bbc-new

بی بی سی 100 ویمن: جسٹس عائشہ ملک جنھوں نے پاکستان میں ٹو فنگر ٹیسٹ کو کالعدم قرار دیا

عدلیہ میں ایک اقلیت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی جسٹس عائشہ ملک کا نام اس تاریخ ساز فیصلے کی شکل میں قوم کے سامنے آیا جس میں ’ٹو فنگر‘ ٹیسٹ کو خلاف آئین و قانون قرار دیا گیا لیکن اس فیصلے کے علاوہ بھی جسٹس عائشہ کی عدالت میں پیش ہونے والے مردوں میں ان کی ایک دھاک ہے۔

رواں سال سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی جسٹس عائشہ اے ملک پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ہیں جنھوں نے اپنے کریئر میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد فیصلے لکھے ہیں۔

ان فیصلوں میں ان کا بطور لاہور ہائیکورٹ جج وہ تاریخی فیصلہ بھی شامل ہے جس میں انھوں نے ریپ سے متاثرہ خواتین کے نام نہاد 'ٹو فنگر ٹیسٹ' پر پابندی عائد کی تھی۔ کسی بھی متاثرہ خاتون کا کنوارپن جانچنے کا یہ ٹیسٹ عام طور پر جنسی تشدد کے کیسز میں دوران تفتیش کیے جاتے تھے تاہم حکومت پاکستان نے جسٹس عائشہ ملک کے فیصلے نے انھیں سنہ 2021 میں ختم کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ میں اپنے نئے کردار کے ساتھ عائشہ ملک دنیا بھر میں ججوں کی ٹریننگز بھی کرواتی ہیں اور انھوں نے خواتین ججوں کے لیے کانفرنسوں کا انعقاد بھی کیا ہے اور قانونی نظام میں صنفی نقطہ نظر کو بحث کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔

ان کی انھیں کاوشوں کی بنیاد پر اُن کا نام 2022 میں بی بی سی کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک کے حوالے سے ذیل میں لکھی گئی تحریر پہلی مرتبہ بی بی سی پر 21 جنوری 2021 کو شائع کی گئی تھی جسے صحافی بینظر شاہ نے لکھا تھا اور اسے آج دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تحریر ان کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی سے قبل لکھی گئی تھی۔


پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑنے کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک کی عدالت میں ایک اصول پر سختی سے عمل پیرا ہونا پڑتا تھا اور وہ یہ کہ کورٹ روم میں بلا تفریق ماسک کی پابندی لازمی کرنا ہو گی۔

باوجود اس پابندی کے حال ہی میں ایک سینیئر وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے اپنا ماسک اتار دیا۔

اس موقع پر عدالت میں موجود ایک اور وکیل نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ماسک اتارنے پر جج صاحبہ نے مذکورہ وکیل کو اپنی عدالت کا اصول یاد دلایا جس پر وکیل نے کہا کہ انھیں ماسک پہن کر بولنے میں دشواری ہوتی ہے۔

جس پر جسٹس عائشہ نے کہا ’ٹھیک ہے، پھر آپ نہ ہی بولیں تو بہتر ہے۔‘ جسٹس عائشہ ملک کی اس تجویز پر وکیل صاحب نے خاموشی سے اپنا ماسک واپس چہرے پر سِرکا لیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائیکورٹ کے 40 معزز جج صاحبان میں شامل صرف دو خاتون ججوں میں سے ایک ہیں۔ پاکستان میں خواتین وکلا کے یکساں مواقع کے لیے کام کرنے والے گروپ ’وویمن ان لا‘ کے مطابق محض 15 فیصد خواتین جج پاکستان کی عدلیہ کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کنواری نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں اس کے ساتھ ریپ نہیں ہوا‘

قانون کی بالادستی کی ’سزا‘، خاتون پولیس افسر کا تبادلہ

پاکپتن کی ایس ایچ او: 'کم از کم میں ان درندوں کو نہ چھوڑوں'

