بجٹ کی بنیاد جھوٹ پر رکھی گئی ہے،بلاول بھٹو

چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ موجودہ  بجٹ کچھ نہیں بلکہ جھوٹ کا پلندہ ہے اور اس کی بنیاد جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئےپاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگرحکومت نےبھی اپوزیشن کرنی ہےتوحکومت کون چلائےگا۔ اس نااہل حکومت کیلئےکسی کو دوبارہ ریاست مدینہ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ اپوزیشن کو موقع نہ ملے کہ ان کے پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کو عوام کے سامنے نہ لائیں اور معاشی ترقی کی جھوٹی کہانی گالم گلوچ سے سچ ثابت کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  حکومت کو پتہ ہونا چاہیے کہ عوام کو ہماری تقریروں کی ضرورت نہیں اور عوام ان کی مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہی ہے۔ نوکری پیشہ شہری جو دن رات محنت کرتے ہیں وہ اپنے والدین کیلئے دوائی بھی نہیں خرید سکتے۔حکومت کی مہنگائی کی وجہ سے مزدور اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتے۔ پاکستان میں مہنگائی افغانستان، بنگلہ دیش اور بھارت سے زیادہ ہے۔

اپنے دور حکومت سے موازنہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں بھی مہنگائی تھی اور ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعات ہورہے تھے لیکن اس وقت کی حکومت نےعوام کو لاوارث نہیں چھوڑا تھا۔ پیپلزپارٹی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام لائی تھی۔ پیپلزپارٹی نے 2009 میں 20 فیصد اور 2010 میں 15 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ سال 2011 میں 50 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا اور مجموعی طور پر تنخواہوں میں 120 فیصد اضافہ ہوا۔

سرکاری ملازموں سے متعلق انھوں نے کہا کہ کم سے کم تنخواہ سندھ حکومت نے اب بھی 25 ہزار روپے رکھی ہے۔ حکومت نے سرکاری ملازمین سے احتجاج کے بعد معاہدہ کیا تھا لیکن سرکاری ملازمین کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ جس طرح سے حکومت نے لوگوں کو لاوارث چھوڑا وہ کبھی آپ کو معاف نہیں کریں گے۔

پیپلزپارٹی چئیرمین نے کہا کہ حکومت کے بجٹ کی وجہ سے پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمت میں جب اضافہ ہوتا ہے تو ہر پاکستانی اس کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اگر ملک میں معاشی ترقی ہو رہی ہے تو بے روزگاری کیوں ہے۔ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینا تھیں لیکن انھوں نے جن کے پاس روزگار تھا ان کو بھی بے روزگار کردیا ہے۔ ملک میں نہ صرف بے روزگاری بلکہ غربت میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے افغانستان کے معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ اپوزیشن اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ عمران خان اس افغان مسئلے کو ذاتی مفاد میں استعمال کریں۔ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ بریفنگ دیں یا اوپن البتہ بریفنگ کا اہتمام کیا جائے۔ بجٹ اجلاس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کے افغان ایشو سمیت قومی سلامتی امور پر بریفنگ لی جائے گی۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

68