Love Poetry in Urdu & Romantic Shayari in Urdu Text
Love poetry has always been a beautiful way to express emotions, and through romantic shayari in Urdu, feelings between a husband and wife become even more special. Whether it’s heartfelt messages, touching sms, or short 2 lines of poetry, these verses capture love in the purest form. Perfect for sharing with your partner, this collection of poetry strengthens relationships and brings hearts closer together.
Most Famous Love / Romantic Poetry
- LATEST POETRY
- اردو
ہم پر یہ کسی خواب کا سایہ تو نہیں تھا
دن بھر کی تھکن روح پہ پتھر سی گری تھی
ورنہ ہمیں بستر نے بلایا تو نہیں تھا
ہر شخص بچھڑتے ہوئے خاموش کھڑا تھا
اس شہر میں رونے کا امادہ تو نہیں تھا
اک درد مسلسل تھا رگِ جاں میں اُترتا
یہ زخم کسی ایک کا بخشا تو نہیں تھا
ہم جس کو سمجھتے رہے اپنا ہی مقدر
وہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دنیا تو نہیں تھا
اب تلخئِ حالات نے ایسا ہمیں بدلا
پہلے کبھی لہجہ یہ کڑوا تو نہیں تھا
وشمہ یہ اندھیروں سے محبت بھی عجب ہے
دل ٹوٹ گیا ورنہ اجالا تو نہیں تھا وشمہ خان وشمہ
ریت کے صحرا میں جیسے کوئی چھاں دیکھی ہے
رات بھر جاگتی آنکھوں میں نمی رہتی ہے
میں نے تکیے پہ تڑپتی ہوئی جاں دیکھی ہے
اپنے حصّے کی خوشی بیچ کے بچوں کے لیے
ہر تھکن ہنستے ہوئے سہتی ہوئی آں دیکھی ہے
بھوک بچوں کی مٹا دے تو سکوں ملتا ہے
روٹی کم تھی مگر بانٹتی واں دیکھی ہے
گھر کی دیوار گرنے لگی جب غم آ کر
سب سے پہلے وہاں ڈھال بنی ساں دیکھی ہے
عمر بھر خود کو جلاتی رہی اک شمع کی طرح
اپنے بچوں میں بکھرتی ہوئی گاں دیکھی ہے
اب بھی رونے لگوں تنہائی میں اُس کو یا د کر
میں نے وشمہ بہت درد بھری آں دیکھی ہے وشمہ خان وشمہ
سارے جگ سے اس کی سادہ روشنی اچھی لگی
سرد راتوں میں دعا بن کر مرے سر پر رہی
ماں کے ہاتھوں کی وہ نرم آگہی اچھی لگی
بھوک کے عالم میں بھی اس نے ہنسا کر رکھ دیا
اس فقیرانہ محبت کی خوشی اچھی لگی
گھر کے ٹوٹے در، پرانی چارپائی، نیم شب
ماں کے پہلو میں مگر ہر بےکسی اچھی لگی
شہر بھر نے زر کی چمکوں کو عبادت کہہ دیا
مجھ کو ماں کے آنسوؤں کی چاندنی اچھی لگی
جب کبھی دنیا نے مجھ سے میری پہچان چھینی
ماں نے پکارا تو اپنی زندگی اچھی لگی
اے وشمہ دنیا کی رنگینی میں دل لگتا نہیں
ماں کی جھولی، ماں کی میلی گودنی اچھی لگی وشمہ خان وشمہ۔
چاند جیسے اِک دعا کا پھر نزولا ہو گیا
رات بھر دیوار و در سنتے رہے خاموشیاں
صبح اُس کے مسکرانے سے سویرا ہو گیا
خشک ہونٹوں پر تبسم کی نمی اُتری تو پھر
صحن کا بوسیدہ پودا بھی ہرا بھرا ہو گیا
اپنی محنت کی کمائی سے جلایا تھا چراغ
اِک ذرا سی روشنی میں دل بھی یہ بڑ ا ہو گیا
باپ کے چہرے کی تھکن آخر کہاں جاتی رہی
بیٹیوں کو ہنستے دیکھا تو وہ ہلکا ہو گیا
عمر بھر جس کو چھپاتے پھر رہے تھے آنسوؤں میں
اِک محبت کے ملنے سے وہ قصہ ہو گیا
