امریکا ایران جوہری معاہدے کی بحالی: فریقین مذاکرات سے زیادہ پُرامید نہیں

image
امریکا اور ایران دونوں نے 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی پر ناامیدی ظاہر کی ہے تاہم واشنگٹن کو اب بھی توقع ہے کہ اس معاہدے کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ (او ایس سی ای) کے اجلاس کے موقع پر  امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق کہا کہ ایران کی حالیہ بیان بازی حوصلہ بخش نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔ مستقبل قریب میں، اگلے دن ہی یا اس کے بعد ہم یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے کہ آیا ایران واقعی نیک نیتی سے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔

دوسری جانب تہران کو بھی معاہدے کی دوبارہ بحالی سے متعلق امریکی اور یورپی مذاکرات کاروں کے ارادوں پر شک ہے۔ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا کہنا ہے کہ وہ سنجیدہ عزم کے ساتھ ویانا گئے تھے لیکن امریکا اور تین یورپی فریقوں کی مرضی اور ان کے ارادوں کے بارے میں وہ پُرامید نہیں ہیں۔

مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) کے نام سے معروف 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے تحت ایران کو اس کی جوہری سرگرمیاں بند کرنے کے عوض بعض اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس معاہدے میں امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ یورپی یونین بھی شامل تھی تاہم یہ معاہدہ 2018 میں اس وقت تعطل کا شکار ہوگیا جب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یک طرفہ طور پر اس سے الگ ہوگئے اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد ایران نے بھی اپنی جوہری سرگرمیاں شروع کردیں۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم نفٹالی بینیٹ نے گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو فون کرکے فوری طور پر ویانا بات چیت روکنے کا مطالبہ کردیا۔

پانچ ماہ کے وقفے کے بعد آسٹریا کے دارالحکومت میں ہونے والے عالمی طاقتوں کے ساتھ یہ مذاکرات اسی ہفتے پیر کو شروع ہوئے تھے جن میں امریکا بھی بالواسطہ طور پر شامل ہے۔

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.