چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو دفاع کریں گے: امریکی صدر

image

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے چین کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے طاقت کے ذریعے تائیوان پر قبضے کی کوشش کی تو امریکی افواج اس کا دفاع کریں گی۔ جبکہ بیجنگ نے واشنگٹن کو جواب دیا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جو بائیڈن نے تائیوان کے لیے چینی دھمکی کا موازنہ یوکرین پر روسی حملے سے کیا۔

 امریکی صدر نے چین تائیوان کے معاملے پر اب تک کے سب سے سخت الفاظ ایک ایسے وقت میں استعمال کیے ہیں جب چین کی بڑھتی معاشی اور فوجی طاقت پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن جاپان کے دورے پر ہیں، انہوں نے جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ فوج کے ذریعے تائیوان کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو امریکی صدر نے واضح طور پر جواب دیا ’ہاں، یہ وہی وعدہ ہے، جو ہم نے کر رکھا ہے۔‘

جو بائیڈن نے واشنگٹن کی جانب سے سفارتی طور پر بیجنگ کی حکومت کو تسلیم کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’ہم نے ون چائنہ پالیسی سے اتفاق کیا ہے اور اس پر دستخط بھی کیے ہیں۔‘

انہوں نے تائیوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خیال کہ اس کو طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے غیرمناسب ہے۔ یہ پورے خطے کی ہیئت بدل دے گا اور یوکرین پر حملے جیسا قدم ہی ہو گا۔‘

واضح رہے کہ بیجنگ تائیوان کو اپنا ایک باغی صوبہ سمجھتا ہے اور اس کی جانب سے اس پر فوجی دباؤ بڑھایا گیا ہے۔

بیجنگ کے مطابق ’واشنگٹن ایک خطرناک کھیل کھیل رہا ہے۔‘

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن کا کہنا ہے کہ ’جب چین  کی خودمختاری اور سالمیت کی بات آتی ہے تو پھر اس میں کسی قسم کے سمجھوتے یا رعایت کی گنجائش نہیں رہتی۔‘

انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’واشنگٹن آگ سے کھیل رہا ہے۔‘

چین کی کونسل برائے تائیوان امور کے ترجمان ژو فینگلین کے مطابق ’امریکہ چین پر قابو پانے کے لیے تائیوان کارڈ کھیل رہا ہے، مگر وہ خود جل جائے گا۔‘

انہوں نے امریکہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایکشن سے متعلق ریمارکس دینا بند کرے، جس سے پہلے بھی دو ممالک کے درمیان وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.