ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری پر کون سے مقدمات ہیں؟

image
ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے پر ان کے وکیل نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی ایئرپورٹ پولیس کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری پیر کی رات دبئی سے کراچی پہنچے تو انہیں ایئرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیا۔

سابق وفاقی وزیر بابر غوری کے وکیل کا موقف ہے کہ ان کے موکل نے مقدمات میں حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے اس کے باوجود انہیں گرفتار کیا گیا۔

خیال رہے کہ بابر غوری نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی ملک مخالف تقریر کے بعد سے تنظیمی معاملات سے دوری اختیار کر رکھی ہے اور امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔

انہیں الطاف حسین کا قریبی ساتھی بھی سمجھا جاتا تھا، وہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی کے بعد سینیٹر بھی بنے اور انہیں پورٹ اینڈ شپنگ کی اہم وزارت بھی دی گئی تھی۔

بابر غوری کچھ روز قبل امریکہ سے دبئی پہنچے تھے جہاں انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی عیادت اور سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقات کی۔

بابر غوری نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی ملک مخالف تقریر کے بعد سے تنظیمی معاملات سے دوری اختیار کر رکھی ہے (فوٹو: اردو نیوز)

انہوں  نے گذشتہ ہفتے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنے کا اعلان کیا تھا اور واپسی کی ٹکٹ بھی بک کرائی تھی لیکن عین وقت پر دبئی سے ٹکٹ کینسل کرا دی۔

 یاد رہے کہ باہر غوری کے وکیل نے ان کی آمد سے قبل سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے موکل ملک میں واپس آکر مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بابر غوری کے خلاف دو مقدمات میں ضمانت کی درخواست کی تھی جس پر عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی۔

بابر غوری کے خلاف منی لانڈرنگ، زمینوں پر قبضے اور دوران وزارت پورٹ اینڈ شپنگ کے شعبے میں غیر قانونی بھرتیوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں۔

اس کے علاوہ ایم ڈی کے ای ایس سی شاہد حامد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے صولت مزرا نے بھی اپنے بیان میں بابر غوری پر الزام عائد کیے تھے جن کی تحقیقات کے سلسلے میں وہ اداروں کو مطلوب تھے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.