bbc-new

سارہ انعام قتل کیس: ملزم شاہنواز امیر کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد میں عدالت نے کینیڈین شہری سارہ انعام قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کر دیا ہے اور شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے کینیڈین نژاد پاکستانی شہری سارہ انعام کے قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کا مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے جبکہ اُن کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

پیر کر سینیئر سول جج عامر عزیز کی عدالت میں سماعت کے دوران مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا اور تفتیشی افسرنے ملزم کے مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس نے ابھی مقتولہ کا پاسپورٹ برآمد کروانا ہے جو ایک اہم دستاویز ہے اور اسی کی مدد سے اُن کی سفری تفصیلات کا معلوم ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ 23 ستمبر کو سارہ انعام کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں قتل کر دیا گیا تھا اور اس قتل کے الزام میں اُن کے شوہر شاہنواز امیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شاہنواز کے والد اور سینیئر صحافی ایاز امیر کو بھی بعدازاں حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انھیں شواہد کی عدم موجودگی کے باعث انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری ہوئے تھے۔

پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران سارہ انعام کی فیملی کی جانب سے بھی وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور ان خدشات کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں واقع شاہنواز کے گھر میں سارہ کا قتل ہوا ہے اور اگر 14 روز گزرنے کے باوجود مقتولہ کا پاسپورٹ برآمد نہیں ہو سکا ہے تو یہ عمل ملزم کو سزا سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ تفتیش میں کمی یا کوتاہی کی وجہ سے یہ کیس خراب نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے مختصر سماعت کے بعد پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم شاہنواز کو مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

شاہنواز امیر
BBC

ادھراسلام آبادکے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل شیخ کی عدالت نے سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

پیر کے روز سماعت کے دوران سارہ انعام کے والد انجینیئر انعام الرحیم کی جانب سے راؤ عبد الرحیم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ثمینہ شاہ اپنے وکیل ارسل امجد ہاشمی کی ہمراہ عدالت پیش ہوئیں۔

راؤ عبدالرحیم ایڈوکیٹ نے کہا کہ ’فیملی کی طرف سے کہا گیا کہ کسی بے گناہ کو اس کیس میں ملوث نہیں کرنا چاہتے، انھیں مزید وقت دیا جائے، یہ اپنے دفاع میں جو لانا چاہتے ہیں لے آئیں، میں نے بھی اس حوالے سے کچھ شواہد دیکھنے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’سنہرے دل کی مالک‘: اسلام آباد میں قتل ہونے والی ’اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت‘ سارہ انعام کون تھیں؟

’جانوروں کی طرح مار کر میرا شوہر کہتا کہ چلو کہیں باہر کھانا کھانے چلتے ہیں‘

ساجدہ تسنیم کا قتل: ’ساس سسر کہتے تھے آسٹریلیا کو بھول جاؤ، تم نے یہیں رہنا، یہیں مرنا ہے‘

عدالت نے مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ سارہ انعام کی فیملی کے وکیل کی استدعا پر سماعت سات اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

ایاز امیر کو رہا کرنے کا حکم

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد کی عدالت نے سارہ انعام کے قتل کے مقدمے سے سینیئر صحافی ایاز امیر کا نام نکالنے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ پولیس نے شاہنواز کے فارم ہاؤس سے اسلحہ برآمد کرتے ہوئے ان کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

کیس کی گذشتہ سماعت پر تفتیشی ٹیمنے مقدمے کے شریک ملزم ایاز امیر کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم ایاز امیر کے وکیل ایڈووکیٹ بشارت اللہ کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کے خلاف پولیس کے پاس کوئی ثبوت ہے۔

بشارت اللہ کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے وقت ملزم ایاز امیر چکوال میں موجود تھے اور واقعے کا علم ہونے پر انھوں نے خود پولیس کو اطلاع دی۔ وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ 35 برس سے ایاز امیر کا اُس فارم ہاؤس سے کوئی تعلق نہیں تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

ایاز امیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس عدالت کو آگاہ نہیں کر سکی کہ کن ثبوتوں کے تحت ایاز امیر کو گرفتار کیا تھا۔

اس تفصیلی سماعت کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ عامر عزیز نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ایاز امیر کے خلاف صفحہ مثل پر کوئی ثبوت نہیں ہیں چنانچہ اُن کا نام مقدمے سے خارج کرنے اور رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

اس سے قبل 26 ستمبر کو ملزم کی والدہ ثمینہ شاہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ملزمہ کا نام مقتولہ کے چچا نے نامزد کیا تاہم وہ قتل کی عینی شاہد نہیں ہیں اور نہ ہی اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی والدہ کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ پیش آنے کے بعد ملزم کے والد ایاز امیرنے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ’یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے اور خدا کرے ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو۔‘

واقعہ کیسے پیش آیا تھا؟

فائل فوٹو
Getty Images
فائل فوٹو

پولیس کے مطابق سارہ انعام کے قتل کا یہ واقعہ 23 ستمبر بروز جمعہ صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا تھا۔

اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کی اس واردات کی اطلاع ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی تھی۔

اطلاع ملنے پر پولیس چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پہنچی تو ملزم نے پولیس کو دیکھتے ہی خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا تاہم پولیس نے کمرہ کھلوانے کے بعد ملزم کو قابو میں کر لیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق جب ملزم کو کمرے سے نکالا گیا تو اُن کے کپڑوں پر خون کے دھبے موجود تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں پولیس کو بتایا کہ انھوں نے لڑائی کے دوران اپنی اہلیہ سارہ انعام کے سر پر ڈمبل مارا اور بعدازاں ان کی لاش کو واش روم میں چھپا دیا۔

ایف آئی آر میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم نے آلہ قتل یعنی ڈمبل بھی خود برآمد کروایا جس پر انسانی خون اور بال لگے ہوئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے ڈمبل کے متعدد وار کر کے اپنی اہلیہ کا قتل کیا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.