تھامس کپ: کس طرح کرکٹ کے دیوانے انڈیا نے بیڈمنٹن کا تاج اپنے سر پہنا

انڈیا کی بیڈ منٹن ٹیم نے سب مشکلات کے باوجود انڈونشیا کے خلاف تھامس کپ کا فائنل جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
Team India pose with their medals on the podium during day eight of the BWF Thomas and Uber Cup Finals at Impact Arena on May 15, 2022 in Bangkok, Thailand
Getty Images
انڈیا کی مردوں کی بیڈمنٹن ٹیم تھامس کپ کا فائنل جیت کر جشن مناتے ہوئے

انڈیا کی بیڈمنٹن ٹیم نے اتوار کو 14 مرتبہ چیمپئن رہنے والے انڈونیشیا کو ہرا کر 2022 کے تھامس کپ کا مردوں کا فائنل جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ سپورٹس جرنلسٹ سوسن نینان انڈیا کی ٹیم کے لیے اس ٹائٹل کی اہمیت کے بارے میں بتا رہی ہیں جو اس مقابلے کی 73 سالہ تاریخ میں پہلے کبھی فائنل میں نہیں پہنچی تھی۔

اتوار کو انڈیا نے انڈونیشیا کے خلاف فائنل کھیلا جو ٹیم ایونٹ کے حوالے سے اس کھیل میں سب سے کامیاب ملک ہے۔

انڈیا کی مردوں کی ٹیم بیڈ منٹن کے کھیل کی عالمی چیمپئن شپ میں شاذ و نادر ہی کبھی کوئی ناقابلِ فراموش کارکردگی دکھا پائی ہے۔ لیکن تھامس کپ کی اس جیت میں وہ تمام اجزا موجود ہیں جو اسے ناقابلِ فراموش بناتے ہیں: نایاب کارکردگی، ناقابل یقین اور پر اثر صلاحیت۔

سنگلز کے کھلاڑی لکشیا سین دنیا کے پانچویں نمبر کے کھلاڑی انتھونی سینی سوکا گنٹنگ سے ایک گیم سے ہار رہے تھے لیکن بعد میں انھوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انڈیا کو 1-0 سے برتری دلائی۔

اس کے بعد، ڈبلز کی جوڑی، ساتوک سائراج رنکی ریڈی ۔ چراگ شیٹی، نے تین دفعہ کے عالمی چمپئن محمد احسن اور کیون سنجایا سوکامولجو کے خلاف چار میچ پوائنٹس نیچے سے واپسی کرتے ہوئے دو صفر سے برتری حاصل کی۔

آخر میں کھیل میں جیت کا بھار سابق عالمی نمبر ایک کدامبی سری کانت کے کاندھوں پر آ پڑا، جو خوش قسمتی سے پورے ہفتے کوئی میچ بھی نہیں ہارے تھے۔ سری کانت نے اس فائنل میں اپنی زندگی کا بہترین میچ کھیلا۔ اس میں ان کے بہترین ریفلیکس ریٹرنز، سمیش فالو اپ چارجز اور کراس کورٹ سمیش شامل تھیں جو کہ نسلوں تک یاد رکھی جائیں گی۔

India's Kidambi Srikanth hits a return against Indonesia's Jonatan Christie during the men's finals of the Thomas and Uber Cup badminton tournament in Bangkok on May 15, 2022
Getty Images
سابق نمبر ون کدامبی سری کانت نے اپنی زندگی کا سب سے بہترین میچ کھیلا

کیا انڈیا کی ٹیم فیورٹ تھی؟

تھامس کپ 1900 کی دہائی کے انگلش کھلاڑی جارج ایلن تھامس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انھوں نے فٹ بال کے ورلڈ کپ اور ٹینس میں ڈیوس کپ کی طرز پر بیڈمنٹن کے لیے چیمپئن شپ ٹورنامنٹ کا خیال پیش کیا تھا۔

سنہ 1948 میں ایونٹ شروع ہونے کے بعد سے اب تک انڈیا نے ٹورنامنٹ کے 32 ایڈیشنز میں سے صرف 13 کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔

ٹورنامنٹ کی سات دہائیوں پرانی تاریخ میں چیمپئن شپ کا ٹائٹل صرف پانچ ممالک، چین، ملائیشیا، انڈونیشیا، جاپان اور ڈنمارک کے درمیان ہی رہا ہے۔

