قاتلانہ حملے میں زخمی ناول نگار سلمان رشدی وینٹی لیٹر پر

image
75 سالہ برطانوی ناول نگار سلمان رشدی پر امریکی ریاست نیویارک میں حملہ ہوا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے کہا ہے کہ ان کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کے جگر کو بھی نقصان پہنچا ہے، بازو کے اعصاب کٹ گئے ہیں اور ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔‘

پولیس نے حملہ آور کی شناخت 24 سالہ ہادی ماتر کے نام سے کی ہے۔ پولیس نے حملہ آور کو جائے وقوعہ سے گرفتار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اس نے کیوں حملہ کیا۔ حملہ آور ماتر کی پیدائش ’شیطانی آیات‘ کے شائع ہونے کے ایک دہائی بعد ہوئی تھی۔

ڈاکٹر مارٹن نے کہا ہے کہ سلمان رشدی کو گہرے زخم آئے ہیں تاہم صحتیاب ہو سکتے ہیں۔

العربیہ نیٹ اور سق ویب سائٹ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جمعے کو سلمان رشدی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ ایک تقریب میں لیکچر دینے والے تھے۔

سلمان رشدی مغربی نیویارک کے شتوقو انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر کے لیے پہنچے تو ’ایک شخص سٹیج کی جانب دوڑا اور اس نے سلمان رشدی پر مکے برسائے اور چاقو سے وار کیے جس کے بعد وہ سٹیج پر گر پڑے۔‘

 حملے کے باعث انسٹی ٹیوٹ میں موجود مہمانوں کو ایمرجنسی راستے سے باہر نکالا گیا۔ 

العربیہ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ سلمان رشدی کو موقعے پر طبی امداد دی گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے سلمان رشدی پر چاقو سے حملے کی تصدیق کی۔

سلمان رشدی کی گردن پر زخم آئے اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

سلمان رشدی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ (فوٹو: روئٹرز)

سٹیج پر موجود افراد نے حملہ آور پر قابو پا لیا تھا۔ 

یاد رہے کہ سلمان رشدی کا نام اس وقت سرخیوں میں آیا جب انہوں نے سنہ 1988 میں ’شیطانی آیات‘ کے نام سے ناول شائع کیا تھا۔ اس پر دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جبکہ ایران کی طرف سے قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔

75 سالہ سلمان رشدی انڈیا کے ایک تاجر کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی جبکہ کیمبرج یونیورسٹی سے تاریخ کے مضمون میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.