اسد عمر نے عدالت سے معافی مانگ لی

image

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں پی ٹی آئی دھرنا اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، جس میں رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے اپنی تقریر پر بینچ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ان کا مقصد کسی ادارے کی توہین کرنا نہیں تھا، جس کے بعد عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ دھرنا اور لانگ مارچ ختم ہوگیا ہے درخواستیں نمٹاتے ہیں۔

عدالت سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی اسد عمر نے کہا کہ ہمار ے دور میں روس سے تیل رعایتی قیمت پر خریدنے کی بات ہوئی تھی، آج حکومت 8ماہ بعد روس سے سستا تیل خریدنے کی بات کررہی ہے،حکومت کوغلط بیانیوں پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی آج پھر اسمبلیوں کو تحلیل کرنے پر مشاورت کرے گی، جب تک امپورٹڈ حکومت موجود ہے ملک میں مسائل ہوں گے، جس دن عمران خان نے اسمبلی تحلیل کی بات کی حکمرانوں کی چیخیں سنائی دی گئیں۔، راناثنااللہ نے کہا اسمبلیاں بچانے کے لیے ہرحربہ استعمال کریں گے، ہم کہہ رہے ہیں میدان چھوڑ کرنہیں جارہے، ہم تو عوام میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 

واضح رہے دو روز قبللاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے تقریر کے دوران عدالتوں اور ججز کو ’متنازع‘ کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو سات دسمبر کو طلب کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت کسی بھی ادارے اور شخصیت کو متنازع نہیں بنایا جاسکتا۔

بینچ کے جج جسٹس جواد حسن نے ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ پنڈی بنچ کی درخواست پر اسد عمر کے خطاب کی جواب طلبی کی تھی، عدالت نے اسد عمر کا ویڈیو بیان اور ٹرانسکرپٹ بھی طلب کیا تھا، عدالت کا کہنا تھا کہ اسد عمر نے 26 نومبر کے جلسے میں عدالتوں کو متنازع کیا اور اس تقریر میں ہی اسد عمر نے عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت کسی بھی ادارے اور شخصیت کو متنازعہ نہیں بنایا جاسکتا، عدالت کو اختیار ہے کہ آرٹیکل 204 بی کے تحت سزا دے سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دھرنوں کےخلاف درخواستوں اور اسد عمر کی تقریر پر پرسوں سماعت کرینگے۔

 


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.