پاور سیکٹر سے متعلقہ معاملات پر عوام کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاور سیکٹر سے متعلقہ معاملات پر حکومت کی جانب سے عوام کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے کیونکہ توانائی کے شعبے کے حوالے سے اصلاحاتی عمل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاور سیکٹر سے متعلقہ اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس ہوا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ ماضی میں پاور سیکٹر کے  حوالے سے فیصلوں، بد انتظامی، کرپشن   وغیرہ کا سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے تاہم گردشی قرضوں میں کمی سے عوام کو براہ راست فائدہ میسر آئے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ حکومت سبسڈی کے نظام کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے اور توانائی کے شعبے میں بھی دی جانے والے سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

اس ضمن میں وزیراعظم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مستحقین اور غربت کا شکار افراد کو شفاف اور منظم طریقے سے معاونت فراہم کی جائے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں پیش رفت  کا ہفتہ وار اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اجلاس میں پاور سیکٹر سےمتعلقہ گردشی قرضوں،  پاور سیکٹر  اصلاحات پر بریفنگ دی گئی ہے جس پر وزیراعظم کی جانب سے آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کو آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

دوران اجلاس بجلی کی مختلف تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے، کم کارکردگی والے 1794 میگا واٹس کے پاور پلانٹس کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے جبکہ آئندہ دو سالوں میں مزید 1875 میگا واٹس کے پاور پلانٹس کو بند کر دیا جائے گا اور 1872 میگا واٹس کی نجکاری کا عمل مکمل کر دیا جائے گا۔

اجلاس میں شبلی فراز، اسد عمر، عمر ایوب خان، محمدمیاں سومرو، فروغ نسیم، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عاصم سلیم باجوہ، ندیم بابر، شہزاد قاسم، ڈاکٹر شہباز گل، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز و دیگر سینیئر افسران شریک ہوئے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

150