روس کے خلائی کچرے اور چینی سیٹلائٹ کےدرمیان تصادم!

image
زمین کے مدار میں روس کی جانب سے دانستہ طور  پر تباہ کیے جانے والے انٹیلی جنس سیٹلائٹ کے ملبے سے چینی سیٹلائٹ بال بال بچ گیا۔

چین کے خلائی ادارے چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن ( سی این ایس اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹریک ہونے والے ڈیٹا سے ظاہر ہوا ہے کہ منگل کو مدار میں سائنسی تحقیق کے لیے موجود سیٹلائٹ سنگ ہوا روسیی سیٹلائٹ کے ملبے سے تباہ ہوتے ہوتے بچا ہے۔

بیجنگ کا دعویٰ ہے کہ روس کی جانب سے دانستہ طور پر تباہ کیے گئے ناکارہ سیٹلائٹ کے ٹکڑے چینی سیٹلائیٹ کے 47 فٹ قریب سے گزرے ہیں۔

سی این سی اے کے مطابق اس خلائی ملبے کے دو ٹکرے 11 ہزار 700 میل فی گھنٹہ سے زائد رفتار کے ساتھ سنگ ہوا سیٹلائیٹ کے انتہائی نزدیک سے گزرے۔

سی این ایس اے کے خلائی ملبے کی مانیٹرنگ کرنے والے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیو جنگ نے مقامی اخبار گلوبل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ روسی سیٹلائٹ کا ملبہ خطرناک حد تک سنگ ہوا کے نزدیک آگیا تھا اور مستقبل میں ان کے درمیان تصادم کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم یہ تصادم کب اور کیسے ہوگا اس بابت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

روس نے گزشتہ سال 15 نومبر کو اینٹی سیٹلائٹ میزائل کی جانچ کے لیے مدار میں موجود اپنے 4 ہزار 410 پاؤنڈ وزنی غیر فعال انٹیلی جنس سیٹلائٹ کوسموس 1408 کو خود ہی تباہ کردیا تھا اور اس کا ملبہ جب سے خلا میں گردش کر رہا ہے۔ کوسموس 1408 کو 1982 میں لانچ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ خلائی ماہرین خلا میں موجود انسانوں کے پیدا کردہ کچرے کی وجہ سے ممکنہ تصادم سے لاحق خطرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے متعدد بار خلائی مشنز سر انجام دینے والی حکومتوں نے خلا میں بھیجے جانے والے سیٹلائٹس کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق زمین کے مدار میں اس وقت 30 ہزار سیٹلائٹس اور دیگر خلائی کچرہ موجود ہے۔

خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں خلائی مشن کرنے والے ممالک کو چاہیے کہ وہ خلا میں کسی تصادم کو روکنے کے لیے مدار میں موجود خلائی کچرے کو صاف کریں۔

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.