گندم کی عالمی مارکیٹ متاثر، چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ

image
روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی عالمی منڈی متاثر ہونے کے باعث چند ممالک میں بھوک بڑھنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روس اور یوکرین کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا گندم برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ جبکہ سب سے زیادہ گندم مصر، انڈونیشیا، نائیجیریا اور ترکی درآمد کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں صرف چند ایسے ممالک ہیں جو اتنی مقدار میں گندم پیدا کرتے ہیں کہ خود بھی استعمال کریں اور باقی برآمد کر دیں۔

معاشی ماہر اور ’فیڈنگ ہیومینٹی‘ نامی کتاب کے مصنف برونو پرمینٹیئر کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی گندم کھاتا ہے لیکن ہر کوئی گندم پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘

چین جبکہ گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اپنی ایک کروڑ 40 ارب کی آبادی کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ گندم درآمد بھی کرنا پڑتی ہے۔

اگرچہ گندم کے بدلے میں اور بھی اناج میسر ہیں لیکن ایسا کوئی نہیں جس کا ذائقہ ہر خاص و عام کو پسند ہو۔ گندم کو ہی چکی میں پیس کر آٹا و معدہ تیار کیا جاتا ہے جو پھر ڈبل روٹی، نوڈلز اور مختلف قسم کی خوراک تیار کرنے میں استعمال ہوتا ہے جس میں طرح طرح کے میٹھے بھی شامل ہیں۔

آخر گندم کی قیمتوں میں کیوں اضافہ ہوا؟

دیکھا جائے تو اناج کی قیمت روس کے یوکرین پر فروری میں حملہ کرنے سے پہلے بھی زیادہ تھیں۔

اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کورونا میں کمی کے بعد جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوا اور معیشت بحال ہونا شروع ہوئی تو ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی نائٹروجن سے بننے والی کھاد کی قیمت بھی بڑھ گئی۔

یوکرین جنگ سے گندم کی سپلائی لائن میں خلل پیدا ہوا۔ فوٹو: اے ایف پی

کورونا کے باعث لگنے والی پابندیاں اٹھنے سے جہاں ہر قسم کی اشیا کی طلب میں اضافہ ہوا وہیں عالمی سپلائی لائن میں خلل بھی پیدا ہوا ہے۔ 

علاوہ ازیں، کینیڈا میں درجہ حرارت میں اضافے اور گرمی کی لہر سے گندم کی پیداوار بھی گزشتہ سال متاثر ہوئی تھی۔

جنگ سے صورتحال کیوں بگڑی؟

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے گندم کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے جو یورپی مارکیٹ میں مئی کے مہینے میں 400 یورو فی ٹن ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال موسم سرما کے مقابلے میں گندم کی قیمت میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔

گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مزید مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق 30 سے زیادہ ممالک کا  تقریباً 30 فیصد گندم کی درآمد کے لیے روس اور یوکرین پر انحصار پر ہے۔

یوکرین اور روس ہی یورپی ممالک کے لیے اناج کی سپلائی کا اہم ذریعہ ہیں۔ یورپ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے 30 فیصد اناج انہی دو ممالک سے درآمد کر کے پورا کرتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران یوکرین اور روس میں گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ روس گندم درآمد کرنے میں سب سے آگے ہے جبکہ یوکرین تیسرے نمبر پر آنے کے قریب ہے۔

روس گندم درآمد کرنے والے ممالک میں سب سے آگے ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

روس کی بحریہ نے بحر اسود پر یوکرین کی اہم بندرگاہوں کا راستہ روکا ہوا ہے جس سے یوکرین 25 ملین ٹن اناج درآمد کرنے سے قاصر ہے جو مختلف بندرگاہوں یا کھیتوں میں پڑا ہوا ہے۔

یوکرین نے اناج کی کچھ مقدار تو ریل یا روڈ کے ذریعے سپلائی کی ہے جو سمندر سے ہونے والی رسد کے مقابلے میں پھر بھی چھ گنا کم ہے۔

دوسری جانب چین اپنے ذخائر میں سے گندم جاری کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ انڈیا نے اس کی درآمد پر جزوی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

امریکی محکمہ زراعت کے مطابق گندم کی عالمی پیداوار 2022 سے 2023 تک تقریباً 775 ملین ٹن ہو جائے گی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.5 ملین ٹن کی کمی ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.