آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کی پرویز مشرف کی عیادت پر سوشل میڈیا پر تبصرے اور سوالات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دبئی میں سابق صدر پرویز مشرف کی عیادت کی ہے۔ جہاں اس ملاقات پر اور سوال کیے جا رہے ہیں وہاں یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ کیا فوجی قیادت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایک فوجی آمر اور آئین توڑنے والے 'متنازع سربراہ کی کھل کر حمایت کریں؟'

سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک بار کسی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا ' فوج ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔ یہاں تک کہ اگر میں یونیفارم میں نہ ہوا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تب بھی یہ آرمی میرے ساتھ ہو گی۔'

اس بات کے کچھ سال بعد یکم جنوری 2014کی صبح میں بہت سے صحافیوں کے ہمراہ خصوصی عدالت کے باہر جنرل (ر) پرویز مشرف کی آمد کی منتظر تھی۔ ان کی خصوصی عدالت میں پیشی تھی اور ان پر غداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد ہونا تھی۔

ان دنوں ہر سماعت کے بعد یہی افواہ اڑتی تھی کہ وہ آج نہیں آئیں گے یا یہ کہ ہو سکتا ہے وہ ملک سے باہر چلے جائیں۔ 2013کے کچھ ہی مہینوں میں ان کے فارم ہاؤس کے باہر یا فارم ہاؤس سے عدالت کے راستے میں چار بار باروی مواد برآمد ہو چکا تھا۔ ان کی ٹیم سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں ذاتی حیثیت میں پیشی سے استثنیٰ کی درخواست کرتی تھی۔

اس دن عدالت کی کارروائی شروع ہو چکی تھی مگر سابق صدر نہیں پہنچے تھے۔ ان کی ٹیم کو کہا گیا کہ پرویز مشرف سہ پہر لازمی عدالت پہنچیں۔ پولیس کے مطابق اس روز ان کے فارم ہاوس سے ریڈ زون کی نیشنل لائبریری میں قائم خصوصی عدالت تک آنے والے راستے پر ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

عدالت کے باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تھی، جیمرز لگے تھے اور سخت تلاشی لی جا رہی تھی۔

اسی دوران چک شہزاد میں موجود میڈیا ٹیم نے اطلاع دی کہ پرویز مشرف کا قافلہ ان کے فارم ہاؤس سے نکل کر عدالت کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ پھر خبر ملی کہ پرویز مشرف کا قافلہ عدالت کے بجائے اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والی ایکسپریس وے پر چل پڑا ہے۔ آخرکار انھیں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی منتقل کر دیا گیا تھا۔ جہاں فوج نے خود سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔

ان دنوں جنرل (ر) پرویز مشرف پر قائم مقدمات پر فوجی حلقوں میں شدید تحفظات تھے۔ فوج میں یہ غصہ بھی تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان پر مقدمات قائم ہونے سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا تھا۔ لیکن اب ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی یہ توقع کر رہے تھے کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنے سابق فوجی سربراہ کو کچھ ریلیف ضرور دیں گے۔

اور پھر یہ سب نے دیکھا کہ راحیل شریف نے جنرل )ر) پرویز مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مشرف
Getty Images

خیال رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بھائی میجر شبیر شریف، فوجی صدر پرویز مشرف کے کورس میٹ تھے۔ شبیر شریف کو بعد میں پاکستانی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے ملک سے باہر جانے میں ان کی مدد کی تھی۔ انھوں نے کچھ ان الفاظ میں جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کیا تھاۓ۔

’اس مدد کے لیے میں ان کا شکرگزار ہوں۔ میں ان کا باس رہا ہوں، میں فوج کا سربراہ رہا ہوں انھوں نے مدد کی کیونکہ سیاسی مقدمات ہیں۔‘

انھوں نے اسی انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ جنرل راحیل شریف نے ان ڈائریکٹ (بلاواسطہ) کردار ادا کرتے ہوئے ’حکومت کا وہ دباؤ ختم کیا جو وہ پس پردہ عدلیہ پر ڈال رہی تھی۔‘

فوج کا بطور ادارہ جنرل ( ر) پرویز مشرف کا ساتھ دینے کا یہ کردار بعد میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف بننے پر بھی جاری رہا۔ یہاں تک کہ فوج کی جانب سے سخت بیان تب سامنے آیا جب خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں سزا سنائی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے قیام کو ہی غیر آئینی قرار دے کر یہ فیصلہ معطل کر دیا تھا۔

اب ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دبئی پہنچے اور انھوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی عیادت کی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ ملاقات اپنے سعودی عرب کے سرکاری دورے سے قبل گذشتہ ہفتے کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ڈاکٹرز کی ایک ٹیم بھی موجود تھی جنھوں نے پرویز مشرف کا چیک اپ کیا۔ اس ملاقات کو ان کی وطن واپسی کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ملاقات سے متعلق تبصرے

اس ملاقات سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ کہیں اس عیادت کو ایک ایسا پیغام قرار دیا جا رہا ہے جو واضح کرے کہ فوج اور فوجی قیادت سابق فوجی صدر کے ساتھ کھڑی ہے۔ تو دوسری طرف اس دورے پر تنقید کی جا رہی ہے اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ایسا دورہ کرنا درست ہے؟

یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا فوجی قیادت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایک فوجی آمر اور آئین توڑنے والے 'متنازع سربراہ کی کھل کر حمایت کریں؟'

واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'فوجی قیادت چاہتی ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان واپس لایا جائے'، انھوں نے یہ بھی تصدیق کی تھی پرویز مشرف کے اہلخانہ سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں تمام سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں پرویز مشرف کی واپسی پر انھیں تعاون فراہم کرنے کا کہا۔تاہم جنرل (ر) پرویز مشرف کے اہلخانہ نے فی الحال ان کی واپسی کو مشکل قرار دیا ہے۔