اب و شمہ اس شہر میں تنہا نہیں لگتا مجھے
تیری یادوں کا مرے دل میں بسیرا ہو گیا وشمہ خان وشمہ
نگاہ اُس کی مرے ہر نقشِ پا میں رہتی ہے
میں جب بھی گھر سے نکلوں تو دل یہ کہتا ہے
وہ ایک ہستی مرے حق کی صدا میں رہتی ہے
ہوا کے رخ پہ بھی ماں کی نظر ٹھہرتی ہے
وہ میرے واسطے ہر دم وفا میں رہتی ہے
میں ڈوب جاؤں اگر غم کے کسی اندھیرے میں
مرے لیے وہ چراغوں کی ضیا میں رہتی ہے
کبھی جو ٹوٹ کے بکھروں تو یہ گماں ہو مجھے
مری ہر ایک شکست اُس کی رضا میں رہتی ہے
وہ میرے درد کو خود سے جدا نہیں کرتی
عجیب بات ہے، میری قضا میں رہتی ہے
وشمہ یہ اُس کی محبت کا معجزہ ہی تو ہے
مری تمام خوشی اُس کی دعا میں رہتی ہے وشمہ خان وشمہ
میری الفت وہ مجھ کو کچھ ضرورت نہ
چھوڑا سب کچھ میں نے پا کے محبت یہ
مجھے تو اب کسی بھی اور کی چاہت نہ
دیکھی دنیا ملے مطلب کے لوگ مجھ کو
محبت مطلبی سے اور قرابت نہ
محبت کی مہک سے مہکے گلشن اب
جھومے دل خوشی سے اور کوئی چاہت نہ
گزارش مجھ سے الفت کی عجب تیری
ہمی ا ب جا چکے اور کوئی را حت نہ
ہے نکھرا خاکؔ طیبؔ چاہ دل سے اب
سو ا اس کے کسی اور میں لطافت نہ
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
مچائی دل نے ہلچل شب گزشتہ میں
تھا نیند کا حال آئے یا نہ آئے اب
کہیں نہ آئے اب کل شب گزشتہ میں
پکارے مو ت مجھ کو حال آ ہ! کیسا
آ ثا ر مو ت کہں چل شب گزشتہ میں
کہاں آ کے میں ٹو ٹا تھا وہ کون آہ! آہ!
وصال کا نہ ملے حل شب گزشتہ میں
بکھر گیا خاکؔ طیبؔ بن تیرے ہم دم
میرا ہر پل تھا گیا جل شب گزشتہ میں
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
جو ہاتھ تھام کے چلنا سکھایا کرتے تھے
انہی کے سامنے لہجہ بھی تنگ بدل ڈالا
ادب کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں شاید
گھروں میں بچوں نے ہر اک ڈھنگ بدل ڈالا
نہ پوچھ حال کبھی، نہ خیال کوئی رکھا
محبتوں کو بھی جیسے اک جنگ بدل ڈالا
وہ ماں جو رات بھر جاگے تو نیند آ جائے
اسی کے سامنے بیٹے نے رنگ بدل ڈالا
وہ باپ جس نے پسینہ بہا کے گھر رکھا
اسی پہ طعنہ دیا، سارا ڈھنگ بدل ڈالا
"وشمہ" یہ وقت بھی کیا عجب امتحان لایا
اولاد نے ہی رشتوں کا سنگ بدل ڈالا وشمہ خان وشمہ
ابلیس تیری ایک خدا سے نہ بن سکی
ہم آدمی رہے، مگر اس کے نہ بن سکے
اک بات جو قبولِ رضا سے نہ بن سکی
سجدوں میں ہم رہے، مگر تیرے نہ بن سکے
دل میں رہی بغاوت، دعا سے نہ بن سکی
حق بات لب پہ آئی تو لہجہ بدل گیا
وہ بات پھر کسی کی ادا سے نہ بن سکی
سچ کا سفر تھا، ساتھ میں تنہائیاں رہیں
یہ راہ بھی ہجومِ صدا سے نہ بن سکی
کچھ خواب آنکھ بھر کے فقط دیکھتے رہے
تعبیر کوئی لمسِ وفا سے نہ بن سکی
نوید! یہ شکست بھی فتح سے کم نہیں
میں۔۔۔ ہار کر بھی۔۔ اہلِ جفا سے نہ بن سکی
NAVEED SHAH NISHAT
دور ہو کر بھی منزل تجھے کھونا نہیں چاہتے
رو کر بھی دل میں آنسوؤں بہانا نہیں چاہتے
تیری یاد سے جڑ کر بھی تجھے رولانا نہیں چاہتے
تیری کمی کہ غم سہہ کر بھی خود دکھانا نہیں چاہتے
سانسوں سے آہ نکال کر تمہیں بتانا نہیں چاہتے
