#coronavirus: نئے چینی سال کے موقعے پر کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ

Getty Images

چین میں انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے جہاں نئے چینی سال کی تقریبات کو منانے کے لیے لاکھوں افراد تیاریاں کر رہے ہیں۔

بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھحلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

اسے بارے میں مزید پڑھیے

جمعے کو چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 25 افراد وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 830 افراد میں مرض کی تشخیص ہوئی ہے۔

ان مریضوں میں سے 177 کی حلات تشویشناک ہے جوکہ 34 علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیے گئے ہیں۔

چین کے قومی کمیشن برائے صحت کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ایسے مریض ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ انھیں بھی کورونا وائرس نے متاثر کیا ہے۔

ہوبائی صوبے میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں مگر چین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں اب تک صرف 13 تصدیق شدہ کیسز ملے ہیں۔

اس کم تعداد کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک وائرس کو بین الاقوامی ایمرجنسی قرار نہیں دیا ہے۔

Getty Images

نئے چینی سال کے موقعے پر حکام کو کیا ڈر ہے؟

نئے چینی سال کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ سفر کرتے ہیں مگر وائرس کی وجہ سے حکام نے ووہان شہر کو 'لاک ڈاؤن' کر دیا ہے جہاں سب سے پہلے وائرس دریافت ہوا تھا۔

چینی حکومت نے یہی اقدامات پانچ اور شہروں میں اٹھائے ہیں جس پر عالمی ادارہ صحت نے ان کی تعریف کی ہے۔

بیجنگ میں بھی نئے سال کی بڑی عوامی تقریبات پر پابندی لگا دی گئی۔

وائرس سے مقابلے کے لیے چین کی جانب سے لیے گئے فیصلوں سے دو کروڑ افراد ہوبائی صوبے میں 'قرنطینہ' یعنی علیحدہ کر دیا ہے اور ووہان شہر سے آنے اور جانے کے لیے کوئی پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں ہے۔

اس کے علاوہ شہریوں پر چہرے کے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

ہانگ کانگ میں ماسک کو مفت میں فراہم کرنے کا لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ مکاؤ میں دو کروڑ ماسک کی طلب ہے جنھیں کم قیمت میں فروخت کیا جائے گا۔

دونوں مقامات میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔

کورونا وائرس کے بارے میں تازہ ترین معلومات کیا ہیں؟

اب تک ملنے والے شواہد کے مطابق، انسانوں میں اس وائرس کے پھیلنے کی چند بڑی وجوہات میں کسی بیمار جانور کے نزدیک جانا، ایسے جانور کا گوشت کھانا یا پہلے سے اس وائرس میں مبتلا انسان سے دوسرے میں منتقل ہونا شامل ہے۔ ان شواہد کی تصدیق چینی حکام نے کی ہے۔

Getty Images

چین نے اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی کی تصدیق کی ہے اور یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ ملک اس وائرس کی روک تھام اور کنٹرول کے 'انتہائی نازک مرحلے' پر ہے۔

اس وائرس کے آغاز کے بعد پہلی بار عوامی بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے نائب وزیر لی بن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ یہ بیماری 'بنیادی طور پر سانس کی نالی کے ذریعے پھیلی۔'

لیکن چین ابھی تک اس وائرس کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

لی بن نے کہا 'اگرچہ ابھی تک اس وائرس کے ٹرانسمیشن روٹ کو پوری طرح سے سمجھا جانا باقی ہے لیکن اس وائرس میں تغیر کی صلاحیت موجود ہونے کا امکان اور اس وائرس کے مزید پھیلنے کا خطرہ ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 2197 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے۔

ایک ایسے مریض کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے جس نے 10 سے زائد افراد میں یہ وائرس منتقل کیا۔

ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان میں کم از کم 15 طبی کارکن، جو اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے ساتھ رابطے میں آئے وہ بھی اس کا شکار ہیں۔

یہ وائرس کیا ہے؟

اس وائرس کے نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری میں بھجوایا گیا جہاں ان پر تحقیق کی گئی۔

Getty Images

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ کورونا وائرس ہے۔ اس وائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔

ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔

اس نئے وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق انسانوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنھیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.