bbc-new

کیا قبل از وقت انتخابات ہونے سے پاکستان میں سیاسی و معاشی استحکام آ جائے گا؟

پاکستان کی معیشت اس وقت جمود کا شکار ہے۔ اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتوں، تنزلی کے شکار روپے اور توانائی کی قلت نے ایک معاشی بحران کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی طور پر بھی پاکستان اس وقت دو سیاسی کیمپوں میں تقسیم نظر آ رہا ہے۔ تو کیا قبل از وقت انتخابات ہونے سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں؟
پاکستان
Getty Images

لاہور کی رہائشی منصب گھروں میں کام کاج کر کے محض 24000 روپے کماتی ہیں اور اس آمدن سے وہ چار افراد کے اپنے کنبے کو پالتی ہیں۔ اپنے خاندان کی واحد کمانے والی 35 سال کی اس خاتون کو کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے بنیادی اشیائے خوارک مثلاً گھی، چینی اور سبزی وغیرہ کے استعمال میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اب میں تھوڑی تھوڑی کھانے کی چیزیں لیتی ہوں اور ہم سب تھوڑا تھوڑا ہی کھاتے ہیں۔‘

بے بسی سے انھوں نے استفسار کیا کہ ’اور کیا کریں؟‘ اگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں یوں ہی بڑھتی رہی تو انھیں نہیں علم کہ وہ کب تک اپنا گھر چلا سکیں گی۔

پاکستان کی معیشت اس وقت جمود کا شکار ہے۔ اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتوں، مہنگائی، تنزلی کے شکار روپے اور توانائی کی قلت نے ایک معاشی بحران کو جنم دیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 6 ارب ڈالر کا وہ معاشی پیکج جو اپریل میں معطل ہوا تھا، یہ رقم کب تک پاکستان کو مل سکے گی، اس بارے میں ابھی کچھ مراحل باقی ہیں۔

سیاسی طور پر بھی پاکستان اس وقت دو سیاسی کیمپوں میں تقسیم نظر آ رہا ہے اور ایسے میں سیاستدان ایک دوسرے پر ’غدار، بیرونی ایجنٹ اور کرپٹ مافیا‘ جیسے الزامات لگا رہے ہیں۔

پاکستان، خاتون
Getty Images

سابق وزیراعظم عمران خان کے مطابق پاکستان کے تمام سیاسی اور معاشی مسائل کا حل جلد از جلد نئے انتخابات کے انعقاد میں ہے۔ 18 جولائی کو اپنے ایک خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک سیاسی بحران ختم نہیں ہو گا ہماری معیشت اور مزید نیچے جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک ہی راستہ ہے اب اور وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات۔‘

دوسری جانب عمران خان کے اتحادی شیخ رشید نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے مابین ایک معاہدہ طے پا گیا ہے اور اسی برس اکتوبر میں عام انتخابات ہو جائیں گے۔

لیکن حکمران اتحاد جس نے اپریل میں عمران خان کو اقتدار سے باہر کرنے کے بعد حکومت سنبھالی، وہ استقامت سےاپنی مدت پوری کرنے اور انتخابات اپنے وقت پر یعنی اگلے برس اکتوبر میں ہی کروانے کے مؤقف پر سختی سے قائم ہے۔

منصب نے بھی عمران خان کا انتخابات کا مطالبہ سن رکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد حالات بہتر ہونے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن حالات عموماً بہتر نہیں ہوتے۔

اس کے باوجود وہ کہتی ہیں کہ اگر عمران خان درست ہیں اور نئے انتخابات سے مہنگائی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تو کیوں نہیں؟

انھوں نے کہا کہ ’لیکن ہمیں ان (عمران خان) کی بات کی سچائی کا انتخابات کے بعد ہی پتا چلے گا۔‘

آئی ایم ایف
Getty Images

کیا نئے انتخابات معاشی استحکام لا سکیں گے؟

ماہر معاشیات عاطف میاں کے بقول پانچ سال کے مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی ایک نئی سیاسی جماعت، ضروری نہیں کہ معاشی استحکام بھی لے آئے۔

ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹس واضح حالات کا تقاضا کرتی ہیں اور پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت نے اس بارے میں کوئی واضح منصوبہ نہیں بنایا ہوا کہ اگر وہ الیکشن جیت جاتی ہیں تو وہ معیشت کو کیسے چلانا چاہتی ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جو بھی اقتدار میں آئے گا، وہ مثلاً ٹیکس یا انفراسٹرکچر کی ترقی یا زراعت کے ضمن میں کون سی پالیسیاں مرتب کرے گا؟ ان کا وزیر خزانہ کون ہو گا؟ ان تفصیلات پر بات کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ یہ تفصیلات کسی سیاسی جماعت یا اسٹیبلشمنٹ سے پوچھیں گے تو کوئی جواب نہیں ملے گا۔‘

عاطف میاں کے نزدیک ایک اور مسئلہ جو مارکیٹس میں بہت زیادہ الجھن کا باعث ہے وہ یہ کہ اس وقت معیشت چلا کون رہا ہے۔

انھوں نے پوچھا کہ ’معیشت کا انچارج کون ہے اس ملک میں؟‘

مہنگائی
Getty Images

انھوں نے اپنے سوال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر مجھے کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہو تو میں کس سے بات کروں گا؟ کیا میں وزیراعظم سے بات کروں یا چیف آف آرمی سٹاف سے بات کروں؟ جب آپ کو اس سوال کا جواب نہیں پتا تو یہ ایک خطرناک بات ہے۔‘

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ہی پاکستان کے فوجی سربراہ نے براہ راست امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کو فون کر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی جلد ادائیگی کی درخواست کی تھی۔

اس کے علاوہ گذشتہ تین برس میں آرمی چیف نے کاروباری برادری سے مختلف اوقات میں براہ راست ملاقاتیں کیں۔

حتیٰ کہ سنہ 2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے قومی ترقیاتی کونسل قائم کی جس کے نوٹیفیکیشن کے مطابق اس کا مقصد ’معاشی ترقی کے لیے پالیسیز کی تشکیل‘ تھا۔ کونسل کے سربراہ وزیراعظم تھے جبکہ اس کے اراکین میں ایک آرمی چیف بھی تھے۔

انٹر لوپ لمیٹڈ کے چئیرمین مصدق ذوالقرنین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ '’جب کاروباری حضرات اسٹیبلشمنٹ سے ملتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ انھیں بلاتی ہے تو اس سے حکومت پر اعتماد میں کمی کا اظہار ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا فوری انتخابات ہی پاکستان کی معاشی مشکلات کا حل ہیں، مصدق ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مسائل قلیل مدتی نہیں بلکہ طویل مدتی ہیں جن کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ ساختی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہاں شاید نئے انتخابات سے کچھ قلیل مدتی معاشی استحکام آ جائے ’لیکن اگر مصنوعات اور تیل کی قیمتوں سمیت لوڈ شیڈنگ ایسے ہی رہی تو کوئی بڑا اثر نہیں آئے گا۔‘

عاطف میاں بھی سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان کے [معاشی] مسائل بنیادی طور پر طویل مدتی نوعیت کے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ پاکستان آج جہاں کھڑا ہے اس میں قلیل مدتی استحکام نامی کوئی شے ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ نئے انتخابات سے ’کیا پاکستان استحکام کی طرف جائے گا یا مزید غیر مستحکم ہو جائے گا؟‘

پاکستان
Getty Images

کیا نئے انتخابات سے سیاسی پولرائزیشن میں کمی آ سکے گی؟

لمز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عمیر جاوید کے مطابق ایک نیا آغاز شاید تمام سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ابھی ہم جہاں کھڑے ہیں اور جو کچھ پنجاب کے ضمنی انتخاب میں ہوا، ایک چیز تو صاف واضحہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت واضح برتری کے ساتھ مینڈیٹ نہیں رکھتی۔‘

