پاکستان عالمی موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردارادا کرنےکیلئے پُرعزم

image

پاکستان کا شمار دنیا میں صرف 0.9 فیصد گرین ہاؤس گیس کے اخراج والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سال 2030 تک گیس کے اخراج کی اس شرح کو نصف کردیا جائے گا اور پاکستان اپنا یہ موقف گلاسکو میں موسمی تبدیلی کانفرنس میں پیش کرے گا۔

میں چین نے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج روکنے کےلیے کئی اقدامات پیش کرنے کا زور دیا ہے۔

کوپ 26 اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کا نام ہے جس کی میزبانی برطانیہ اور اٹلی مشترکہ طور پر کرے گا۔ یہ کانفرنس 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک منعقد کی جائے گی۔کانفرنس آف آل پارٹیز کا مخفف کوپ ہے۔یہ اجلاس 1992 سے منعقد ہورہا ہے۔اس کا مقصد گرین ہاؤس گیسز کے باعث موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانا ہے۔

گرین ہاؤس گیسز سے موسم میں گرمی بڑھتی ہے۔ اس کو عالمی حدت بھی کہا جاتا ہے۔ گرین ہاؤس گیسز اس لئے پیدا ہوتی ہیں جب فوسل فیول نذر آتش کئے جاتےہیں ۔ ان میں کوئلہ،تیل اور گیس شامل ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی گرین ہاؤس گیس ہوتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے ماہر جان ہاؤٹن نے بتایا ہے کہ گرین ہاؤس گیسززمین کے گرد انفراریڈ ریڈائی شعاعوں کو جذب کرلیتی ہیں اور ماحول کو گرم رکھتی ہیں۔ گرین ہاؤس گیسز اور موسم کو کنٹرول کرنے کے لیے درختوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ درخت گرین ہاؤس گیسز کو جذب کرلیتے ہیں جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہے اور یہ زمین کے گرد اس چادر کو بننے نہیں دیتے جو زمین کو گرم کرتی ہے۔جب ہم درخت کاٹ دیتے ہیں تو ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے درختوں کی کٹائی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

اس سال کوپ کا 26 واں اجلاس ہورہا ہے۔اس اجلاس میں غور ہوگا کہ پیرس میں کوپ کے 21 ویں اجلاس کے بعد سے کئے جانے والے اقدامات کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس اجلاس میں کئی ممالک نے گیسز کے اخراج میں کمی کا عہد کیا تھا۔ اس اجلاس میں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اقدامات کئے جائیں گے جن سے زمین کے درجہ حرارت1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ بڑھنے سے روکا جاسکے۔ امیر ممالک کا کہنا تھا کہ غریب ممالک کو موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے فنڈز دئیے جائیں گے۔

عمران خان کی موسمیاتی تبدیلی کی ترجیحات:۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے موسمیاتی تبدیلی کے لیے اقدامات کو اپنی اولین ترجیح کے طور پر رکھا ہے۔ انھوں نے برطانوی شہزادہ چارلس سے کوپ 26 سے متعلق ٹیلی فونک گفتگو کی۔ پاکستان نے گذشتہ دنوں پیرس معاہدے کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے اقدامات ( نیشنل ڈیٹرمنڈ کونٹری بیوشنز) جمع کروائے ہیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سال 2030 تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ تاہم پاکستان کو اپنی معاشی پیداوارمیں اضافہ کرنا ہےاور توانائی کا بحران بھی درپیش ہے۔

پاکستان کے اقدامات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج 15 فیصد اپنے ذرائع سے کم کیا جائے گا اور 35 فیصد کمی کے لیے بین الاقوامی گرانٹ پر انحصار کیا جائے گا اور اس کے لیے101 بلین ڈالر درکار ہونگے جس سے توانائی کے نظام کو منتقل کیا جاسکے گا۔

پاکستان کتنی گرین ہاؤس گیسز پیدا کرتا ہے؟فائنشل ٹائمز کے انفوگراف میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کرنے والے5 بڑے ممالک کی فہرست دی گئی ہے۔ان اعدادوشمار میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے سال 2018 میں 438.2 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جتنی گیسز کا اخراج ہوا۔ دنیا کے 193 ممالک میں پاکستان کا 19 واں نمبر ہے۔ چین کا اس فہرست میں 11.7 بلین ٹن گیسز کے اخراج کے ساتھ پہلا نمبر ہے۔

پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں مختلف توانائی کے حصے: قابل استعمال ذرائع 25 فیصد، جوہری ذرائع 8 فیصد، حیاتیاتی ایندھن 67 فیصد۔

اچھی خبر یہ ہے کہ سال 2016 سے 2018 تک پاکستان نے حکومتی ریکارڈ کے مطابق  گرین ہاؤس گیسز کا اخراج 8.7 فیصد کم کیا ہے۔

پاکستان کو اب کیا کرنا ہوگا؟پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سال 2030 سے  گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کے لیے درج ذیل اقدامات کرنا ہونگے۔

توانائی کے قابلِ استعمال ذرائع پر 60 فیصد منتقلی۔

سال 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں۔

کوئلے کی درآمد پر مکمل پابندی لگادی جائے گی۔کوئلے سے چلنے والا کوئی نیا پلانٹ نہیں لگایا جائے گا۔ہائیڈرالیکٹرک پاور پلانٹ کی ترغیب دی جائے گی۔ مقامی کوئلے کا استعمال کم کردیا جائے گا۔

قدرتی طور پر کارآمد منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی جن میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام جیسے منصوبے شامل ہیں۔

پاکستان نے سیلابوں پر قابو پانے اور انڈس بیسن میں پانی کے زیادہ اخراج کے لیے 6 ارب روپے مختص کئے ہیں۔

کوپ 26 میں پاکستان کی نمائندگی کون کرے گا؟وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم گلاسکو میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔  وہ  مشرقی وسطی میں وزیراعظم کے دورے کے موقع پر ان کے ہمراہ تھے۔اس دورے میں وزیراعظم نے درخت لگانے کے سعودی پروگرام میں شرکت کی جس کے خدوخال 10 بلین ٹری سونامی سے ملتے ہوئے ہیں۔

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات لاحق ہیںپاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات درپیش ہیں جس کے باعث اس کے پانی،خوراک اور توانائی کے نظام کو مشکلات ہیں۔ پاکستان میں سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا پگھلنا اور غیر معمولی بارشیں ہوتی ہیں۔ سال 2010 کے سیلاب حالیہ برسوں کے بدترین سیلاب تھے۔ پاکستان اس قدر گرین ہاؤس گیسز کا اخراج نہیں کرتا مگر موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں 7 ویں نمبر پر ہے۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سال 1994 سے 2003 کے درمیان سخت موسمیاتی تبدیلی سے سالانہ 4 ارب  ڈالر کا نقصان ہوا۔ سال 2010 سے 2014 کے درمیان 5 بڑے سیلابوں سے 18 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور 38.12 ملین افراد متاثر ہوئے۔ اس دوران3.45 ملین مکانات کو نقصان پہنچا اور 10.63 ملین ایکٹر فصلیں خراب ہوئیں۔ سال 2015 میں غیر معمولی ہیٹ ویو کے باعث 1200 افراد جان سے چلے گئے۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ سی پیک کےمنصوبوں سے پاکستان کے ماحول پر برا اثر پڑے گا۔سی پیک کے منصوبوں سے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 2030 تک371 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ اضافہ ہوگا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.