شاہنواز دہانی کا ون ڈے ڈیبیو، ’نوجوانوں کے لیے مشعل راہ‘ 

image
نئے زمانے کی کرکٹ ایک ایسا کھیل بن چکا ہے جہاں تین مختلف فارمیٹ کے لیے تین الگ ٹیمیں بنائی جارہی ہیں۔

اس نئے ٹرینڈ میں بہت سے کھلاڑی ایسے ہیں جو صرف ایک ہی فارمیٹ کھیلتے ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی تینوں فارمیٹ باقاعدگی سے کھیلتا ہے تو وہ ٹیم کا بہترین  اور مکمل کھلاڑی مانا جاتا ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہونے والی ون ڈے سیریز کے آخری میچ میں شاہ نواز دہانی کو ٹی 20 فارمیٹ کے بعد اب ون ڈے کرکٹ میں بھی کھیلنے کا موقع دیا گیا ہے۔

شاہنواز دہانی اس سیریز میں محمد حارث کے بعد ڈیبیو کرنے والے دوسرے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔

محمد حارث کی طرح شاہنواز دہانی بھی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی دریافت ہیں۔ جنھوں نے ملتان سلطانز کی طرف سے عمدہ  کارکردگی دکھا کر پاکستان کرکٹ ٹیم میں جگہ بنائی ہے۔

شاہنواز دہانی کے ڈیبیو کرنے پر مداحوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی کہ  ان کا تعلق صوبہ سندھ کے اندرون سے ہے جہاں بڑے شہروں کی نسبت مواقع بہت کم ملتے ہیں۔

دہانی کے ڈیبیو کرنے پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مداحوں نے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

محمد عرفان  کہتے ہیں ’امید کرتے ہیں یہ اچھا کریں گے کیونکہ یہ اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔‘

سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر خان کہتے ہیں ’شاہنواز دہانی کو ون ڈے میں ڈیبیو کرنے پر بہت مبارک باد ہو۔ اللہ انھیں مزید کامیابیاں دے۔‘

جے لکھتی ہیں کہ ’بالآخر انھیں اور انکی رفتار کو واپس آتا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔‘

ایک صارف نے کہا  کہ ’بالآخر ٹاپ گن مین فیلڈ میں۔‘

 شاہنواز دہانی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اس سے پہلے صرف دو ٹی 20 میچ کھیل چکے ہیں جس میں انھوں نے صرف دو وکٹیں حاصل کی ہیں  جبکہ پی ایس ایل میں دہانی  22 میچز کھیل کر 37 وکٹیں لے چکے ہیں۔

شاہنواز دہانی اپنے منفرد جشن کے باعث کافی مقبول ہیں۔ وکٹ لینے کے بعد تماشائیوں کے پاس بھاگ کر جانا ہو یہ اپنے ساتھی کھلاڑی کارلوس بریتھ ویٹ کے ساتھ ڈانس ہو، دہانی مداحوں کو محظوظ کرنا خوب جانتے ہیں۔

وکٹ لینے کے بعد شاہنواز دہانی کا منفرد جشن ہوتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

2022 کے پی ایس ایل میں اسی جشن میں عظیم پاکستانی ایمپائر علیم ڈار بھی شامل ہوگئے تھے۔

واضح رہے تیسرے ون ڈے میچ میں شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کو آرام دے کر شاہنواز دہانی اور حسن علی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.