تھر میں تیندوے کو ہلاک کردیا گیا

بشکریہ ڈبلیو ڈبلیو ایف

سندھ کی ڈسٹرکٹ سانگھڑ میں مقامی افراد نے تیندوے کو ہلاک کردیا۔ تیندوے کو لوگوں پر حملے کے دوان ہلاک کیا گیا۔

وائلڈ لائف سندھ کے مطابق واقعہ پیر 22 فروری کو پیش آیا، جب تیندوے نے بکریوں کے ریوڑ پر حملہ کیا۔ اس دوران قریبی موجود لوگوں نے تیندوے کو دیکھ کر اس پر حملہ کیا اور اسے ہلاک کردیا۔ تھر وائلڈ لائف افسر میر اعجاز کے مطابق مقامی پانچ افراد نے پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اور اسے مارتے رہے، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔

میر اعجاز کا کہنا تھا کہ تیندوے کو مارنے کے دواران ان افراد کو زخمی بھی آئے، تاہم لوگوں نے تیندوے کو ہلاک اپنے دفاع میں کیا۔

حملے کے بعد وائلد لائف حکام کی جانب سے تیندوے کی لاش سائنٹفنک اور اسٹڈی ریسرچ کیلئے کراچی لیب بھیج دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک تیندوے کے جسم اور ٹشو سے ملنے والے اجزا سے اس بات کا پتا لگایا جائے گا کہ آیا یہ تیندوا مقامی تھا یا کہیں سے ہجرت کرکے آیا تھا۔

سما سے گفتگو میں چیف وائلڈ افسر جاوید مہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10، 15 روز سے ہم علاقے میں تیندوے کے نشانات ملنے پر اسے تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں نگرپارکر سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، تاہم وائلڈ لائف حکام نے جب جگہ کا دورہ کیا تو انہیں وہاں ایسا کوئی جانور نہیں مل سکاْ۔

جاوید مہر کا مزید کہنا تھا کہ سرنگواری سے 40 کلومیٹر دور سورنگوالی گاؤں میں بھی ہمیں 2 روز قبل تیندوے کے قدموں کے نشانات ملے تھے اور جب تک کوئی ٹیم وہاں پہنچتی یہ واقعہ رونما ہوگیا۔

مہر نے مزید بتایا کہ یہ اس علاقے کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ یہاں کوئی تیندوے نظر آیا ہو۔ تاہم ممکن ہے کہ یہ تیندوا کسی کے نجی فارم ہاؤس یا چڑیا گھر سے نکل کر یہاں تک آیا ہو۔

تیندوے کے ڈی این اے کو دیگر تیندوں سے ملا کر اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ مقامی ہے یا نہیں۔

تیندوے کے آبادی میں آنے کے بعد کیا کیا جائے؟

سما ڈیجیٹل کی جانب سے جب ماہر ماحولیات اور وائلڈ لائف ایکسپرٹ ایرک شہزرا سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سخت موسمی حالات اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے تیندوے سمیت دیگر جنگلی جانور آبادی کا رخ کرنے لگے ہیں۔

تھر جیسے علاقے میں جنگلی جانوروں کیلئے چھپنا مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ باآسانی نظر آجاتے ہیں۔ ایسے علاقے جہاں چھپنے کیلئے درخت ، جھاڑیاں یا کچھ اور رکاوٹیں نہ ہو ایسی صورت حال میں جانوروں کو آبادی سے چھپنے کیلئے کوئی جگہ میسر نہیں ہوتی ہے۔

صرف یہ ہی نہیں بلکہ ایسی صورت حال میں جانوروں کو آبادی اور لوگوں کے حملوں سے بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے، جو اپنے بچاؤ اور جانوروں کے دفاع میں ان جنگلی حیات کو مار دیتے ہیں۔

تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی صورت حال کیلئے لوگوں کو تیار کیا جائے اور انہیں اس بات کی آگاہی ہو کہ ایسی درپیش صورت حال میں کیسے جنگلی حیات کو زندہ چھوڑ دیا جائے۔

وائلڈ لائف آفیسر اعجاز نے بات آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ایسی صورت حال میں اگر کوئی جنگلی حیات آبادی والے علاقے میں داخل ہوتا ہے تو لوگوں کو چاہیئے کہ شور مچائیں، یا زور زور سے تالیں یا برتن بجائیں جس کی آواز سے وہ بھاگ جائے اور جانور کو بھاگنے کیلئے راستہ بھی دیا جائے تاکہ وہ لوگوں کو اپنے قریب دیکھ کر حملہ نہ کردے۔ ان سب حفاظتی اقدامات کے بعد لوگ وائلد لائف حکام کو فون کرکے اطلاع دیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

142