انس ہم ہزاروں درد سہہ کر
سیف بھائی تجھے اپنے گزشتہ قصہ سنانا نہیں چاہتے
عام الفاظ میں رات بھر جاگنے کا مقصد
کہیں الفاظ میں ہم لانا نہیں چاہتے
خوش ہیں بھائی آپ کی یاد سے اگر
تو پچھلی زندگی کے واقعات جتانا نہیں چاہتے
سوتے ہیں ضرور مگر
ان لمحات کو نیند سے اٹھانا نہیں چاہتے
عشق کا زخم ہی گہر ہے بھائی
جو ہم سینوں سے چاہتے Annas
دلی نفرت مٹے گی گر محبت ہو
کرو آسانیاں پیدا ، نہ زحمت دو
سبھی ظلمت مٹے گی گر محبت ہو
شجاعت تو دکھا شیطاں نفس کو بس
یہ تب قربت مٹے گی گر محبت ہو
مراسم خود بگا ڑو نہ کبھی بھی تم
ساری فرقت مٹے گی گر محبت ہو
محبت کی گزارش کی سبھی سے بس
سبھی نفرت مٹے گی گر محبت ہو
محبت ہو خاکؔ طیبؔ سب جہاں بھر میں
سبھی وحشت مٹے گی گر محبت ہو MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
دل نے مگر یہ مان لیا، آپ کیا نہیں
ہم نے تو چاہا تھا فقط سچ کی روشنی
آپ نے پھر بھی یہ کہا، ہم سے خطا نہیں
آنکھوں میں اک اُداس سی چمک رہ گئی ہے اب
پہلے یہ حال تھا کہ کوئی غم ذرا نہیں
وہ بھی تو اپنے وعدوں سے مُکرے ہیں بارہا
پھر بھی وہ کہتے پھرتے ہیں ہم میں وفا نہیں
کیسے یقین دل کو دلائیں کہ سچ یہی
ہم نے کبھی بھی چاہتوں کو آزما نہیں
رستے جدا ہوئے تو یہ محسوس یوں ہوا
جیسے کوئی بھی اپنے سوا آشنا نہیں
وشمہ" یہ سچ ہے آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں
پر آپ کو بھی اس کا ابھی تک پتہ نہیں وشمہ خان وشمہ
"دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے"
ہم مسکرا رہے ہیں غموں سے نکھار کے
اک خواب سا بسا ہے تری یاد کا نگر
ہم جی رہے ہیں خود کو خیالوں میں مار کے
تجھ سے بچھڑ کے دل کو سکوں مل سکا نہیں
بیٹھے ہیں اپنی روح کو تنہا گزار کے
دن رات ایک تیری تمنا میں جل گئے
ہم رہ گئے ہیں وقت کی صورت سنوار کے
دنیا کے سب ہی رنگ لگے پھیکے اس قدر
جب دیکھ لی ہے صورت تیری ایک بار کے
ہر سمت تیرے نام کی خوشبو بکھر گئی
ہم چل پڑے ہیں راستے خود کو بکھار کے
وشمہ یہ عشق کیا ہے عجب امتحان ہے
جیتے ہیں لوگ خود کو ہی اکثر ہار کے
وشمہ خان وشمہ
ہوئے قتل تم سے ٹکرائی نظر .ظالیماں حسیں . حسیں ظالیماں
نہیں دیکھا کہیں تم سا حسیں حسن حسیں. حسیں ظالیماں
حسیں ہو تم اتنے .حسن حسیں . ظالیماں حسیں حسیں ظالیماں
شادابی.شبنمی .چاندنی.سنہری سونا سا تمھارا بدن. پیار کا نشا
ہے نشیلے ہیرے سا تمھارا بدن .ظالیماں حسیں.حسیں ظالیماں
بینا دل رہے بےکل بے سکوں. ناں من پرسکوں ہمارا تم بن
آئے تم بن ناں ہمیں چین سکوں ظالیماں حسیں .حسیں ظالیماں Bina
پیاری پیاری انکھیاں انکھیاں انکھیاں
ساگر گجرارے نیناں نیناں نیناں
نشیلے ہیرے نیناں نیناں نیناں
ان سے ہم پیار کریں
بےحساب پیار کریں
چاہ کی بات کریں انکھیوں انکھیوں میں
سنگ راتیں گزریں انکھیوں انکھیوں میں
بینا جہاں تڑپائیں وہاں تڑپیں بھی نیناں
پل پل بیتیں کریں انکھیوں انکھیوں میں
ہوجائے من پریشاں سا دل گھبرا جائے ناں
کوئی دیکھے تمھیں ہم سے دیکھا جائے ناں .
