتے ہوئے انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے پاس درست ویزہ اور آسٹریلین اوپن کے منتظمین کی جانب سے طبی چھوٹ تھی جبکہ انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ کہ وہ سفر کے پورے معیار پر پورا اترتے ہیں۔

جوکووچ نے ویزا منسوخی اور حراست میں لیے جانے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا اور کیس جیت گئے تاہم عدالتی فیصلے کے کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.