عمیر جاوید کی دلیل ہے کہ سیاسی مینڈیٹ منقسم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب یہ نظر آ رہا ہے کہ اتحادی حکومت کے ذریعے ایک اقلیتی حکمرانی قائم ہے۔ کم از کم انتخابات سے تمام سیاسی جماعتوں کو اس بات کا تو ادراک ہو جائے گا کہ وہ کہاں کھڑی ہیں۔‘

لیکن یہاں ایک سوال اور سامنے آتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ان انتخابات کا نتیجہ ماننے سے انکاری ہو گئی تو؟

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پہلے ہی ملک کے چیف الیکشن کمشنر پر تعصب اور اپنی حریف جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔ وہ بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ موجودہ الیکشن کمشنر کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں مہنگائی کب تک جاری رہے گی اور کیا اس میں کمی کا امکان ہے؟

جولائی میں بجلی کے بل جیبوں پر بھاری کیوں پڑے؟

پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار اگلے مالی سال میں کیوں برقرار نہیں رہ پائے گی؟

پاکستان
Getty Images

عمیر جاوید کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی انتخابی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو پھر آپ کے پاس سیاسی عدم استحکام کا ایک اور دور ہوگا۔ پی ٹی آئی نے تاریخی طور پر انتخابی نتائج کو تباہ کن طریقوں سے چیلنج کیا ہے۔‘

پلڈاٹ کی جوائنٹ ڈائریکٹر آسیہ ریاض اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ نئے انتخابات سے معاشرے میں مزید پولرائزیشن اور عدم استحکام کا خطرہ ہے۔

آسیہ ریاض نے بتایا کہ ’جس طرح سے عمران خان سیاست کر رہے ہیں اس سے یہ امکان نہیں کہ وہ کسی ایسے انتخابی فیصلے کو قبول کریں گے جو پی ٹی آئی کے لیے اکثریت کو جنم نہ دے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کسی بھی مستقبل کے انتخابات کی سب سے زیادہ پریشان کن بات ہے۔‘

اس بارے میں سیاسی جماعتیں کیا سوچتی ہیں؟

پچھلے مہینے کی ایک بیٹھک میں اتحادی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ عمران خان کے مطالبے کے مطابق قبل از وقت انتخابات نہیں کرائے گی اور اگست 2023 کو ختم ہونے والی اپنی مدت پوری کرے گی۔جمعیت علمائے اسلام کے سینئیر رہنما کامران مرتضی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم نے ایک بہت بڑا رسک لیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم پہلے یہی چاہتے تھے کہ [پی ٹی آئی کی] حکومت گرائیں اور الیکشن کروا دیں لیکن اس وقت حالات اتنے خراب تھے کہ ایک یا دو مہینے میں [حکومت] چھوڑنا ریاست کے لیے ممکن نہیں تھا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ اب جبکہ پی ڈی ایم نے حکومت سنبھال لی ہےتو اسے ڈیلیور کرنا ہی ہو گا۔

کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ ’سیدھی سی بات ہے، معیشت کو مستحکم کر لیں اور کسی نہ کسی طرح عوام کو ریلیف دیں پھر الیکشن میں جائیں گے۔‘

لیکن پی ٹی آئی کے بانی ارکان میں سے ایک اور پنجاب کے سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اقتدار میں معیشت پہلے ہی سے درست سمت میں جا رہی تھی۔

عمر چیمہ نے بتایا کہا کہ ’معیشت ترقی کر رہی تھی ، برآمدات بڑھ رہی تھیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم تھا، تمام معاشی اشاریے مثبت تھے لیکن پھر یہ سپیڈ بریکر آیا جس نے معیشت کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔‘

اب ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام براہ راست معیشت پر اثر ڈال رہا ہے اور مارکیٹ میں الجھن پھیلا رہا ہے۔ عمر چیمہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’لیکن محض الیکشن کروانے سے تو معاملات حل نہیں ہوں گے۔ جب تک صاف شفاف انتخابات نہیں ہوتے سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.