وزیراعظم عمران خان آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس آج سنیچر کو ہو رہا ہے جس میں وزیراعظم عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

صدر مملکت کی جانب سے طلب کیا گیا اجلاس سوا بارہ بجے شروع ہوگا۔ اجلاس شروع ہونے کے بعد سپیکر وزیراعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے کی قرارداد پر کارروائی شروع کریں گے۔

اجلاس شروع ہونے سے قبل پانچ منٹ گھنٹیاں بجائی جائیں گی جس کے بعد ارکان کو کہا جائے گا کہ اگر وہ وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو حکومتی لابی کے دروازے پر موجود شمار کنندگان کو اپنا نام لکھوائیں اور خود لابی مں چلے جائیں۔

کارروائی مکمل ہونے کے بعد ارکان کو ایوان میں بلا کر سیکرٹری قومی اسمبلی کی جانب سے مرتب کیے گئے نتیجے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے اگرچہ اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان خود کیا تھا لیکن صدر کی جانب سے آئین کی جس شق کے تحت اجلاس بلایا گیا ہے اس کے مطابق صدر سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم اکثریت کھو چکے ہیں اس لیے انہیں اعتماد کے ووٹ کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی کے 341 ارکان پر مشتمل ایوان میں حکومت کو 181 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ اعتماد کے ووٹ میں کامیابی کے لیے وزیراعظم عمران خان کو 172 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

اسلام آباد میں حکمران اتحاد کو اکثریت حاصل تھی لیکن حکومتی امیدوار کو شکست کے بعد اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوئی۔ فوٹو: سینیٹ آف پاکستان

اعتماد کے ووٹ کے لیے اوپن وٹنگ ہوگی۔ ارکان ڈویژن کے ذریعے وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔

متحدہ اپوزیشن کا اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہدوسری جانب اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے اس خصوصی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

سکھر میں میڈیا سے گفتگو میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 'عدم اعتماد سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں ہوچکا۔ صدر مملکت نے اجلاس بلانے کے لیے یہی لکھا ہے کہ اکثریت کا اعتماد کھوچکے ہیں اور اب اپوزیشن کی عدم شرکت کے بعد اس اجلاس کی کوئی سیاسی حثیت نہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'عمران خان نے جس لب و لہجے میں قوم سے خطاب کیا اس سے شکست جھلک رہی ہے۔ عمران خان کے بقول سینیٹ الیکشن میں بولی لگی ہے وہ اپنی پارٹی کے ارکان کو بکاؤ مال کہہ رہے ہیں۔ وہ اعتماد کا ووٹ لیں گے تو ان اراکین کا ووٹ بھی شامل ہوگا جن کو وہ بکاؤ مال کہتے ہیں۔'

انہوں نے اعلان کیا کہ کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کا کوئی رکن نہیں جائے گا۔

رکان کو کہا جائے گا کہ اگر وہ وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو حکومتی لابی کے دروازے پر موجود شمار کنندگان کو اپنا نام لکھوائیں (فوٹو: قومی اسمبلی ٹوئٹر)

تین مارچ کو اسلام آباد، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات ہوئے تھے۔ اسلام آباد میں پولنگ میں ارکان قومی اسمبلی نے ووٹ ڈالے جہاں پر حکمران اتحاد کو اکثریت حاصل تھی لیکن حکومتی امیدوار کو شکست کے بعد اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوئی۔

اسی وجہ سے وزیر اعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا۔ جمعرات کی شام قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’ارکان اسمبلی ضمیر کے مطابق ووٹ دیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ مجھے وزیراعظم نہیں رہنا چاہیے تو میرے خلاف ووٹ دیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ میں اہل نہیں تو کھل کر کہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اعتماد کے ووٹ میں اگر میرے مخالفین جیت جاتے ہیں تو میں اپوزیشن میں بیٹھ جاوں گا۔ اگر ارکان اسمبلی کو لگتا ہے کہ میں نااہل ہوں، اتنا قابل نہیں۔ آرام سے ہاتھ اوپر کریں میں اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔‘

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’سب کے سامنے بتائیں کہ عمران خان کےساتھ نہیں ہیں۔ یہ آپ کا جمہوری حق ہے میں اس کی عزت کروں گا۔‘


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

20