امریکی ریاست ٹیکساس کے سکول میں فائرنگ، 18 بچوں سمیت 20 ہلاک

image
امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ایک سکول میں نواجوان نے فائرنگ کر کے 18 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک کر دیے ہیں جو کہ رواں سال کے دوران سکول پر فائرنگ کا بدترین واقعہ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق واقعہ منگل کو یوویلدے کے علاقے میں پیش آیا جو میکسیکو کے بارڈر سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اس حوالے سے صحافیوں کو بتایا کہ بندوق بردار شخص کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے سکول پر حملے سے قبل اپنی دادی پر بھی فائرنگ کی۔ اس نے تھوڑی دور گاڑی کھڑی کی اور چھوٹی بندوق لے کر سکول میں داخل ہوا۔

گورنر کے مطابق حملہ آور نے اپنا نام سالویڈر رامس بتایا اور وہ امریکی شہری اور قریبی علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو ہلاک کر دیا ہے۔

ٹیکساس کے سٹیٹ سینیٹر رولینڈ گٹیئرز نے سی این این کو بتایا کہ حملے میں تین بالغ افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں حملہ آور شامل ہے یا نہیں۔

فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچوں کا ایک گروپ کھڑی گاڑیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے سکول سے باہر آ رہا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کی عمر 10 سال تک کی ہے۔

یہ 2012 کے بعد کسی سکول پر اب تک کا بدترین حملہ ہے، 2012 میں سینڈی ہوک میں بھی ایسا ہی واقعہ ہوا تھا جس میں 20 بچے اور عملے کے چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 حملے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ سوگ میں امریکہ کا پرچم سرنگوں رہے گا۔

اس واقعے نے ملک بھر میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سوگ میں امریکہ کا جھنڈا سرنگوں رہے گا (ٖفوٹو: روئٹرز)

امریکی صدر جو بائیڈن کو حملے کے حوالے بریفنگ دی گئی۔ حملے کا نشانہ بننے والے راب ایلیمنٹری نامی سکول میں 500 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔

واقعے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے عوام سے کہا ہے کہ وہ بندوق رکھنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور کانگریس پر دباؤ ڈالیں کہ بندوق رکھنے کے حوالے سے موزوں رولز بنوائے۔

بائیڈن جن کی  اپنی زندگی بھی خاندان کے غموں سے بھری ہوئی ہے، نے بچوں کے والدین کے بارے میں کہ وہ پھر سے اپنے بچوں کو نہیں دیکھ سکیں گے، وہ کبھی چھلانگ لگا کر ان کے بستر میں نہیں گھسیں گے اور ان کے ساتھ مستیاں نہیں کریں گے۔

واقعے پر نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’بہت ہو گیا، ہمارے دل ٹوٹ گئے۔ ہم کو اپنے اندر ایکشن کے لیے حوصلہ پیدا کرنا ہو گا۔‘

خیال رہے 14 مئی کو نیویارک کے ایک سٹور میں نوجوان نے فائرنگ کر کے 10 افراد کو قتل کیا تھا اور انٹرنیٹ کے ذریعے اس کی ویڈیو کی سٹریمنگ بھی کی تھی۔ اس سے اگلے روز 15 مئی کو ایک شخص نے کیلیفورنیا کے علاقے لنگونا وڈز میں چرچ پر فائرنگ کر دی تھی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.