حیات آباد کے ایک مکان میں فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک، پولیس کی جانب سے داعش کے دعوے کی تردید

پولیس کے مطابق یہ کارروائی پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک مکان میں جرائم پیشہ مفرور افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی اور گھر کے اندر سے فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تاہم اس واقعے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
پولیس
AFP
(فائل فوٹو)

رات کا پہلا پہر تھا، پشاور شہر کے سب سے پوش علاقے حیات آباد میں لوگ سونے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں شروع ہوئیں اور تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد بھی کچھ دیر تک فائرنگ کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔ رات کے اس پہر فائرنگ سے لوگوں میں خوف پھیل گیا۔

حیات آباد کے جس مکان میں فائرنگ ہوئی ہے یہ قبائلی علاقے ضلع خیبر کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔

ہلاک ہونے والے پولیس کے اہلکار اے ایس آئی ریاض اور کانسٹیبل جعفر تھے جن کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

پولیس کا موقف ہے کہ وہ وہاں مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق اس گھر سے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تین الگ الگ مؤقف

اس واقعے کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی مکان میں جرائم پیشہ مفرور افراد کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔

دوسری جانب مکینوں کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ باہر پولیس ہے بلکہ انھیں تو دروازے کے باہر سے پیزا ڈیلیور کرنے والے کا کہا گیا اور جب نامعلوم افراد ان کے گھر میں داخل ہونے لگے تو انھوں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔

تیسرا مؤقف کالعدم شدت پسند تنظیم داعش کا سامنے آیا ہے جنھوں نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پولیس
Getty Images
(فائل فوٹو)

پولیس کا موقف: ’داعش کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں‘

پشاور کے پولیس افسر احسن عباس سے جب پوچھا گیا کہ داعش نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ اس میں داعش کے لوگ ملوث تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اصل حقائق سامنے آ جائیں گے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے میں داعش کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اس مکان میں بھی مفرور افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی جس پر چھاپہ مارا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

حیات آباد آپریشن: ’پانچ شدت پسند ہلاک، مکان دھماکے سے منہدم‘

پشاور میں کم عمر نوجوان کی جیل میں موت، پولیس تشدد یا خود کشی؟

’اسامہ ستی قتل کیس میں ملوث اسلام آباد پولیس کے پانچ اہلکار برطرف‘

بلوچستان میں مبینہ پولیس فائرنگ سے دس سالہ بچہ ہلاک، لواحقین کا لاش سمیت احتجاج

حیات آباد کے پولیس تھانہ تاتارہ میں درج رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھانہ شرقی جور تھانہ ٹاؤن کے پولیس اہلکاروں نے ضلع بنوں کی پولیس کو مطلوب اشتہاری ملزم حمیداللہ کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی پولیس اہلکار مکان کے اندر داخل ہوئے اس وقت اچانک پولیس پر فائرنگ شروع ہوئی جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے جنھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس تھانے سے مزید نفری طلب کی گئی اور ایک شخص کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔

پشاور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر احسن عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی شہر میں جاری جرائم پیشہ افراد اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کی مہم کا ہی ایک حصہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر فائرنگ کے بعد گرفتار شحص سے 9 ایم ایم کا پستول اور جائے وقوعہ سے گولیوں کے 16 خول بھی ملے۔ اس کے علاوہ مکان سے ایک رائفل اور کارتوس بھی برآمد ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار اپنی وردی میں گئے تھے اور پولیس کو دیکھتے ہوئے اس مکان سے فائرنگ ہوئی اور اس واقعے کے بعد مکان کی چھت سے بھی فائرنگ ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ اس کی باقاعدہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اصل حقائق معلوم کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں احسن عباس نے بتایا کہ پشاور شہر میں کسی بھی تھانے کی پولیس کہیں بھی کارروائی کر سکتی ہے اور اس کے لیے تمام تھانوں سے رابطے کیے گئے تھے۔

پولیس
Getty Images
(فائل فوٹو)

’پولیس اہلکار پیزا ڈیلیور کرنے کے بہانے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے‘

اس واقعے پر اس وقت سوالات اٹھائے جانے لگے جب اس گھر کے مکینوں کی جانب سے یہ الزام سامنے آیا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس افراد چادر لیے پیزا ڈیلیور کرنے کے بہانے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جس پر انھوں سے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور اس سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

ان مکینوں کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی دشمنی ہے اور پہلے بھی اغوا کی کوششیں ہو چکی ہیں۔

اس خاندان کے ایک رکن سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا تاہم گرفتار ملزم کے بھائی نے، جو میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مقامی صحافی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بھائی یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے گھر پر پیزا ڈیلیور کرنے والے کے نام سے آواز آئی تو ان کے بھائی نے معلوم کیا کہ کسی نے پیزا کا آرڈر دیا ہے، جس پر سب نے کہا کہ کسی نے پیزا آرڈر نہیں کیا۔

انھوں نے بتایا کیا کہ اس کے باوجود باہر سے اصرار پر جب دروازہ کھولا تو دو افراد چادر لپیٹے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کے پاس اسلحہ تھا جس پر اپنے دفاع میں پھر فائرنگ کی گئی۔

گرفتار ملزم کے بھائی نے بتایا کہ ان کی ضلع بنوں میں دشمنی ہے اور سنہ 2007 اور 2017 میں ان کے بھائی کے اغوا کی کوششیں ہو چکی ہیں جبکہ گزشتہ سال ان کے چچا اور دو کزن ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ سرکاری گاڑی تھی نہ ہی لیڈی اہلکار اور کوئی وارنٹ بھی نہیں تھا۔ گرفتار ملزم کے ایک کزن نے مقامی صحافی کو بتاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس جاتے وقت سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج بھی ساتھ لے گئی۔

سی سی پی او احسن عباس نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق اغوا کی کوشش کے کوئی شواہد نہیں اور یہ کہ پولیس اہلکار مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے گئے تھے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.