سینیٹ اجلاس،مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی شہادت پر تحریک پیش

image

سینیٹ اجلاس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی شہادت پر تحریک پیش کردی گئی۔

سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں کی شہادت پر تحریک پیش کی گئی ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد کی تحریک میں کہا گیا کہ بہتر ہوتا کہ میری تحریک پر جواب دینے کے لیے وزیر خارجہ موجود ہوتے، بھارت کیجانب سے نہتے کشمیریوں پر مظالم جاری ہیں کئی کشمیری شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ ریپ ہوئے اور کئی لاپتہ ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے عالمی برادری کی اس معاملے پر خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، بدقسمتی پی ٹی آئی حکومت کشمیر ایشو پر سنجیدہ نہیں۔

بابر اعوان نے سینٹ اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ اہم ایشو ہے جس پر مسلسل گھنٹی بجتی رہتی ہے، ملک وہ ہی قائم رہتے ہیں جو اپنا بھر پور دفاع رکھتے ہیں اور دفاع کو فوج کہا جاتا ہے۔

میں اس تقسیم میں نہیں پڑنا چاہتا کہ کشمیر کا مسئلہ چلا آ رہا ہے اور اس حکومت اور پچھلی حکومت نے کیا کیا، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، بھارت کی جانب سے بہت مرتبہ چیلنج کیا گیا، اس میں کچھ کھلے چیلنج تھے کچھ چھپے چیلنج تھے ہم نے سب کو میٹ کیا۔

5 اگست سے جب مکمل کشمیر کا لاک ڈاؤن کیا گیا وہاں تین قانون نافذ کیے گئے، یہ تینوں ایکٹ کشمیر میں آزادی کی لہر کو دبانے کے لئے بنائے گئے، بھارتی افواج نے 519 افراد کو شہید کیے اور بیشمار زخمی کئے ہیں۔

یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے کوئی رابطہ یا اقدام نہیں کیا ہم نے ہر ممکنہ قدم اٹھایا ہے، بچوں کے جرائم کے خلاف 131 صفحوں کا ڈوزئیر مختلف ممالک کو بھیجا، یہ دنیا میں بھیجا گیا جس میں بتایا گیا کہ 3432 جنگی جرائم بھارتی افواج کیجانب سے کیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے یو این جنرل سیکریٹری نے تحققات کا بھی کہا، کسی زمانے میں بھارت کشمیر کو ڈیڈ وڈ بنا کر مسئلے کو پیچھے پھینکنا چاہ رہا تھا، بہت سارے ممالک کے سفیروں نے کشمیر کے حق میں آواز اٹھائی۔

رسل ٹرائبیونل نے ایک باقاعدہ تھیم کیساتھ بھارت کو جنگی جرائم کرنے کے مترادف قرار دیا اور بتایا کہ وہاں پر کیسے لوگوں کو مارا جا رہا پے اور ڈیموگرافک کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔

کشمیریوں کے بہت سے وٹنس وہاں جا کر پیش ہوتے ہیں اور پاکستان انکے ساتھ کھڑا ہے، یو این سیکورٹی کونسل کی رزولوشن ایک نہیں ہے، اسکے مطابق کشمیریوں کو انکی مرضی کے مطابق حق دیا جائے۔

بھارت کشمیریوں کی موجودگی کو تسلیم نہیں کر رہا تھا اب وہ اس کو تسلیم کر رہا ہے، بھارت نے وہاں 45 لاکھ نان کشمیریوں کو ڈومیسائل دئیے ہیں، ہم نے ان مسائل کو تمام فورمز پر ہائیلائیٹ کیا ہے۔

میں اس تجویز کو خوش آمدید کرتا ہوں، پاکستان کی ساری قیادت اکٹھی نظر آئے تو دنیا کو ایک میسج جائیگا، آر ایس ایس کو بھی ہم نے پچھلے قدم پر دھکیلا، بھارت صرف مذمت سے نہیں مانے گا، مقبوضہ کشمیر میں شہیدوں کے شہر آباد ہوئے۔

مذمت کیساتھ انکے بیانیے کی مرمت بھی ہونی چاہئے اسکے لئے ایک مشترکہ بیانیہ جانا چاہئے، بھارت کیساتھ ہم نے مثبت رابطے کی کوشش کی۔

ایک طرف لاشیں اور حقوق کی ضبطگی ہے تو دوسری جانب آلوؤں کا تبادلہ نہیں ہو سکتا، 74 سال میں پہلی مرتبہ بھارت کے اوپر جنگی جرائم اور ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی پر بات ہوئی۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.