شربت گلہ کو پناہ مل گئی

image
فائل فوٹو

امریکی فوٹوگرافر کے ایک کلک سے راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی افغان شہری شربت گلہ نے اٹلی میں پناہ حاصل کرلی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے این بی سی نیوز کے مطابق سبز آنکھوں والی افغان خاتون شربت گلہ کو اٹلی نے پناہ دی ہے۔ اطالوی حکومت کا کہنا ہے کہ افغان شہری شربت گلہ روم پہنچ گئی ہے۔ شربت گلہ کیلئے حکومتی انخلا کے پروگرام کے تحت اٹلی جانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

افغانستان میں کام کرنے والی این جی اوز نے اطالوی حکومت سے شربت گلہ کے انخلا کی درخواست کی تھی۔ پاکستان سے واپس افغانستان جانے پر شربت گلہ کو اس وقت کی افغان حکومت نے واپسی پر نہ صرف سرکاری استقبال کیا بلکہ دیگر مراعات اور انعامات سے بھی نوازا تھا۔

اکتوبر 20 سنہ 2016 میں پاکستانی میں ایف آئی اے نے شربت گلہ کے خلاف جعلسازی سے پاکستان کا قومی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کرنیکا مقدمہ درج کیا تھا، جب کہ اس معاملے میں نادرا کے 3 اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کیا گیا تھا، جنہوں نے نہ صرف شربت گلہ کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر قومی شناختی کارڈ جاری کیا بلکہ اُس کے بیٹوں کے طور پر 2 دیگر افغانوں ولی محمد اور رؤف خان کو بھی پاکستانی قومی شناختی کارڈز جاری کئے جن کا ’شربت گلہ‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

شربت گلہ کو سنہ 2016 میں پشاور کے علاقے نوتھیہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد 3 خلاف ورزیوں کی بنیاد پر شربت گلہ پر مقدمات درج کئے گئے۔ اُسے 2 نومبر کے روز عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں اُس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

پاکستان میں شربت گلہ پر دیگر 500 افغانیوں کیلئے بھی جعلی شناختی کارڈز بنوانے کا الزام تھا۔ پاکستان میں قیام کے دوران شربت گلہ سے کئی بار افغان سفارت کار نے خفیہ ملاقاتیں بھی کیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2016 میں پاکستان سے نکالے جانے والے بھارتی سفارت کاروں سے بھی شربت گلہ کے خفیہ روابط ظاہر ہوئے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان بھارتی را ایجنٹس کا نیٹ ورک شربت گلہ کی خفیہ سرگرمیوں کی نگرانی کے دوران چاک ہوا۔

اس وقت کی خیبر پختونخوا حکومت ( جو تحریک انصاف کی تھی) اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے شربت گلہ کو انسانی بنیادوں پر ملک بدر کرنے کی مخالفت اور صوبے میں جگہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی فوٹو گرافر میک کیوری نے سنہ 1984 میں شربت گلہ کی تصویر پاکستان کے ایک مہاجر کیمپ میں کھینچی تھی۔ تاہم سنہ 2016 میں شربت گلہ کو افغانستان واپس بھیج دیا گیا تھا۔ شربت گلہ کو عالمی جریدے کے سرورق پر آنے پر دنیا بھر میں شہرت ملی تھی۔

سنہ 1984 کی سردیوں کا وہ ایک سرد دن تھا، جب امریکی فوٹو گرافر ہاتھوں میں مشین سی لیئے پشاور کے نواحی علاقے ناصر باغ میں افغان مہاجرین کی خیمہ بستی کی جانب گامزن تھا، جہاں مہاجرین اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف تھے۔

امریکی کیمرا مین اسٹیو میکرے افغان بستی کے دن و رات کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر رہا تھا اور اسی دوران اس کے کیمرے نے شربت گلہ کی تصویر بھی قید ہوئی، جو آج بھی لوگوں کی یادوں میں تازہ ہے۔ اس وقت شربت گلہ اسکول کی زیر تعلیم طالبہ تھی، جو اپنی دیگر ہم جماعتوں سے مختلف نظر آئی اور اس کی وجہ تھی اس کی آنکھیں۔

فوٹوگرافر نے کمال مہارت سے اُس 12 سالہ ’شربت گلہ‘ کی تصویر کھینچی اور چلا پڑا، اس بات سے بے پروا کہ یہ انکھیں آنے والے دنوں میں کتنی مشہور ہونے والی ہیں۔ بعد اَزاں جون 1985ء میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر یہ تصویر شائع ہوئی۔ سبز آنکھوں والی اَفغان لڑکی کی یہ تصویر جس میں وہ کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی تھی۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.