سپریم کورٹ کا نسلہ ٹاور ایک ہفتہ میں گرانے کا حکم

image

سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں کراچی کے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دے دیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ اب تک اس عمارت کو کیوں نہیں گرایا گیا اور کیا ہتھوڑی اور چھینی سےگرائیں گے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ  نسلہ ٹاور کی عمارت کو گرانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔

اس موقع پر عدالت میں نسلہ ٹاور کے مکینوں نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو عدالت نے نسلہ ٹاور کے مکینوں کو بولنے سے روک دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے  کہ ہمارے نزدیک نسلہ ٹاورختم ہوگیا ہے اور اب صرف گرانے کا مسئلہ ہے۔ عدالت نے عمارت کی بجلی اور پانی کے کنکشن27 اکتوبرتک منقطع کرانے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے مزید حکم دیا کہ کمشنر کراچی ایک ہفتہ میں عمارت گرا کر کر رپورٹ دیں۔

بائیس اکتوبر کو نسلہ ٹاور کے باہر عمارت کے مکینوں نے احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے فلیٹ کی قیمت موجودہ مالیت کے اعتبار سے طے کی جائے۔ نسلہ ٹاور گرانے کےعدالتی حکم پرسراپا احتجاج مکین گھرخالی کرنے پر تیار نہیں تھے۔عدالت نے غیر قانونی زمین پر قائم نسلہ ٹاورگرانے کے ساتھ بلڈر کو بھی حکم دیا تھا کہ الاٹیز کو ادائیگی کی جائے۔ قانونی ماہرین نے بھی الاٹیزکو یہی مشورہ دیا تھا کہ فلیٹس مالکان وقت ضائع کرنےکےبجائے رقم وصولی پرزوردیں۔تاہم پروجیکٹ کا بلڈر اصل رقم دینے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔

اکیس اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر شرقی نےعدالتی احکامات پرعمل درآمد سے متعلق آگاہ کرنےکیلئے مکینوں کو اپنے دفترمیں بلایا اور آئندہ کے پروگرام سے آگاہ کیا۔ملاقات میں نسلہ ٹاور کے بلڈرابوبکر کاٹیلا موجود نہیں تھے۔ڈپٹی کمشنر نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو بتایا کہ ٹاور گرانے کا عمل یوٹیلیٹی کنکشنز کاٹنے سے شروع ہوگا۔نسلہ ٹاور کے الاٹیز کا مطالبہ ہے کہ انھیں 110 کروڑروپے ادا کر دیئے جائیں تو وہ فلیٹس خالی کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

کراچی:نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار اخبارات میں شائعدو ہفتے قبل اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں جاری کئے تھے۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

اشتہار کے مطابق اس سے پہلے بھی نسلہ ٹاورکے بلڈراور رہائشیوں کو2 نوٹسز جاری کیئے جاچکے ہیں۔سپریم کورٹ  میں کمشنر کراچی اورمختارکارفیروز آباد کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں واضح کردیا گیا تھا کہ نسلہ ٹاور کا ایک حصہ شارع فیصل کی سروس روڈ پر بنا ہوا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنےکی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جائےگی۔

سپریم کورٹ کاکمشنرکراچی کونسلا ٹاورمنہدم کرکےرپورٹ پیش کرنےکاحکمپچھلے ماہ سپریم کورٹ نے نسلا ٹاور گرانے کے خلاف نظرثانی درخواست مسترد کردی تھی۔ کمشنر کراچی کو نسلا ٹاور منہدم کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ الاٹیز کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی  تھی کہ ہمیں بھی سنا جائے۔ اس پر جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ہم نے آپ کو راستہ دیا ہے اور مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پیسےمل جائیں گے،آپ نے اپارٹمنٹ لینے سے پہلے کیوں نہیں دیکھا اورآپ کو نہیں پتا کہ کتنی جعلسازی ہوتی ہے،معائنے کے بغیر کیسے فلیٹ خرید لیتے ہیں۔

کراچی: سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاورگرانے کا حکم دے دیاسولہ جون کو سپریم کورٹ نے کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے کے عدالتی حکم پر بلڈر کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمارت گرانے کا حکم دیا تھا۔

انیس جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر قائم نسلہ ٹاور کو فوری طور پر گرانے اور الاٹیز کو 3 ماہ کے اندر رقم واپس کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں کمشنر کراچی کو ہدایت کی گئی کہ نسلہ ٹاور خالی کراکر اپنی تحویل میں لیں اور فوری طور پر گرانے کی کارروائی شروع کریں۔ سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے مالک کو ہدایت کی ہے کہ 3 ماہ کے اندر تمام الاٹیز کو رقم واپس کی جائے۔

نسلہ ٹاور پر ایکشن کمیٹی قائم، آباد معاملے سے الگعدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ نسلہ ٹاور کی زمین کو غیر قانونی طور پر رہائشی سے کمرشل میں تبدیل اور تعمیر کیلئے سروس روڈ پر بھی قبضہ کیا گیا۔

اس سے قبل آٹھ اپریل کو چیف جسٹس گلزار احمد نے شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے پلاٹ کی لیز بھی منسوخ کردی تھی۔ بلڈر کی جانب سے عدالتی فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.