bbc-new

یوکرین جنگ: صدر پوتن کے اضافی فوج بلانے کے اعلان پر ہزاروں شہری ملک چھوڑ رہے ہیں

روس کے صدر پوتن کے اضافی فوج متحرک کرنے کے اعلان کے بعد بہت سے روسی شہری ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ فرنٹ لائن پر بھیجے جانے سے بچ سکیں۔ مختلف شہروں میں جنگ مخالف مظاہرے اور گرفتاریاں دیکھی گئی ہیں۔
سامان
Getty Images

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کو یوکرین میں لڑنے کے لیے ’ریزرو‘ یعنی اضافی فوجیوں کو وقتی طور پر دوبارہ متحرک کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد ملک میں بظاہر بدامنی کا ماحول پیدا ہوا ہے۔

یوکرین میں ناکامی جیسی صورتحال کے بعد صدر پوتن نے کہا ہے کہ تقریباً تین لاکھ ریزرو فوجی بلائے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد روس کے مختلف شہروں میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور ایک ہزار سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

مگر ہزاروں شہری احتجاج میں شرکت کرنے کے بجائے ملک چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ فرنٹ لائن پر بھیجے جانے سے بچ سکیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بیرون ملک پروازوں کے ٹکٹ، ان مقامات کے لیے جہاں روسی شہریوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی، فروخت ہو چکے ہیں یا ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

روس
AFP

ماسکو سے ترکی کے شہر استنبول اور آرمینیا کے شہر یریوان کے لیے براہ راست تمام پروازیں بُدھ کو فروخت ہو گئیں۔ روس کی سب سے مشہور فلائٹ بکنگ سائٹ ایویا سیلز کے اعداد و شمار کے مطابق اگلے اتوار تک مزید ٹکٹیں دستیاب نہیں ہیں۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ماسکو سے جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے لیے کچھ راستے بشمول سٹاپ اوور والوں کے لیے بھی ٹکٹیں دستیاب نہیں جبکہ دبئی کے لیے سستی ترین پروازوں کی لاگت 300,000 روبل یعنی تقریباً 5,000 ڈالر سے زیادہ ہے۔

روسی شہریوں کے لیے ایک اور مقبول مقام سربیا کا دارالحکومت بلغراد ہے، جہاں روسی شہریوں کے لیے ویزے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میڈیا کے اداروں نے نشاندہی کی کہ ٹکٹوں کی طلب میں اضافے کی وجہ سے وہ راستہ بھی اب آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔

زمینی رستوں کی صورتحال

بی بی سی کی روسی سروس یہ تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ صدر پوتن کی جانب سے فوجیوں کو جزوی طور پر متحرک کرنے کے اعلان کے بعد ٹیلی گرام پر روس چھوڑنے کے لیے ایسے پیغامات کثرت سے آنے لگے جن میں یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا مردوں کو زمینی سرحدوں کے ذریعے ملک چھوڑنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ’مہلک کھیل‘ میں پوتن نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا؟

’روسی فوجی نشے میں دھت ہو کر حملہ آور ہوتے تھے‘

کیا یوکرین جیسا چھوٹا ملک روس جیسی عالمی طاقت کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے؟

پوتن
Getty Images

ولادیکاوکاز میں چیک پوائنٹ کے ذریعے اپنا ملک چھوڑ کر جارجیا میں داخل ہونے والے الیگزینڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بات کی فکر تھی کہ ہم سرحد کیسے عبور کریں گے۔ لیکن کوئی مسئلہ نہیں تھا، کوئی قطاریں نہیں تھیں۔‘

ان کے مطابق وہ اور تین دوست کار سے روس سے روانہ ہوئے۔ ان میں سے دو مرد ہیں، جن کی عمریں 35 اور 29 سال ہیں۔

الیگزینڈر اور ان کا ایک دوست ریزرو فوجی ہیں لیکن ان کے مطابق بُدھ کو روسی سرحدی محافظوں کو اس طرح کی معلومات اکٹھی کرنے میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ ان سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا۔ وہاں موجود اہلکاروں نے معمول کے سوالات پوچھے: جارجیا کے منصوبے وغیرہ اور آگے کا لائحہ عمل۔ ’ابھی تک کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔‘

والیریا (ان کی درخواست پر نام تبدیل کیا گیا) اور ان کے 33 برس کے شوہر کو بھی بغیر کسی سوال جواب کے جارجیا جانے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق انھوں نے بُدھ کو مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے سرحد عبور کی۔