عدلیہ میں ایک اقلیت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی جسٹس عائشہ ملک کا نام اس تاریخ ساز فیصلے کی شکل میں قوم کے سامنے آیا جس میں ’ٹو فنگر‘ یا جنسی استحصال کی شکار خواتین کا دو انگلیوں والا کنوار پن ٹیسٹ کرنے کو خلاف آئین و قانون قرار دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اس نام نہاد ’کنوار پن‘ ٹیسٹ کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں بلکہ یہ خاتون کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے علاوہ بھی جسٹس عائشہ کی عدالت میں پیش ہونے والے مردوں میں ان کی ایک دھاک ہے۔

مریض
BBC
عدالتی فیصلے کے مطابق نہاد ’کنوار پن‘ ٹیسٹ کی کوئی طبی یا سائنسی بنیاد نہیں بلکہ یہ خاتون کے وقار کو مجروح کرتا ہے

جن مرد وکلا سے بات ہوئی ان کا دعویٰ ہے کہ جج صاحبہ بسا اوقات کرخت اور درشت ہو جاتی ہیں اور وکلا کے دلائل کے درمیان ان کا ٹوکنا معمول کی بات ہے۔

دوسری طرف خواتین وکلا اس تاثر کو ’غلط‘قرار دیتے ہوئے ردّ کرتی ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ پیشہ قانون میں صنفی تعصب پایا جاتا ہے جس کی بنا پر خواتین کو اپنے مرد ہم مرتبہ کی نسبت زیادہ سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون وکیل نے کہا کہ ’مرد وکلا ایک خاتون جج کی عدالت میں پیش ہونے پر جز بز ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جتنے مرد وکلا کو میں جانتی ہوں ان کی اکثریت جج صاحبہ کو پسند نہیں کرتی۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’حالانکہ مرد جج بھی کمرہ عدالت کے آداب کی پابندی کروانے پر اتنا ہی مصر ہوتے ہیں لیکن بین السطور ایک مخفی مردانہ انا ہوتی ہے جس کی بنا پر مرد وکل سمجھتے ہیں کہ معزز جج صاحبہ ان کی تربیت کر رہی ہیں اور یہی انھیں ناگوار گزرتا ہے۔‘

’کھرا رہنے کی خواہش‘

لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر تعارف کے مطابق 54 برس کی جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی گرائمر سکول سے اور ایل ایل ایم کی ڈگری امریکہ کے ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی جس کے بعد انھوں نے واپس کراچی آ کر اپنی عدالتی پریکٹس کا آغاز کیا۔

کراچی میں قائم فخرالدین جی ابراھیم اینڈ کو کے سینیئر پارٹنر زاہد ایف ابراہیم کی جسٹس عائشہ اے ملک سے پہلی ملاقات 1997 میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ انٹرویو دینے آئیں تھیں۔ اگلے چار سال جسٹس عائشہ ملک نے زاہد ایف ابراھیم کے والد اور سینئرایڈووکیٹ سپریم کورٹ فخرالدین جی ابراھیم، جو بعد میں گورنر سندھ بھی تعینات ہوئے، کے زیر سایہ کام کیا۔

زاہد ابراھیم کہتے ہیں کہ ’عائشہ بے لاگ اور اپنی بات کہنے والوں میں سے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عرف عام میں جسے قانون کی حکمرانی کہا جاتا ہے عائشہ اس کی بنیاد پر کار فرما ہیں اور ہمیشہ سے ہی ان میں کھرا رہنے کی خواہش رہی ہے۔‘

ذاتی زندگی میں عائشہ مصوری سے محظوظ ہوتی ہیں اور خاص طور پر منی ایچر آرٹ کو پسند کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پالتو جانور رکھنے کی بھی شوقین ہیں۔