اتوار کی فتح کے بعد انڈیا اس منفرد کلب میں شامل ہونے والا چھٹا ملک بن گیا ہے۔

انڈیا اس ماہ کے آغاز میں 16 ملکی ٹیم ایونٹ میں اپنی بہترین مردوں کی ٹیم کے ساتھ داخل ہوا تھا اور کھلاڑیوں کے واٹس ایپ چیٹ گروپ پر ایک جرات مندانہ دعویٰ بھی گردش کر رہا تھا، اور وہ تھا: ’یہ (ٹرافی) گھر آ رہی ہے۔‘

India's Satwiksairaj Rankireddy (R) and Chirag Shetty (L) compete against Indonesia's Mohammad Ahsan and Kevin Sanjaya Sukamuljo during the men's finals of the Thomas and Uber Cup badminton tournament in Bangkok on May 15, 2022
Getty Images
انڈیا کے ڈبلز کے کھلاڑی ستوک رنکی ریڈی اور چراغ شیٹی

شاید انڈین ٹیم وہ واحد ٹیم تھی جس کے کھلاڑی بغیر کسی لوگو کے سادہ سی یونیکس شرٹس میں ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہے تھے، کیونکہ ٹیم کے پاس ابھی تک کوئی آفیشل سپانسر نہیں ہے۔ (ہو سکتا ہے کہ اس جیت کے بعد کوئی کارپوریٹ دلچسپی پیدا ہو)۔

یہ ٹیم بالکل انڈر ڈاگ بھی نہیں تھی، جیسے 2015 کی انگلش پریمیئر لیگ میں لیسٹر سٹی، جس کے جیتنے کے امکانات پانچ ہزار میں سے ایک فیصد تھے۔ لیکن نہ ہی یہ کوئی فیورٹ ٹیم تھی۔

وہ ایک پوزیشن میں تھے جہاں وہ جیت کا خواب ضرور دیکھ سکتے تھے، لیکن پھر بھی بہت زیادہ مطمئن ہونے کی گنجائش نہیں تھی۔

اگلے کئی دن انڈیا نے بہترین ٹیموں جیسا کہ ملائیشیا اور ڈنمارک کے خلاف بہترین کارکردگی دکھائی اور ٹاپ سیڈز اور دفاعی چیمپئنز کے خلاف جیت کر بڑی رکاوٹوں کو عبور کیا۔ بالآخر فائنل میں پہنچ کر اس نے تاریخی مقام حاصل کر لیا۔

جیت کی لگن

کرکٹ کے شیدائی انڈیا میں اب بھی بیڈمنٹن زیادہ تر جنوبی ریاستوں میں ہی کھیلا جاتا ہے۔ ان میں بنیادی شہر حیدرآباد اور بنگلور ہی ہیں جہاں اس کھیل کو کچھ پذیرائی ملتی ہے۔

تاہم اس کھیل نے ملک کو دو اولمپک میڈلسٹ اور دو آل انگلینڈ چیمپئنز بھی دیے ہیں اور یہ ان کھلاڑیوں کی انفرادی محنت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

سندھو: سب سے زیادہ کمائی کرنے والی کھلاڑیوں میں ساتویں نمبر پر

’سیکسسٹ‘ ٹویٹ: ثائنہ نہوال سے ’اپنے غیرمہذب مذاق پر معافی مانگتا ہوں‘

انڈین جمناسٹ نے بی ایم ڈبلیو کار واپس کر دی

لہذا تھامس کپ میں جیت کے بعد 10 کھلاڑیوں کے پوڈیم میں آنے سے اس کھیل میں مردوں کی ٹیم کی اجتماعی محنت اور طاقت کا بھی پتہ چلتا ہے، جہاں پہلے آپ ہمیشہ اپنے آپ کو آگے رکھنے کے لیے محنت کرتے تھے۔

سب سے سینیئر دو انڈین کھلاڑیوں، ایچ ایس پرینائے اور کدامبی سری کانت، نے کمیونیکیشن اور یقین کے ذریعے اس کے لیے شعوری طور پر بہت محنت کی ہے۔

Lakshya Sen hits a return against Indonesia's Anthony Sinsuka Ginting during the men's finals of the Thomas and Uber Cup badminton tournament in Bangkok on May 15, 2022
Getty Images
لکشیا سین ایک گیم ہار چکے تھے جب وہ کھیل میں واپس آئے اور میچ جیتا