انہی سوالوں کے لیے بی بی سی نے لیفٹینٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ سے بات کی جو جنرل (ر) پرویز مشرف کی صدارت کے دوران دو سال ان کے ملٹری سیکرٹری رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'فوج میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کے درمیان مضبوط رشتے کی بنیاد جذبہ یگانگت اور باہمی رفاقت ہے۔ فوج میں کمیشن حاصل کرتے وقت ایک افسر جو حلف اٹھاتا ہے اس کی کوئی مدت میعاد نہیں ہے۔ اسی لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کو پرویز مشرف سے ملنا اور ان کی عیادت کرنا فوج کے اندر ایک بہت مثبت پیغام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرویز مشرف کو فوج میں نہایت عزت و احترام کے ساتھ دیکھا جاتا ہے چاہے موجودہ فوجی قیادت نے ان کے زیرِکمان سرو کیا ہو یا نہ کیا ہو۔'

خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت بریگیڈئر کے رینک میں سروس میں تھے جب فوجی صدر پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عہدہ چھوڑا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ کہتے ہیں کہ اس ملاقات کے سیاسی اور سفارتی فائدے دیکھے جا رہے ہیں۔

12 اکتوبر
Getty Images

'سیاسی طور پر مسلم لیگ ن اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خود نواز شریف کی واپسی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ جبکہ امکان ہے کہ پیپلز پارٹی بھی پرویز مشرف کی واپسی کے فوجی قیادت کے فیصلے کی حمایت کرے گی تاکہ آصف علی زرداری سے متعلق کچھ ریلیف مل سکے۔'

تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج 'بےشک یہ کہتی رہے کہ وہ غیرسیاسی ہے، ایسا ممکن نہیں ہے۔

پاکستان میں فوج پہلے غیرسیاسی ہوئی ہے نہ ہی اب ہو گی۔ اب تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ دوسرا فوج میں روایت ہے کہ نہ صرف اپنے حاضر سروس بلکہ ریٹائرڈ افسران کے ساتھ تعلق قائم رکھا جاتا ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ اگرچہ حالیہ کچھ عرصے میں اس تعلق میں کمی آئی ہے جو کہ خود ادارے کے لیے بھی نقصان دہ ہے، مگر ماضی میں ریٹائر ہونے والے افراد سے ایک تسلسل کے ساتھ رابطہ رکھا جاتا تھا۔'

وہ کہتے ہیں کہ فوج یہ سمجھتی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف بننے والے مقدمات سیاسی نوعیت کے تھے اور وہ نہیں بننے چاہیے تھے۔

لیکن مسلم لیگ (ن) سینیئر تجزیہ کار اور سینیٹر عرفان صدیقی کی رائے قدرے مختلف ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ `یہ روایت بالعموم رہی ہے ایک ادارے کے طور پر۔ فوج ایک انسٹی ٹیوشن کے طور پر سوچتی ہے اور سمجھتی ہے کہ ان کے سربراہان اب بھی ان کی نمائندگی کرتے ہیں اور اگر ان کے ساتھ کوئی غیرقانونی سرگرمی یا جرائم جڑے ہیں، تب بھی ان کا رشتہ ادارے سے قائم ہے۔'

مزید پڑھیے

پرویز مشرف کی موت کی افواہ کیسے پھیلی اور وہ کس بیماری میں مبتلا ہیں؟

وہ کون سی دوائی ہے جو پرویز مشرف کو پاکستان میں نہیں مل سکتی؟

’پرویز مشرف کو معاف کرنے کا حق شریف خاندان کے پاس نہیں‘

پرویز مشرف کون ہیں؟

انھوں نے کہا کہ اب تک صرف سکندر مرزا وہ واحد فوجی تھے جن کی میت پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ `جب اس طرح کی شخصیات کا دفاع ادارہ کرتا ہے ان کو تو فائدہ ہو جاتا ہے لیکن ادارے کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اس فیصلے کا کیا ان کی ساکھ کو بھی کوئی فائدہ پہنچے گا۔'

انھوں نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں کہ آئین کی پاسداری نہ کرنے والے فوجی سربراہ کو پروٹوکول نہ دیا گیا ہو۔

’جنرل ضیاالحق کا نمازجنازہ شاید اب تک کا سب سے بڑا تھا، جنرل ایوب کی میت قومی پرچم میں لپیٹی گئی تھی اور صدر یحییٰ خان کا جنازہ بھی مکمل آنرز کے ساتھ ادا کیا گیا تھا۔ تو ایسی کوئی مثال نہیں کہ فوجی سربراہ کے اعزاز میں کوئی فرق آیا ہو۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے اور فوج میں اب جب جمہوری فکر پروان چڑھ رہی ہے تو ادارے کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے۔‘

پرویز مشرف پاکستان واپس آئیں گے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو ان کے خاندان نے ابھی کرنا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے پر چہ مگوئیاں جاری رہیں گی اور اس ضمن میں ہونے والی کوئی بھی پیش رفت سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کا باعث بنتی رہے گی۔

مسلح افواج سے ریٹائر ہونے والے افسران سے ایک جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ ’آپ ہمیں فوج سے تو نکال سکتے ہیں، مگر ہم اپنے اندر سے فوج کو نہیں نکال سکتے نہ ہم فوج کو چھوڑ سکتے ہیں۔‘

کم از کم جنرل پرویز مشرف کی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ فوج خود بھی انہیں چھوڑنا نہیں چاہتی۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.