بھارتی نائب صدر کے اروناچل پردیش کےدورے پر چین کی وارننگ

image

چین نے بھارتی نائب صدر کے اروناچل پردیش کے دورے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرقانونی طور پر قائم کی گئی اس ریاست میں بھارتی رہنماوں کے دوروں سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں لہٰذا بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ چین اس دورے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بھارت سے درخواست کرتا ہے کہ  وہ چین کے خدشات کا احترام کرے اور کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائے جس سے سرحدی مسئلہ پیچیدہ اور باہمی اعتماد و دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچے۔

خیال رہے چین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے شمال مشرقی صوبے اروناچل پردیش میں 90 ہزار مربع کلومیٹر کا رقبہ تبت کا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور بھارتی رہنما معمول کے مطابق ریاست اروناچل پردیش کا سفر کرتے ہیں لہٰذا ہم ایسے تبصروں کو مسترد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 9 اکتوبر کو بھارت کے نائب صدر نے متنازع ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ریاستی اسمبلی سے خطاب اور ریاستی دارالحکومت اٹانگر میں ایک پیپر ری سائیکلنگ یونٹ کا افتتاح بھی کیا تھا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.