وقاص گورایہ کی جانب سے خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری

image
ڈچ حکام کو شکایت کے باوجود نیدرلینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر وقاص گورایہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سال 2018  سے ہی وہ پاکستانی خواتین صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کے خلاف بدسلوکی اور غیر اخلاقی زبانی استعمال کرتے آرہے ہیں۔

 فہرست تو طویل ہے، لیکن متاثرہ خواتین میں نسیم زہرہ، مونا خان، جویریہ صدیقی، شفا یوسفزئی، انعم شیخ، سنتھیا رچی، فریحہ ادریس، غریدہ فاروقی اور ملیحہ ہاشمی شامل ہیں۔

وقاص گورایہ خواتین میڈیا پرسنز کے خلاف ان کا نام لے کر بدترین قسم کی جارحانہ زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔

خواتین صحافیوں کو نشانہ بنانے والے واضح الفاظ، اور ان کے خلاف بلا روک ٹوک غلط مہم کو نیدرلینڈ کے متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ ٹویٹر کو شکایات کے باوجود روکا نہیں جا سکا۔

Since 2018 he is abusing me and other female journalists of Pakistan bt sadly @GeorgeSalama @Jawaherabh @Paraga @karahinesley @nickpickles @verified didn't take any action.

— Javeria Siddique (@javerias) January 14, 2022

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کے خلاف گھٹیا مہم چلانے سے بھی گریز نہیں کیا۔

چند روز قبل سکھر پریس کلب نے سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

For your attention @NLAmbPlomp plz. https://t.co/NiJgYYAIOG

— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) January 9, 2022

پریس کلب نے ایک بیان میں کہا کہ ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات قابل مذمت ہیں۔

Women Journalists Association of Pakistan #WJAPK strongly condemns harassment against Women https://t.co/z99f450PkA 1 can control women Journalists freedom of [email protected]@fahmidahyousfi @sumrkhan1 @MalBokhari @CPJAsia @PanhwarJaffar @92newschannel @aaj_urdu @MyraAzam pic.twitter.com/vsBfPvfvyC

— Fauzia Kalsoom (@FauziaKalsoom) January 13, 2022

ایک بیان میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بھی وقاص گورایہ کی جانب سے خواتین کو ہراساں کیے جانے پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی حکومت سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

The people of Pakistan demand strict action against Netherland based Waqas Goraya @AWGoraya for abusing and harassing female journalists in Pakistan. @NLAmbPlomp @Politie @[email protected] @NLcivilsociety pic.twitter.com/fXCeIpHeIF

— SZ (@SZKwrites) January 17, 2022

بدقسمتی سے، سوشل میڈیا کو عام طور پر بہت سے لوگ نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

This is the first time or perhaps the last time a Woman Journalist is harassed by this paid foreign backed WhatsApp. Let’s discuss them and know other characters too https://t.co/FALBmAgKUO https://t.co/BQi5tGaZKc

— Addy (@adnanminhas91) January 9, 2022

 خدشہ ہے کہ اگر یہ رجحان بغیر کسی جانچ کے جاری رہا تو ریاستی حکام اسے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی وجہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں،  جس سے بالآخر آزادی اظہار پر قدغن لگ جائے گی۔

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.