bbc-new

شہباز گل کا فون برآمد کرنے کی کوششیں، ڈرائیور کی اہلیہ اور برادر نسبتی گرفتار

اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے کے مندرجات کے مطابق پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم شہباز گل، جو بغاوت کے مقدمے میں پولیس کی حراست میں ہیں، نے دوران تفتیش پولیس حکام کو بتایا کہ جب پولیس نے انھیں گرفتار کیا تو انھوں نے اپنا موبائل فون اپنے اسسٹنٹ اور ڈرائیور محمد اظہار کے حوالے کر دیا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے ڈرائیور اظہار کی اہلیہ اور برادر نسبتی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، پولیس پارٹی پر حملہ کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے کے مندرجات کے مطابق پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم شہباز گل، جو بغاوت کے مقدمے میں پولیس کی حراست میں ہیں،نے دوران تفتیش پولیس حکام کو بتایا کہ جب پولیس نے انھیں گرفتار کیا تو انھوں نے اپنا موبائل فون اپنے اسسٹنٹ اور ڈرائیور محمد اظہار کے حوالے کر دیا تھا۔

اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دوران تفتیش ملزم شہباز گل نے پولیس کو بتایا تھا کہ محمد اظہار اس وقت اپنے سسرال والوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔

’سات افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا‘

ایف آئی آر کے مطابق ملزم سے کی جانے والی تفتیش کی روشنی میں شہباز گل کے زیر استعمال موبائل فون کی بازیابی کے لیے پولیس کی ایک ٹیم نے جب مذکورہ گھر پر چھاپہ مارا تو مہرین بی بی، جو اظہار کی اہلیہ ہیں، اور اظہار کے برادر نسبتی محمد نعمان سمیت سات افراد نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا جس سے دو پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھٹ گئیں۔

مقدمے کے مطابق ان میں سے پانچ افراد وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ پولیس نے مہرین بی بی اور محمد نعمان کو حراست میں لے لیا۔

گرفتاری کے بعد ملزمان کو متعقلہ عدالت میں پیش کیا گیا تو متعقلہ عدالت نے شہباز گل کے ڈرائیور کے برادر نسبتیمحمد نعمان کو دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا جبکہ ڈرائیور کی اہلیہ مہرین بی بی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے۔

سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل فیصل چوہدری نے درج مقدمہ کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ رات 9 بجے کا واقعہہے جس کا ویڈیو ثبوت موجود ہے کہ بغیر وارنٹ پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے اور اہل خانہ کو مارا پیٹا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کے ڈرائیورکے گھر چھاپے اور گرفتاری کو قانونی قرار دیا ہے۔

https://twitter.com/ICT_Police/status/1557615370294394880

فیصل چوہدری نے کہا کہ ہمنے حبس بے جا کی درخواست دائر کرنی تھی لیکن پولیس نے میڈیا پر خبر نشر کروا دی۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ اس مقدمہ میں خاتون کی بریت بنتی ہے اور اس مقدمہ میں ایک دفعہ کے علاوہ تمام دفعات قابل ضمانت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خاتون ملزمہ کی ایک 12 ماہ کی بچی ہے جو ماں کے بغیر گھر میں رو رہی ہے۔ انھوں نے استدعا کی کہ خاتون ملزمہ کو مقدمہ سے بری کیا جائے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمہ کی بچی کو بھی عدالت میں لایا گیا جس نے اپنی والدہ کو دیکھرونا شروع کر دیا۔ پولیس نے بچی کو ماں کے پاس جانے سے روکا تو عدالت نے حکم دیا کہ بچی کو ماں کے حوالے کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

’ٹو ہاٹ ٹو ہینڈل‘: سابق وزیراعظم کے ’قابل اعتماد‘ چیف آف سٹاف شہباز گل کون ہیں؟

شہباز گل کے بیان اور سیاستدانوں کی جانب سے ماضی میں فوج پر تنقید میں کیا کوئی فرق ہے؟

اے آر وائے نیوز فوری بحال کرنے کا حکم، ’چینل شہباز گل کو مدعو نہیں کرے گا‘

’پولیس اہلکار دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے‘

سماعت کے دوران جب عدالت نے خاتون ملزمہ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے کچھ کہنا ہے تو ملزمہ نے اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’پولیس اہلکار دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور ہمیں تب معلوم ہوا جب پولیس ہمارے بیڈ روم تک پہنچ گئی۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔

عدالت نے ملزم نعمان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی کچھ کہنا ہے، جس پر ملزم نعمان نے کہا کہ 20 سے زائد پولیس اہلکار بیڈ روم میں داخل ہوئے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس نے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ نعمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ ملزمہ کے وکیل نے اپنی موکلہ کیضمانت بعد از گرفتاری کیلئے درخواست بھی دائر کر دی ہے۔

ملزمہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی موکلہ کو جیل منتقل کرنے کی بجائے خواتین پولیس سٹیشن منتقل کر دیا جائے کیونکہ ضمانت کی درخواست پر عدالت نے نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور جمعے کے روز اس درخواست پر سماعت ہو گی جس پر عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی یہ استدعا منظور کر لی۔

’ملزم کا موبائل فون ملنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘

دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے عدالتی حکم پر ملزم شہباز گل کا طبی معائنہ کروایا ہے جس میں اسلام آباد پولیس کے بقول ڈاکٹروں نے ملزم کو جسمانی طور پر صحت مند قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق شہباز گل دمے کے مریض ہیں، اس لیے ان کو ان ہیلر دیا گیا ہے جو ان کے پاس موجود ہے۔

ملزم شہباز گل سے ملاقات کے لیے ان کے وکیل فیصل چوہدری نے اسلام آباد پولیس کے حکام سے رابطہ کیا ہے لیکن متعقلہ پولیس حکام نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق جب سے شہباز گل پولیس کی تحویل میں ہیں اس وقت سے کسی بھی رشتہ دار یا وکیل کو ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شہباز گل کو وہی کھانا دیا جارہا ہے جو پولیس کے میس میں پکتا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق شہباز گل کے ساتھ کسی دوسرے ملزم کو نہیں رکھا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شہباز گل نے پولیس حکام سے رفع حاجت کے لیے انڈین سیٹ کی بجائے انگلش سیٹ کا مطالبہ کیا جو کہ مسترد کر دیا گیا۔

شہباز گل کو جمعے کے روز دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے زیر استعمال موبائل فون ملنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگلی پیشی کے موقع پر بھی پولیس حکا م متعقلہ عدالت سے ملزم کے مذید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کریں گے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.