ایک حاضر سروس جج جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے اور جسٹس عائشہ کو ابتدائی دنوں سے جانتے ہیں، نے بتایا کہ جسٹس عائشہ کی ایک پالتو بلی بھی ہے اور جس چیز کے بارے میں وہ بہت پرجوش ہیں۔

’حتیٰ کہ آپ انھیں کاغذ تک ضائع کرتے نہیں دیکھیں گے۔ وہ استعمال شدہ کاغذ بھی سنبھال لیتی ہیں اور بعد ازاں ذاتی استعمال کے لیے اسے ڈائری کی شکل میں جلد کروا لیتی ہیں۔‘

سنہ 2001 میں جسٹس عائشہ ملک شادی کے بعد لاہور آ گئیں اور یہاں اپنی وکالت جاری رکھی اور سنہ 2012 میں وہ لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعینات ہوئیں۔

خاتون جج کی جہد ِمسلسل

جسٹس عائشہ ملک اب ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

سنہ 2014 میں جسٹس عائشہ کی عدالت میں ایک وکیل کا لائسنس جج صاحبہ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے کی بنا پر معطل کر دیا گیا تھا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق وکیل نے ’توہین آمیز زبان‘ استعمال کی تھی۔

جسٹس عائشہ ملک کے ساتھی جج کا مزید کہنا تھا کہ مرد وکلا اکثر اوقات ان کے ساتھ بد تمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

’میرا خیال ہے کہ اس بنا پر جسٹس عائشہ سخت گیر ہو گئیں ہیں اور آج حال یہ ہے کہ ان کی عدالت میں اگر ایک سوئی تک گرے تو آپ اس کی آواز سن سکتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا اپنی عدالت میں کتنا دبدبہ ہے۔‘

جسٹس عائشہ خواتین کو پیشہ قانون میں بااختیار بنانے کے لیے ہر دمکوشاں رہتی ہیں۔ سنہ 2016 سے سالانہ پنجاب خواتین ججز کانفرنسمنعقد کروانے میں ان کا کردار مرکزی نوعیت کا رہا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد صوبے کی خواتین ججوں کو پیش آنے والی مشکلات کا تدارک کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اب تک ان کے صادر کیے گئے 99 فیصلے خواتین کے حقوق کے لیے ان کی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

طبی اور جسمانی امتحان پاس کرنے کے باوجود جب سنہ 2013 میں محکمہ انسداد دہشتگردی پنجاب نے اوپن میرٹ پر خواتین کارپورلز کو بھرتی کرنے سے انکار کیا تو ان خواتین کی جانب سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔

اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی پولیس سی ٹی ڈی رائے محمد طاہر کی دلیل تھی کہ محکمہ انسداد دہشگردی کی نوکری ’خطرناک اور محنت طلب‘ کام ہے اور اس بنا پر خواتین کارپورلز کو صرف دفتری کام ہی تفویض کیا گیا ہے جبکہ اس کی نسبت بھاری معاوضے والے کام صرف مردوں کو ہی دیے جاتے ہیں کیوںکہ وہ اس کام کے لیے ’زیادہموزوں‘ ہیں۔

خواتین مدعیوں کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے جسٹس عائشہ ملک نےاپنے فیصلے میں لکھا ’قابلیت کو صنفی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔‘

سیاست اور اس سے جڑے تنازعات

جسٹس عائشہ ملک کی میراث محض صنفی مساوات کے لیے سعی تک محدود نہیں بلکہ وہبطور ایسی ججبھی اپنی پہچان بنا چکی ہیں جو طاقتور حلقوں کے خلاف ایسے دبنگ فیصلے صادر کرنے سے نہیں ڈرتیں جن کی بدولت ان حلقوں میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے۔

سنہ 2016 میں جسٹس عائشہ نے اتفاق شوگر ملز لمیٹڈ اور چودھری شوگر ملز لمیٹڈ کی جنوبی پنجاب منتقلی کو روک دیا۔

درخواست گزار کا الزام تھا کہ یہ دونوں شوگر ملز اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی ملکیت ہیں۔