پرینائے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اپنے کیریئر میں کبھی بھی اس طرح کی ٹیم کا حصہ نہیں رہا ہوں۔ کئی ہفتوں تک جب آپ اپنے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات اچانک گروپ کے طور پر سوچنا یا ذاتی عزائم کو بھول جانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ ’سری کانت اور میں نے شروع ہی میں کھلاڑیوں کے ساتھ اپنی ٹیم میٹنگز کرنے کا فیصلہ کیا جہاں ہر کوئی بات کر سکتا ہے۔‘

پرینائے نے کہا، ’جیتنے کے لیے کوئی رینکنگ پوائنٹس نہیں ہیں، کوئی انعامی رقم نہیں، یہ صرف آپ کی ٹائٹل کی بھوک ہے۔ یہ وہی ہے جو ہر کوئی چاہتا تھا، اور یہی آگ ہمیں لے کر چلی۔‘

اتوار کے روز کھلاڑی کورٹ میں اشتہاری بورڈز پر سے چھلانگ لگا کر داخل ہوئے اور پھر انڈیا کے ٹائٹل جیتنے کے بعد جشن منایا۔ لیکن ٹیم کے منیجر ومل کمار خاموشی سے پیچھے رہے، ان کے لیے جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔

سابق قومی کوچ کمار نئے کھلاڑیوں کی نسل کو تیار کرنے کے لیے پردے کے پیچھے نہایت ہوشیاری سے کام کر رہے ہیں۔

Team India celebrates after victory over Team Indonesia during day eight of the BWF Thomas and Uber Cup Finals at Impact Arena on May 15, 2022 in Bangkok, Thailand
Getty Images
انڈین کھلاڑی جیت کا جشن مناتے ہوئے

کوچ کا تعلق انڈیا میں بیڈمنٹن کے کھیل کے اس دور سے ہے جہاں سنگلز کے ہیروز کو ڈبلز میچز بھی کھیلنا پڑتے تھے کیونکہ اچھے کھلاڑیوں کی اشد کمی تھی۔ اس لیے تھامس کپ کا ٹائٹل تو ابھی تک ایک خواب ہی رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے وہ ٹرافی اپنے ہاتھ میں صرف اپنے آپ کو یہ یقین دلانے کے لیے پکڑی تھی کہ واقعتاً ایسا ہوا ہے۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں اس جیت کو ہر اولمپک اور آل انگلینڈ ٹائٹل سے اوپر رکھوں گا جو ہم نے جیتا ہے۔‘

پچھلی دہائی کے دوران یہ سائنا نہوال اور پی وی سندھو جیسی خواتین ہیں جو انڈیا کی بیڈمنٹن میں پیش پیش رہی ہیں۔

اگرچہ مرد کھلاڑی بھی بہت اچھے تھے لیکن وہ زیادہ تر نظروں سے اوجھل رہے۔ حال ہی میں ایک نئے دور کے آثار نظر آ رہے ہیں، اور مردوں نے ورلڈ چیمپیئن شپس اور آل انگلینڈ مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اور اب یہ تھامس کپ چیمپئنز ہیں۔

اس ہفتے سندھو کی قیادت میں خواتین کھلاڑی مردوں کے میچ دیکھنے کے لیے سٹینڈز میں آئیں۔ خواتین کی ٹیم اپنے متعلقہ ٹیم ایونٹ، اوبر کپ، کے کوارٹر فائنل میں ہار گئی تھی اور ان میں سے زیادہ تر کو جلد ہی بنکاک سے جانا تھا۔

لیکن بیڈمنٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا نے ان کے ٹکٹوں کو ری شیڈول کیا تاکہ وہ مردوں کی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر سکیں اور انڈونیشیائی شائقین کے تالیوں کے شور کا مقابلہ کر سکیں۔

پرینائے کہتے ہیں کہ ’ہمیں ان کی حمایت چاہیے تھی، ہم چاہتے تھے کہ وہ رکی رہیں اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔‘

’یہ ہندوستانی بیڈمنٹن کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک یا دو کھلاڑیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ بطور ایک قوم، ہم نے خود کو دنیا کے بہترین کھلاڑی کے طور پر دکھایا ہے۔ ہم نے اس کھیل میں پہلے کبھی ایسا نہیں کیا۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.