نورمقدم قتل کیس:گرفتارجمیل احمد کی درخواستِ ضمانت پرفیصلہ محفوظ

image

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں گرفتار جمیل احمد کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔ ملزم کے وکیل راجہ رضوان عباسی اور مدعی کے وکیل بابر علی سمورش عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کی ضمانت منسوخی کا فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا۔

جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے درخواست گزار نے 161 کا بیان ریکارڈ کرایا؟ وکیل راجہ رضوان عباسی نے بتایا کہ میرے موکل نے 161 کا بیان ریکارڈ کرایا ہے۔

شوکت مقدم کے وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار جمیل کے خلاف چارج فریم ہوچکا ہے،ملزم جمیل کا مالی اور چوکیدار تک کے ساتھ رابطہ تھا،درخواست گزار کی موقع واردات کے گھر پر موجودگی ثابت ہے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالتی بیان میں تو درخواست گزار نے خود کہا کہ مجھے مالی نے بتایا تھا۔شوکت مقدم کے وکیل کی جانب سے چارج فریم کی کاپی عدالت کو فراہم کی گئی۔

بیس اکتوبر کو نورمقدم قتل کیس میں ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے کیس ٹرائل کا باقدہ آغاز کردیا ہے۔ ملزم ذاکرجعفر کی فرد جرم کالعدم قرار دینے کی درخواست پر بھی ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 اکتوبر 2021 کوجواب طلب کرلیا ہے۔

ماتحت عدالت نے استغاثہ کے پہلے گواہ کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔ گواہان میں مقدمے کا تفتیشی کمپیوٹرآپریٹراور نقشہ نویس شامل ہیں۔گواہ کے بیانات پر وکیل نے1 گھنٹہ تک جرح کی۔گواہ سےکیس سے متعلق مختلف سوالات پوچھے گئے۔عدالت نےمرکزی ملزم ظاہر جعفرکا وکیل بھی مقرر کردیا۔

 اٹھارہ اکتوبر کواسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم کے والد ذاکرجعفر کی فرد جرم کے خلاف دائر درخواست پرفریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔ نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے فرد جرم کو چیلنج کردیا ہے۔ ذاکر جعفر نے فرد جرم کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

ذاکر جعفر نے ٹرائل کورٹ کا 14 اکتوبر کا حکم نامہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ ذاکر جعفر کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا آرڈر قانونی نظر سے نامناسب ہے، ٹرائل کورٹ نے تاثردیا کہ فرد جرم پراسیکیوشن کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے، آرڈر سے تاثر ملا کہ پولیس جو بھی الزام لگا دے اس پر فردِ جرم ہو سکتی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے تاثر دیا کہ فرد جرم محض ایک مکینیکل مشق ہے،اس لئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

نورمقدم قتل کیس:ملزم ظاہرجعفرکی والدہ عصمت کی درخواستِ ضمانت منظوراس کےعلاوہ پیر کو سپریم کورٹ میں نورمقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی والدہ عصمت ذاکر کی درخواست ضمانت منظورکرلی گئی ہے۔عدالت نے عصمت ذاکر کو10 لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا ۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ نورمقدم کے قتل میں ملزم کی والدہ کا کردار ثانوی ہے۔ ملزمان کے وکیل کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرے گی، ٹرائل کورٹ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا پورا حق فراہم کرے۔مقدمے کے فیئر ٹرائل میں کسی صورت کمپرومائز نہیں کیا۔فوجداری مقدمہ 3 دن کا کیس ہوتا ہے۔ دو دو سال سال ٹرائل ہی مکمل نہیں ہونے دیا جاتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیس کے روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی ہدایت کردیتے ہیں۔

 اس سے قبل ملزمان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ عصمت ذاکر اور ذاکر جعفر  مرکزی ملزمان نہیں،ملزمان کو قتل چھپانے اور پولیس کو اطلاع نہ دینے کا الزام ہے جبکہ قتل چھپانے کے حوالے سے ملزم کا بیان اور کالز ریکارڈ ہی شواہد ہیں۔خواجہ حارث نے بتایا کہ پونے 7 بجے سے 9 بجے تک والد ملزم سے رابطے میں رہا۔

تین روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کی جانب سے ڈیجیٹل شواہد فراہمی کی درخواست پر مدعی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مدعی مقدمہ شوکت مقدم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے20 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نےکمرہ عدالت میں نوٹس وصول کرلیا۔ ٹرائل روکنے کی درخواست پر بھی شوکت مقدم کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا اور حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا گیا۔

نورمقدم قتل کیس:مرکزی ملزم ظاہرجعفر سمیت12ملزمان پرفردِجرم عائددرخواست گزار کے وکیل اسد جمال نے استدعا کی ہے کہ ابھی تک اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد فراہم نہیں کئے گئے۔ سیشن کورٹ نے ملزمان پر جمعرات 14 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کردی ہے،بیس اکتوبر کو ٹرائل کورٹ میں شہادتیں قلمبند ہونگی،اس لئے 20 اکتوبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کریں۔ذاکرجعفر اورعصمت ذاکر اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

 واضح رہے کہ جمعرات 14 اکتوبر کو ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔عدالت میں مرکزی ملزم سمیت 6 ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت پیش کیا گیا۔ ضمانت پر موجود تھراپی ورک کے 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ مرکزی ملزم ظاہرجعفر،ذاکر جعفر،عصمت آدم،افتخار،جمیل،جان محمد پرفرد جرم عائد کی گئی۔ تھراپی ورک کے طاہر ظہور سمیت6 ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کرلیے ہیں۔

نورمقدم کیس:ملزمان نےدستاویز فراہمی کا مسترد ہونےوالافیصلہ چیلنج کردیادوران سماعت ذاکر جعفر کے وکیل رضوان نے بتایا کہ عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا اوران شواہد کی بنا پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔شوکت مقدم کےوکیل نے بتایا کہ ان شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا کیوں کہ اس وقت فرد جرم عائد کی جا رہی ہے اور سزا نہیں سنائی جا رہی ہے۔

وکیل کے دلائل کے دوران ظاہر جعفر مسلسل مداخلت کرتے رہے۔انھوں نے تھراپی ورکس کے اہلکاروں کی جانب سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندے میرے گھر داخل ہوئے۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ میری زندگی خطرے میں ہے اور یہ میری جائیداد کا ذکر کررہے ہیں،میری جائیداد سے متعلق یہاں بات نہ کی جائے۔ ملزم ظاہر جعفر نے انکشاف کیا کہ نور قربان ہونا چاہتی تھی اور اس نے خود کو قربانی کیلئے پیش کیا۔

ملزم ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لی اور کہا کہ میرے زندگی خطرے میں ہے،مجھ  پر رحم کریں۔ظاہر جعفر کا ملازم ملزم افتخار کمرہ عدالت میں رو پڑا اور کہا کہ نور مقدم کا دو سال سے آنا جانا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ یہ ہوجائے گا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.