ہمارا سنبھلنا مشکل . مشکل دل بھیلانا ہو
ہم خود کو کیسے روکیں سمجھا پائے ناں Bina
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔ MAZHAR IQBAL GONDAL
اُس کا ساتھ میرے لئے
سراپائے سکون ہے
اُس کی آواز اُس کا لب و لہجہ
میری سماعت کو تسکین دیتا ہے
اُس کی دِید اُس کا چہرہ
میری آنکھوں کوتسکین دیتا ہے'
اُس کا احساس اُس کا تصوۤر
میرے وجود کو تسکین دیتا ہے
اُس کی گفتگو اُس کی سوچ
میری رُوح کو تسکین دیتی ہیں
عشق ہے نہ جنون ہے
اُس کا ساتھ میرے لئے
سراپائے سکون ہے
UA
اسی وجہ سے سنورتے ہیں ہمارے ہر دن
تیری گلی میں جو کشکول لیے پھرتے ہیں
تیرے دیدار کے طالب ہیں بیچارے ہر دن
دیار غیر میں اے دل کوٸی امید نہ رکھ
اب ملتے نہیں ہیں ہم کو سہارے ہر دن
ہمیں سکوں نہ میسر تو بےقرار ہیں ہم
دل یہ کہتا ہے کوٸی ہم کو پکارے ہر دن
جو من میں بسی یاد کا محور ہے جمال
کاش وہ یاد ہماری میں گزارے ہر دن
MALIK JAMAL SHAHZAD
درد ایسا تھا کہ ہنس کر بھی چھپایا نہ گیا
ہم نے ہر موڑ پہ چاہا تھا سہارا کوئی
اپنی قسمت سے مگر ہاتھ ملایا نہ گیا
رات آنکھوں میں کٹی، خواب بھی ٹوٹے سارے
دل کا ویران نگر پھر سے بسایا نہ گیا
جس کو اپنا سمجھا، وہی بیگانہ نکلا
زخم ایسا تھا کہ برسوں بھی بھلایا نہ گیا
ہم نے خاموشی کو سینے سے لگا رکھا تھا
حالِ دل پھر بھی زمانے سے چھپایا نہ گیا
وقت کے ساتھ سبھی لوگ بدل جاتے ہیں
دل کو یہ راز مگر پہلے بتایا نہ گیا
اب نا امیدی کے سائے ہیں ہر اک جانب علوی
کوئی امید کا جگنو بھی جلایا نہ گیا Ghulam Farid
Love / Romantic Poetry in Urdu
Love is one of the most powerful feelings in the world, and no language expresses it quite like Urdu. Whether you are in love, missing someone, or want to express your feelings, poetry gives you the perfect words.
Before Parveen Shakir, love poetry was mostly written from a man’s perspective. And who doesn't love it when Ahmad Faraz gives love the feeling of sweet pain?
Types of Love Poetry in Urdu
There are two main types of poetry for love in Urdu:
- Ishq-e-Haqiqi, the spiritual love for the Divine.
- Ishq-e-Majazi, the romantic love for a human being.
Here are some common forms you will find.
- Ghazal – A series of couplets (sher) that follow a specific rhyme and rhythm.
- Nazm – A longer poem with a clear theme.
- Rubai – A four lined poem full of emotion.
- Doha – Short, punchy lines with deep meaning.
Why Is Urdu the Language of Love?
Urdu has a natural softness and music in it. Even simple sentences sound poetic in Urdu. Love poetry in Urdu feels like the poet is speaking directly to your heart.
Evolution of Love Poetry
In the old days, romantic poetry was mostly about longing from a distance. More like loving someone you could never truly be with.
Today, it has become more realistic. Modern poets write about the problems of today’s world, like how technology affects relationships or how people talk to each other in real life, while still keeping the grace and beauty of the Urdu language
Which Cities in Pakistan are known for Celebrating Love Poetry?
Lahore and Karachi are famous hubs for love poetry. Lahore’s Pak Tea House and Alhamra Arts Council, along with Karachi Arts Council, often host romantic poetry sessions and mushairas.
Where Can Readers Buy Love Poetry Collections in Pakistan?
Lahore’s Anarkali Bazaar and Readings Bookstore, as well as Karachi’s Urdu Bazaar and Liberty Books, are great places to find popular collections of love poetry.
Do Literary Festivals in Pakistan Highlight Love Poetry?
Yes, literary festivals in Pakistan often celebrate love poetry, featuring classical poets like Faiz and Parveen Shakir along with modern writers.
User Reviews
I love looking through this specific page to grab sharp, confident lines for my daily status updates. The poetry is very clever and matches my energy perfectly.
- Sameen Faisal , Islmabad
Brilliant collection of poetry lines, perfect for copying and updating my WhatsApp status instantly.
- Zohaib Haasan , Lahore
The collection is very expressive and captures deep emotions perfectly. Great for sharing on social media.
- Kristy Daniel , Manchester





