دعا زہرہ کیس: عدالت نے ظہیر احمد کا کال ریکارڈ ڈیٹا طلب کر لیا

image

کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے والی لڑکی دعا زہرہ کے مبینہ اغوا کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزم ظہیر احمد کا 15 سے 19 اپریل تک کا کال ریکارڈ ڈیٹا طلب کر لیا ہے۔

بدھ کو کراچی میں کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں ہوئی۔ ملزم ظہیر احمد کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ از سر نو تحقیقات کے حکم سے سی کلاس چالان مسترد ہو جاتا ہے۔ ’ملزم پولیس کے پاس آتا ہے لیکن پولیس اسے گرفتار نہیں کرتی ہے۔‘

’دعا سے بار بار جھوٹ بلوایا گیا ہے، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس کے کہنے پر بچی ایسا کرتی رہی۔ کل جب ملزم ملک سے باہر فرار ہو جائے تو کون ذمہ دار ہو گا۔‘

عدالت نے سرکاری وکیل سے ملزم کی عدم گرفتاری سے متعلق استفسار کیا کہ آپ نے اس کا بیان پھر کیسے لیا؟

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ملزم ظہیر احمد کی 15 اپریل کو کراچی میں موجودگی کے بارے میں جاننے کے لیے کال ڈیٹا ریکارڈر نکالنے کا کہا، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ’ظہیر کا جو پہلے نمبر دیا گیا تھا اس کے مطابق وہ 15 اور 16 اپریل کو کراچی میں نہیں تھے۔ نئے نمبر کا دوبارہ سی ڈی آر نکالنا پڑے گا۔‘

انہوں نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ملزم ظہیر کا سی ڈی آر نکال کر عدالت میں پیش کریں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے کیس کا ضمنی چالان طلب کرتے ہوئے سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.