زندگی میں بہت غلطیاں کیں، لیکن خود ہی درست کرتا تھا: عمران خان

image

پی ٹی آئی چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان سے زندگی میں بہت غلطیاں ہوئیں، لیکن انہوں نے ان غلطیوں سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔

اسلام آباد میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عام سا آدمی ہوں۔ بڑی غلطیاں کی ہیں زندگی میں، لیکن میں کرکٹ سب سے آگے اس لیے تھا کہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتا تھا۔ اپنا خود ہی نقاد تھا۔ غلطی کو درست کرتا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’دنیا کوئی بھی انسان، معاشرہ یا ادارہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ اسی طرح وہ آگے بڑھتا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ اپنے تین سالہ دور اقتدار میں انہوں بہت چیزیں سیکھیں۔

سابو وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ رجیم چینج میں ملوث تھے وہ انکوائری نہیں چاہتے ہیں۔ ملک کے مستقبل کے لیے رجیم چینج کی انکوائری بہت ضروری ہے امریکا کی ساری رجیم چینج دیکھ لیں انہیں کرپٹ لوگ سوٹ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کیا ہمارے مفاد میں ہے کہ اس طرح کے چوراوپر بیٹھ جائیں اور سوا دو ماہ میں کونسی قیامت آ گئی کہ پاکستان کی اکانومی نیچے چلی گئی یہ آج ہمیں بلیم کررہے ہیں کہ ہماری وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اگر ہمیں ذمہ دارٹھہرا رہے ہیں تو ہمیں ہٹایا کیوں ہمیں ذمہ داری لے لینے دیتے۔‘

عمران خان نے کہا کہ چوروں کے ٹولے کو مسلط کرنے کے لیے حکومت اداروں کو تباہ کرے گی اور جب ملک کے ادارے، رول آف لا تباہ کریں گے تو ملک کا مستقبل تباہ ہوگا اگر یہ کوئی اورچیز کریں گے تو ملک کو مزید دلدل میں پھنساتے جائیں گے۔‘

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’کوئی سوچ نہیں سکتا کرپٹ لوگ اسمبلی میں بیٹھ کر 11 سو ارب کے کیسز معاف کرا لیں۔ انہوں نے نیب قوانین میں ترامیم کردیں۔ نیب اب کچھ نہیں کرسکتا اور انہوں نے اپنی چوری کے تمام دروازے کھول دیئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف کل سپریم  کورٹ جا رہے ہیں ڈھائی مہینے سے جس طرح پنجاب چل رہا ہے سب کے سامنے ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جو بھی یہ سسٹم مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے وہ اپنے آپ کو بدنام اور پاکستان کو نقصان پہنچارہا ہے۔ یہ لوگ صرف اپنی کرپشن بچانے آئے تھے، ان کو پاکستان کی فکر ہی نہیں ہے۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.