’ویکسین نہیں لگوائی‘ لیکن فہرست میں پرینکا، اکشے، مودی کا نام شامل

image
انڈیا کی ریاست بِہار کے ایک ضلعے کے طبی مرکز کی ویکسین شدہ افراد کی فہرست میں وزیراعظم نریندر مودی، سونیا گاندھی اور پرینکا چوپڑا کا نام پایا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں انہوں نے اس جگہ سے ویکسین لگوائی ہی نہیں۔

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ جے پریادرشنی کا کہنا ہے کہ بہار کے ضلع ارول کے کرپی ہیلتھ سینٹر میں ویکسین شدہ افراد کی فہرست کا حال ہی میں معائنہ کیا گیا جس کے بعد دو کمپیوٹر آپریٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اس فہرست میں وزیراعظم نریندر مودی، سونیا گاندھی اور پرینکا چوپڑا کے علاوہ بالی وڈ سٹار اکشے کمار اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام بھی شامل تھے۔

ان فہرستوں کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

جے پریادرشنی کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں پتا چلے گا کہ کیسے اور کس کے کہنے پر ڈیٹا فراڈ کیا گیا۔

’یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ ہم بہت کوشش کر رہے ہیں کہ ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن میں تیزی لائیں اور پھر ایسی بے قاعدگیاں ہورہی ہیں۔ صرف کرپی میں نہیں ہم تمام طبی مراکز کا معائنہ کریں گے اور ایف آئی آر درج کروائی جائے گی۔ ہم کارروائی کریں گے اور معیار طے کریں گے۔‘

بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے کا کہنا تھا کہ ’میں نے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ اور چیف میڈیکل افسر سے بات کی ہے اور انہیں دیگر ہسپتالوں کے ڈیٹا کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی غلطیاں نہ ہوں۔ اگر ہوں تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔‘

اس فہرست میں اکشے کمار اور وزیر داخلہ امت شاہ کے بھی نام تھے۔ فوٹو: این ڈی ٹی وی

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان معاملات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اگر ایسے مزید کیسز سامنے آئے تو کارروائی کی جائے گی۔‘

وزیر صحت سے پٹنا میں ڈیٹا فراڈ کے واقع کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں کورونا وائر س کی دوسری ڈوز کے لیے ویکسینیشن سینٹر جانے والوں کو کہا گیا تھا کہ انہیں دونوں ڈوز لگ چکی ہیں۔

اس پر وزیر صحت نے جواب دیا کہ ’یہ تکنیکی معاملات ہیں۔ ہم سسٹم میں غلطیوں کی گنجائش نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر آپ غلطی کریں گے تو آپ کو کارروائی کا سامنہ کرنا ہوگا۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.