اپنے اس فیصلے میں معزز جج صاحبہ نے لکھا کہ ’حکومتی سہولت کاری کے ساتھ مذکورہ شوگر ملز اس پابندی کو جُل دینے میں کامیاب ہو گئیں جس کے تحت کپاس کے پیداوار ی علاقوں کو ’نہایت نقصان‘ پہنچنےکے سبب نئی شوگر ملیں لگانے پر قانونیقدغن تھی۔‘

جب مذکورہ کمپنیوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تو وہاں بھی لاہور ہائیکورٹ اور جسٹس عائشہ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ان شوگر ملوں کو واپس اپنی پہلی جگہ پر جانے کا حکم دیا گیا۔

جسٹس عائشہ اے ملک کون ہیں؟

لاہور سے صحافی عباد الحق کے مطابقجسٹس عائشہ اے ملک تین جون 1966 میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے امریکہ میں ہاورڈ لا سکول سمیت پاکستان اور بیرون ملک سے تعلیم حاصل کی۔ وہ سابق چیف الیکشن کمشنر اور نامور قانون دان جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کی ایسوسی ایٹ رہیں اور لگ بھگ چار برس تک یعنی 1997 سے لے کر 2001 تک ان کے ساتھ بطور معاون کام کیا۔

55 سالہ جسٹس عائشہ اے ملک اُس لا فرم کا حصہ رہی ہیں جس کو قائم کرنے والوں میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی تھے۔

جسٹس عائشہ اے ملک کو عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد 27 مارچ 2012 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور یہ دس برس کے وقفے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں کسی خاتون وکیل کا بطور جج تقرر تھا۔

جسٹس عائشہ اے ملک کے لاہور ہائیکورٹ میں تقرر کے بعد اُس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے اُن کے تقرر کے خلاف ایک قرار داد بھی منظور کی تھی جس میں ان کے تقرر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ قرار داد اس وقت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عاصمہ جہانگر گروپ کے صدر اور لاہور ہائیکورٹ کے موجودہ جج جسٹس شہرام سرور چوہدری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کی گئی تھی۔

وہ آئینی، بینکنگ، ٹیکس اور انسان حقوق کے امور دسترس رکھتی ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق وہ پاکستان کی مختلف جامعات میں بینکنگ قوانین سے متعلق پڑھا چکی ہیں۔ انھیں انگلینڈ اور آسٹریلیا میں بچوں کی تحویل، طلاق، خواتین کے حقوق اور پاکستان میں خواتین کے آئینی تحفظ کے کیسز میں ماہر کے طور پر بلایا جا چکا ہے۔

انھوں نے مختلف این جی اوز کے ساتھ غربت کے خاتمے اور مائیکرو فنانسنگ کے پروگرامز میں معاونت کی ہے۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی اشاعت آکسفورڈ رپورٹس فار انٹرنیشنل لا اِن ڈومیسٹک کورٹس کے لیے پاکستان کی رپورٹر رہی ہیں۔

جسٹس عائشہ اے ملک کے مقبول فیصلوں میں جنسی تشدد کی شکار خواتین کے طبی معائنہ کے طریقہ 'ٹو فنگر ٹیسٹ' کے بارے میں فیصلہ بہت نمایاں ہے۔

ان کی شادی نجی لا کالج کے پرنسپل اور قانون دان ہمایوں احسان سے ہوئی اور ان کے تین بچے ہیں۔

سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کے بعد جسٹس عائشہ اے ملک کی معیاد عہدہ میں تین برس کی توسیع ہو گئی ہے۔ پہلے انھوں نے دو جون 2028 کو ریٹائرڈ ہونا تھا لیکن اب 2031 میں ریٹائر ہوں گی۔

اس توسیع سے سپریم کورٹ کی نئی جج جسٹس عائشہ اے ملک اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک سال پہلے چیف جسٹس پاکستان بن سکتی ہیں جو ایک منفرد اعزاز ہو گا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.