تیمور جھگڑا اسحاق ڈار کے بارے میں ’محتاط‘، ایک ساتھ کام کرنے کے لیے تیار

image

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ ’اسحاق ڈار سے متعلق بیان دیتے ہوئے اب احتیاط کر رہا ہوں، میں نے آئی ایم ایف کو جو خط لکھا وہ معاہدے کے خلاف ورزی نہیں تھی۔‘ 

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے پیر کو اردو نیوز سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ ’اسحاق ڈار کے ساتھ انتظامی معاملات کے سلسلے میں ملاقات کرنی ہے۔ اس لیے محتاط ہوکر بات کروں گا، مگر سنا ہے اس بار بھی ماضی کی طرح ڈالر کی قدر کم کرنے کے لیے مارکیٹ میں ڈالر پھینکے جا رہے ہیں۔‘

تیمور سلیم جھگڑا نے اردو نیوز کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے دو معاشی ماہرین ایک دوسرے کے خلاف گولہ باری کررہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اسحاق ڈار سے متعلق کہہ رہے ہیں کہ رواں ماہ پیٹرول لیوی نہ لگانا غیرذمہ دارانہ فیصلہ ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘ 

’میں نے جو خط  آئی ایم ایف کو  لکھا۔ وہ آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق تھا۔ میں آج بھی اپنے بیان پر قائم ہوں۔‘

وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ’میری جو آڈیو لیک ہوئی وہ حقیقت ہے۔  میں ہر لفظ پر قائم ہوں، میری گفتگو ریکارڈ ہوئی، میں تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے پاس نہیں گیا کیونکہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ آڈیو لیکس سے پورے ملک کو نقصان ہورہا ہے۔ آڈیو عمران خان کی لیک ہو یا شہباز شریف کی یہ ایک سکیورٹی کا سنگین مسئلہ ہے۔‘ 

’یہ بہت غلط بات ہے کہ انفارمیشن لیک ہو رہی ہے اور ہمیں پتا ہے یہ جان بوجھ کر لیک ہورہی ہے۔‘ 

 انہوں نے مزید کہا کہ ’کسی بھی ملک میں کسی کو حق نہیں کہ وہ دو شہریوں یا سیاسی شخصیات کی گفتگو غیرقانونی طور پر ریکارڈ کرے۔ یہ ریکارڈنگ قانونی تھی یا غیرقانونی، اس کا جواب وفاقی حکومت کو دینا چاہیے۔‘

تیمور سلیم جھگڑا نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر سے متعلق اردو نیوز کو بتایا کہ ’دو تین دنوں میں تنخواہ جاری ہوجائے گی۔ وفاقی حکومت کی وجہ سے معاشی عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہوئی ہے۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.