انڈین طالب علم کا لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر فیس بک سے معاہدہ

image

انڈیا میں کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم کو دنیا کے بڑے اداروں ایمیزون، گوگل اور فیس بک نے بھاری تنخواہ پر ملازمت دینے کی پیشکش کی ہے۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق کولکتہ سے تعلق رکھنے والے بیسکھ موندال نے ابھی گریجویشن مکمل نہیں کی۔

موندال نے ایک کروڑ 80 لاکھ انڈین روپے سالانہ کی تنخواہ پر فیس بک سے معاہدہ کر لیا ہے اور ستمبر میں برطانیہ کے لیے اڑان بھریں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جادوپور یونیورسٹی کے طلبا میں سے اب تک کی سب سے زیادہ تنخواہ ہے جبکہ اس سے قبل بھی طلبہ ایک کروڑ تک تنخواہ لے چکے ہیں۔

فیس بک کے ساتھ معاملات طے پا جانے کے بعد موندل نے لنکڈ ان پر اس کا اعلان کیا۔

بیسکھ موندال نے یہ بھی بتایا کہ انہیں گوگل اور ایمیزون برلن کی جانب سے آفرز ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں یہ بتاتے ہوئے بہت پرجوش ہوں کہ یہ میری پرانی خواہش تھی، میں ان مواقع کے لیے بہت مشکور ہوں۔‘

موندال نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ستمبر میں فیس بک کے ساتھ کام کرنے کے لیے لندن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے منگل کی رات ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی۔ کورونا وبا کے دوران مجھے مختلف اداروں کے ساتھ انٹرن شپ کرنے کا موقع ملا تھا اور اپنے نصاب کے علاوہ بھی تعلیم حاصل کی تھی اور انہی کی بدولت میرے انٹرویوز بہت اچھے ہوئے تھے۔‘

گوگل اور ایمیزون پر فیس بک کو ترجیح دیے جانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ زیادہ تنخواہ ہے۔

جادیوپور یونیورسٹی کے انتظامی عہدے پر خدمات انجام دینے والی سمیتا بھٹاچاریہ نے میڈیا کو بتایا کہ وبا کے دنوں کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طلبہ کو بیرون ملک سے بڑی تعداد میں آفرز آئی ہیں۔

موندال کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا شروع سے ہی لائق طالب علم رہا ہے۔

ان کے مطابق ’یہ ہمارے لیے بہت فخر کی بات ہے، ہم نے اس کی کامیابی کے لیے بہت محنت کی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی کے حوالے سے سنجیدہ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائر سکینڈری سکول کے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے بعد موندال نے جادیو پور یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.