انھوں نے کہا کہ ’اہلکاروں نے بالکل کچھ نہیں پوچھا، ہم بہت تیزی سے گزر گئے، پورا عمل ایک گھنٹے کے اندر مکمل ہو گیا، ٹریفک جام نہیں ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ رات کو صورتحال بدل جائے گی۔‘

ان کے مطابق، وہ اور ان کے شوہر ہنی مون کے لیے جارجیا جا رہے ہیں اور روس کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ لیکن صدر پوتن کے اعلان کے بعد اب انھیں اس بات کا یقین نہیں رہا کیونکہ ’اب سب کچھ سمجھ سے باہر ہے۔‘

روس
Getty Images

30 برس کے پیٹر نے (جنھوں نے اپنا درست نام استعمال نہ کرنے کا کہا) بی بی سی کو بتایا کہ وہ سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکوو ہوائی اڈے پر پاسپورٹ کنٹرول سے گزرے اور استنبول کے لیے پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ انھوں نے کافی عرصہ پہلے ٹکٹ خریدا تھا۔

’سرحد پر فوجی خدمات کے لیے رجسٹریشن اور صدر پوتن کی طرف سے اعلان کے بارے میں کسی نے کچھ نہیں دریافت کیا۔‘

کیا روسی مرد ملک سے باہر نکل سکتے ہیں؟

بُدھ کے روز نہ تو صدر ولادیمیر پوتن نے اپنی تقریر میں اور نہ ہی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اس بارے میں کچھ کہا کہ آیا جزوی طور پر متحرک کیے جانے والے مردوں کو روس چھوڑنے سے روکا جائے گا۔

صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے کہ آیا سرحدیں ان لوگوں کے لیے بند کر دی جائیں گی جو جزوی طور پر متحرک ہیں۔ انھوں نے آئندہ اس معاملے کو واضح کرنے کا وعدہ کیا۔

روس، مظاہرے
Reuters

کریملن کے نمائندے کے حوالے سے انٹرفیکس ایجنسی نے کہا کہ ’موجودہ قوانین میں اس مسئلے پر مختلف دفعات ہیں۔ہمیں تھوڑا صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس معاملے پر وضاحتیں آئیں گی۔‘

روسی وفاقی سیاحتی ایجنسی کی سربراہ زرینہ ڈوگوزووا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر لکھا کہ روسیوں کے لیے فی الوقت بیرون ملک سفر کے لیے کوئی اضافی پابندیاں متعارف نہیں کرائی گئی ہیں۔

بی بی سی کی روسی سروس کے ذریعے انٹرویو کیے گئے وکلا کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے کہ آیا کوئی قانون مردوں کو جزوی طور پر متحرک ہونے کی شرائط میں بیرون ملک سفر کرنے سے منع کرتا ہے۔

وکیل الیگزینڈر پیریڈرک کے مطابق ’پابندی کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو مسلح افواج میں رجسٹرڈ ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ متحرک ہونے کے لیے بھرتی کے تابع ہیں یا نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ نہیں معلوم کہ یہ پابندی عملی طور پر کیسے کام کرے گی اور کیا غیر ملکی سفر پر پابندی ہوگی۔ میں نے حکام کے عوامی بیانات دیکھے ہیں کہ کوئی پابندی نہیں ہوگی، لیکن قانون اس کی وضاحت کرتا ہے کہ خصوصی اجازت کے بغیر باہر جانا منع ہے۔‘

وکیل آرسینی لیونسن نے کہا کہ اس وقت روس میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کے تحت جزوی طور پر متحرک ہونے والے فوجیوں کو ملک چھوڑنے سے منع کیا جا سکے۔

روسی قانون ان شہریوں کی جنس کی وضاحت نہیں کرتا جنھیں متحرک ہونا چاہیے۔

ایسی خواتین جنھوں نے جنگی گراؤنڈ یونٹس میں خدمات انجام نہیں دی ہیں انھیں ملٹری سروس کے لیے بلایا جا سکتا ہے، اگر وہ فوج میں رجسٹرڈ ہیں اور کمپیوٹر انجینیئرنگ، طب، یا پرنٹنگ اور میپنگ جیسے زمروں میں مہارت رکھتی ہیں۔

دریں اثنا ہزاروں روسیوں نے بدھ کی رات مختلف شہروں میں جنگ مخالف مظاہروں میں شرکت کی۔ بہت سے لوگوں نے کہا ہے کہ انھیں تفتیش کے لیے طلبی کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اور کچھ کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.